شُبھ کرتری اور پاپ کرتری یوگ ۔ Shubha Kartari & Papa Kartari Yoga

سیارگان اپنے اثرات، نظرات کے علاوہ بھی بالاواسطہ انداز سے منتقل کرسکتے ہیں۔ اس کی ایک معروف صورت "فلکی ہمسائیگی" ہے۔ یعنی کسی گھر یا سیارہ کے آگے اور پیچھے، صرف سعد یا صرف نحس سیارگان کی موجودگی۔
عربی میں اسے "حِصار" اور انگریزی میں سیزوئر یعنی (محاصرہ) کہتے ہیں۔ روایتی یونانی نجوم میں یہ وضعِ فلکی بلحاظِ درجات بھی تشکیل پاسکتا ہے، اور بلحاظِ بروج بھی۔
تاہم جیوتش میں "کرتری یوگ "کو صرف اگلے اورپچھلے بروج (راشیوں) کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان میں کرتری کےلفظی معنی قینچی کے ہیں۔ قینچی سے کام بنایا بھی جاسکتا ہےاور بگاڑا بھی جاسکتا ہے۔ کرتری یوگ کی دو بنیادی اقسام یہ ہیں:
شُبھ کرتری (Shubh Kartari) یعنی مابین السعدین۔
پاپ کرتری (Papa Kartari) یعنی مابین النحسین۔
یہاں لفظ "شُبھ" سے مراد سومیا گرہ یعنی سعد سیارگان ہیں۔ جبکہ لفظ "پاپ" سے مراد کرور گرہ یا نحس سیارگان ہیں۔
اگر زائچہ کا کوئی گھر یا سیارہ، کسی دو فطری نحس سیارگان کے درمیان آجائے تو اس صورتحال کو "پاپ کرتری یوگ" کہتے ہیں۔ پاپ کرتری کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے دائیں پڑوس میں بدنام چور ڈاکو رہتا ہو، اور بائیں پڑوس میں کوڑھی بھکاری۔ جس کے باعث لامحالہ خوف، گھٹن، بندش، کراہیت اور بے چینی طاری رہے گی۔
انگریزی شاعر لارڈ بائرین کا لگن شبھ کرتری یوگ
اگر زائچہ کا کوئی گھر یا سیارہ، کسی دو فطری سعد سیارگان کے درمیان آجائے تو اس صورتحال کو "شُبھ کرتری یوگ" کہتے ہیں۔ شبھ کرتری کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے دائیں جانب دیانتدار عالم فاصل موجود ہو، اور بائیں جانب سخی دولتمند۔ ظاہر ہے اس صورتحال کی وجہ سے نادیدہ حفاظت، عزت، طمانیت اور سکون کا احساس ہوگا۔
جوتش کے معروف ماخذ "پھل دیپیکا" میں کرتری یوگ کو لگن (طالع) کی نسبت بیان کیا گیا ہے۔ (یوگ ادھیائے شلوک نمبر 8 اور 11)
مثال اول: اگر طالع دلو ہو۔ دلو سے اگلے گھر حوت میں زہرہ ہو، اور پچھلے گھر جدی میں عطارد ہو تو، تو یہ دلو کے لیے شُبھ کرتری یوگ بن جائے گا۔
مثال دوم: اگر جوزا طالع ہو۔ جوزا سے اگلے گھر سرطان میں مریخ ہو اور پچھلے گھر ثور میں زحل ہو، تو یہ طالع جوزا کے لیے پاپ کرتری یوگ بن جائے۔
پھل دیپیکا کے مطابق شُبھ کرتری یوگ کے نتائج: طویل عمر، بے خوف، صحت مند، دشمنوں کے بغیر، سُکھی اور دولتمند۔
پھل دیپیکا کے مطابق پاپ کرتری یوگ کے نتائج: مفلس، ناپاک، دکھی، گھربار کی خوشیوں سے محروم، جسمانی نقص، کم عمر۔
کلاسیکی کتب میں درج اثرات، من و عن (verbatim) لینے کے بجائے، انھیں مکمل زائچہ کے پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ اور معقول نتیجہ اخذ کرنا چاہیے۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ کہ سعد حصار (شُبھ کرتری) کا نتیجہ قدرے اچھا ہوتا ہے۔ اور نحس حصار (پاپ کرتری) کا اثر قدرے خراب ہوتا ہے۔
مشاہدہ میں آیا ہے کہ کرتری یوگ کے اثرات، کسی نادیدہ وجہ یا بالاواسطہ  طریقے سے سامنے آتے ہیں (چاہے وہ شُبھ کرتری کے اچھے اثرات ہوں، یا پاپ کرتری کے برے اثرات)۔ یعنی اس میں نا تو مولود کا کمال ہوتا ہے، اور نا ذاتی قصور ہوتا ہے۔ کیونکہ کرتری یوگ میں براہِ راست نظر (اسپیکٹس) موجود نہیں ہوتی۔ صرف فطری سعد یا فطری نحس سیارگان کی دائیں بائیں موجودگی یا ہمسائیگی کا اثر ہوتا ہے۔
کرتری یوگ کا سب سے زیادہ اثر شمس، قمر اور طالع پر تصور کیا جاتا ہے، باالخصوص جب کرتری یوگ بنانے والے سعد یا نحس سیارگان، ان سے مساوی درجات پر (اگلی/پچھلی راشیوں میں) ہوں۔ علاوہ ازیں، شمس، قمر یا طالع کے دائیں/بائیں مساوی تعداد میں صرف سعد یا صرف نحس سیارگان کا اثر کافی شدید ہوتا ہے۔ کرتری یوگ کے اثرات زائل یا خفیف ہونے کے لیے محصور گھر یا سیارہ پر ایک سے نظرات یا قِرانات کی موجودگی ضروری ہے۔
یہ تحریر کراچی کے آسٹرالوجر محمد عمران کی ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga