اشاعتیں

شہزادہ اینڈریو کی مشکل

تصویر
ویدک آسٹرالوجی میں بروج کی تقسیم کی ایک قسم دریشکانڑ کہلاتی ہے جسے ویسٹرن آسٹرالوجی میں ڈیکنٹ بھی کہتے ہیں ۔ اس کا آغاز مصریوں سے ہوا تھا۔ اگر کسی برج کو تین مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر حصہ دریشکانڑ کہلائے گا۔ بارہ بروج کے لیئے کُل چھتیس دریشکانڑ بنتے ہیں ۔ اس کا استعمال ورگ چارٹس(ڈویژنل چارٹس)میں زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کی حسابی کیلکولیشن کے مختلف طریقے کلاسک کتب میں بیان ہوئے ہیں لیکن زیادہ مشہور پراشرا دریشکانڑ ہے ۔ طالع کا دریشکانڑ(یعنی جس دریشکانڑ میں طالع پڑے)حامل کی شخصیت، کردار اور طور طریقوں کے متعلق اہم اشارے مہیا کرتا ہے بلکہ پراشرا تو اسے استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ چارٹ کا بائیسواں دریشکانڑاور اس کا حاکم چارٹ میں اہمیت رکھتے ہیں اور اسے حامل کے لیئے فرسٹ کلاس نحس سیارے کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ یہ کھارا دریشکانڑکہلاتا ہے اور اس دریشکانڑ کا حاکم کھاریش کہلاتا ہے(جو ہندی اسطورہ رامائن میں ایک راکشش کا نام ہے)اور حامل کو جسمانی نقصان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ چندر سے کھاریش کی نشست حامل کی ذہنی تکلیف کا پتہ دیتی ہے بائیسویں دریشکانڑ میں پڑنے والے سیارگان اپنی دشا اور انتر دشا م...

بندھن یوگ

تصویر
جوتش میں چند وضع فلکی قید و بند کا فلکی اشارہ ہیں۔ انھیں بندھن یا بندھ یوگ کہا جاتا ہے۔ ان میں ایک معروف بندھن یوگ کی تشکیل مخصوص گھروں میں بیک وقت سیارگان کے قبضے سے پیدا ہوتی ہے۔ پاراشری مکتب فکر کے علاوہ، یہ یوگ "جیمنی سوتر" میں بھی درج ہے۔ مذکورہ بندھن یوگ کی تشکیل مندرجہ ذیل پانچ صورتوں میں ممکن ہے۔ دوسرا گھر اور بارھواں گھر  – اگر ان دونوں گھروں میں مساوی تعداد یا مساوی قوت و ضعف کے سیارے بیٹھے ہوں، تو بندھن یوگ بنتا ہے۔ نواں گھر اور پانچواں گھر  – اگر ان دونوں گھروں میں مساوی تعداد یا مساوی قوت و ضعف کے سیارے بیٹھے ہوں، تو بندھن یوگ بنتا ہے۔ چھٹا گھر اور بارھواں گھر – اگر ان دونوں گھروں میں مساوی تعداد یا مساوی قوت و ضعف کے سیارے بیٹھے ہوں، تو بندھن یوگ بنتا ہے۔ تیسرا گھر اور گیارھواں گھر – اگر ان دونوں گھروں میں مساوی تعداد یا مساوی قوت و ضعف کے سیارے بیٹھے ہوں، تو بندھن یوگ بنتا ہے۔ چوتھا گھر اور دسواں گھر  – اگر ان دونوں گھروں میں مساوی تعداد یا مساوی قوت و ضعف کے سیارے بیٹھے ہوں، تو بندھن یوگ بنتا ہے۔ مندرجہ بالا توام بیوت (گھروں کی جوڑیاں)، ترتیبِ نزولی کے اعت...

دَیر وحَرم

تصویر
مذہب اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ ازل سے انسان کسی نہ کسی مذہب کی پرستش کرتا آیا ہے بلکہ ایک دانشور کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر شروع سے انسان کے ذہن میں خدا کا تصور نہ بھی ہوتا تو انسان اپنے لیئے ایک نیا خدا ایجاد کر لیتا ۔ ہر معاشرے میں مذہب کا تصور الگ ہے ۔ یورپ میں حضرت عیسی یا مقدس مذہبی شخصیات کے کارٹون بنانا کوئی غیر معمولی بات تصور نہیں ہوتی جبکہ ہند پاکستان میں اسی بات پہ مذہبی فساد ہو جاتے ہیں ۔جیسے انڈیا میں مشہور مصور ایف ایم حسین کو ہندو دیویوں کی تصاویر بنانے پہ ہندوستان بدر ہونا پڑا تھا۔ روایتی مذہب وہ اقدار ہیں جو آپ کا اپناخاندان اور معاشرہ آپ پہ نافذ کرتا ہے( جو مذہب اور مقامی رسوم ورواج کا ملغوبہ ہو سکتی ہیں) دانشوروں خصوصا شعرا نے جس مذہب پہ چوٹ کی ہےوہ اوپر بیان کردہ روایتی مذہبی اقدار کا دوغلا پن ہے لیکن ان سب خیالات کے باوجود یہ اصحاب خدا کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے اثبات میں کئی اشعار لکھے ۔ ویسے بھی ان معنوں میں ہر شخص کسی حد تک مذہبی ہی ہوتا ہے ۔ جیسے غالب نے کہا : دَیر و حرم آئینہ تکرار تمنا واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں یا پھر میر تقی میر فرماتے ہیں: میر...

تری پٹاکی چکرایک تعارف۔ امریکی گلوکار سٹیوی ونڈر کیس سٹڈی

تصویر
یہ چکر نوزائیدہ بچوں سے لے کر بارہ یا چوبیس سال کی عمر تک بچوں میں بیماری ( بال ارشت یعنی بچوں میں شدید بیماری یا مرض الموت)وغیرہ کی پیشین گوئی کرنے کے کام آتا ہےکیونکہ پراشرا کے مطابق چوبیس سال سے پہلے کی عمر میں انسان کی طول عمر کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی یا نہیں کی جانی چاہئیے البتہ جٹاکا پری جات ، پھل دیپیکا اور دوسری کتب اس عمر کو بارہ سال تک محدود کرتی ہیں)۔ اس چکر کو استعمال کرنے سے پہلے پیدائشی زائچے کا تجزیہ ، دشا ، ورگ اور ٹرانزٹس سے کرنا چاہئیے اور اگر بال ارشت موجود ہے تو اس کے بعد اس چکر کو استعمال کرنا چاہئیے تاکہ جو اشارے راشی چارٹ میں مبہم یا غیر واضح ہیں وہ دیکھے جا سکیں ۔ تری پتاکی کی تکنیک میں ردو بدل کر کے اس کی مختلف اقسام ہندوستان کے کئی علاقوں میں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کی تفسیر ی آراء  میں اختلاف اتنا زیادہ ہے کہ نیا سیکھنے والا انسان کنفیوز ہو جاتا ہے ۔ اس لیئے چند اور ابتدائی نکات کا ہی ذکر کیا جائے گا۔ اس جائزے میں کیس سٹڈی کے طور پر امریکی گلوکار سٹیوی ونڈر کا زائچہ اور پٹاکی چکر دیکھا جائے گا ۔ اس گلوگار کے نغمے مثلا آئی...

بال ارشت

تصویر
بال ارشت دو ہندی الفاظ کا مرکب ہے ۔ بال یعنی بچہ اور ارشت کے معنی بدقسمتی یا نحوست کے ہیں ۔ہندو آسٹرالوجی میں بچے کے زائچے میں اس دوش کو کہتے ہیں جو بیماری کا خطرہ ، جسمانی کمزوری یا بچپن میں زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق ہے۔ اس کا ظہور شدید بیماری ، ایکسیڈنٹ، قبل از وقت پیدائش ، پیدائشی نقص ، وقت پیدائش یا اس کے بعد زخم یا کسی اور بڑے حادثے کی صورت میں قبل از وقت موت کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ زائچے میں موجود ارشت بچے کے خاندان میں موجود کسی اور فرد کو نقصان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے جیسے موجودہ شاہ برطانیہ کے فرزند ،ولیم پرنس آف ویلز کے زائچے میں موجود ارشت لیڈی ڈیانا کے لیئے بری ثابت ہوئی اور ولیم کی پندرہ سال کی عمر میں اُس کا انتقال ایک حادثے میں ہوا۔ تاہم سعد اثرات اس ارشت کے اثرات کو محدود کرتے ہیں جو ارشت بھنگ کہلاتے ہیں ۔برہت پراشرا ہورا کے مطابق قبل از وقت موت کا خطرہ چوبیس سال کی عمر تک موجود رہتا ہے اس لیئے طول عمر کا کوئی اندازہ و پیشین گوئی بچے کی اس عمر تک پہنچنے سے پہلے نہیں لگانا چاہئیے۔ جٹاکا پری جات پھل دیپیکا وغیرہ اس عمر کو بارہ سال کی عمر تک ...

زائچہ کیسے پڑھیں ۔ تعبیر دشا

تصویر
جیمز براہا مشہور امریکی ،ہندو آسٹرالوجی کے ماہر ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو آسٹرالوجی کو مغرب میں اپنی پہلی کتاب کے ذریعے متعارف کروایا ۔ وہ پچھے چالیس سال سے اس پیشے میں ہیں اور اب تک تقریبا دس ہزار سے زائد زائچوں پہ ریڈنگ دے چکے ہیں ۔ ہندوآسٹرالوجی پہ ان کی تقریبا پانچ شہرہ آفاق کتب منظر عام پہ آ چکی ہیں ۔ ان کا اپنا یو ٹیوب چینل بھی ہے جس پہ ان کی پوڈ کاسٹ دستیاب ہیں ۔ مندرجہ ذیل مضمون ان کی ایک پرانی انگریزی کتاب سے لیا گیا ہے اور اس کوشش کا مقصد ان دوستوں کی مدد ہے جو فون پہ مجھے یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے آسٹرالوجی کا بہت سا علم کتب سے حفظ کر لیا ہے لیکن زائچے کی تعبیر کے لیئے منطقی اور مربوط انداز میں اسے کس طرح استعمال کیا جائے اس میں دشواری ہے ۔ اس تحریر میں ونشوتری دشا کی تعبیر کے لیئے مصنف نے کلاسک اساتذہ کے اصولوں سے انحراف کر کے اسے مغربی آسٹرالوجی کی طرح منطقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور دشا کی یہ تعبیر مصنف کی زندگی کی کہانی ان کی اپنی زبانی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس سلسلے میں لگھو پراشری کا بھی ضرور مطالعہ کریں یا اگر یہ...

Birth (Nitya) or Soli-Lunar Yogas

 The 27 Birth Yogas (Dina, Nitya or Surya Siddhant Yogas) are based upon the distance between the Sun and the Moon in the Birth Chart. If we take 360° and divide by 27 we get13°20'. For each 13.20° a Yoga is formed. It is the combination of the Sun + Moon  that is at the core of our birth (Atman/Jiva + Mind). This yoga gives a clue to the innate quality of the individual coming into this creation. These yogas can help   in predicting general behavior, temperament and other characteristics of the native. Out of the 27 Nitya Yogas 9 are considered inauspicious (astrologically). To calculate Nitya simply add the longitude of Moon to the longitude of Sun and divide by 13 degrees 20 minutes. N.B. Other views (in italics) are included beneath the traditional view; which, being somewhat brief, may not necessarily reflect the full intent of the yoga. The 27 Birth Yogas 1. Vishkumbha Yoga: 00 - 13:20 (inauspicious) One born with this yoga is said to have a lovely app...