اشاعتیں

زائچہ لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شہزادہ اینڈریو کی مشکل

تصویر
ویدک آسٹرالوجی میں بروج کی تقسیم کی ایک قسم دریشکانڑ کہلاتی ہے جسے ویسٹرن آسٹرالوجی میں ڈیکنٹ بھی کہتے ہیں ۔ اس کا آغاز مصریوں سے ہوا تھا۔ اگر کسی برج کو تین مساوی حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر حصہ دریشکانڑ کہلائے گا۔ بارہ بروج کے لیئے کُل چھتیس دریشکانڑ بنتے ہیں ۔ اس کا استعمال ورگ چارٹس(ڈویژنل چارٹس)میں زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کی حسابی کیلکولیشن کے مختلف طریقے کلاسک کتب میں بیان ہوئے ہیں لیکن زیادہ مشہور پراشرا دریشکانڑ ہے ۔ طالع کا دریشکانڑ(یعنی جس دریشکانڑ میں طالع پڑے)حامل کی شخصیت، کردار اور طور طریقوں کے متعلق اہم اشارے مہیا کرتا ہے بلکہ پراشرا تو اسے استعمال کرنے کی تاکید کرتا ہے۔ چارٹ کا بائیسواں دریشکانڑاور اس کا حاکم چارٹ میں اہمیت رکھتے ہیں اور اسے حامل کے لیئے فرسٹ کلاس نحس سیارے کا درجہ حاصل ہوتا ہے ۔ یہ کھارا دریشکانڑکہلاتا ہے اور اس دریشکانڑ کا حاکم کھاریش کہلاتا ہے(جو ہندی اسطورہ رامائن میں ایک راکشش کا نام ہے)اور حامل کو جسمانی نقصان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ چندر سے کھاریش کی نشست حامل کی ذہنی تکلیف کا پتہ دیتی ہے بائیسویں دریشکانڑ میں پڑنے والے سیارگان اپنی دشا اور انتر دشا م...

زائچہ کیسے پڑھیں ۔ تعبیر دشا

تصویر
جیمز براہا مشہور امریکی ،ہندو آسٹرالوجی کے ماہر ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو آسٹرالوجی کو مغرب میں اپنی پہلی کتاب کے ذریعے متعارف کروایا ۔ وہ پچھے چالیس سال سے اس پیشے میں ہیں اور اب تک تقریبا دس ہزار سے زائد زائچوں پہ ریڈنگ دے چکے ہیں ۔ ہندوآسٹرالوجی پہ ان کی تقریبا پانچ شہرہ آفاق کتب منظر عام پہ آ چکی ہیں ۔ ان کا اپنا یو ٹیوب چینل بھی ہے جس پہ ان کی پوڈ کاسٹ دستیاب ہیں ۔ مندرجہ ذیل مضمون ان کی ایک پرانی انگریزی کتاب سے لیا گیا ہے اور اس کوشش کا مقصد ان دوستوں کی مدد ہے جو فون پہ مجھے یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے آسٹرالوجی کا بہت سا علم کتب سے حفظ کر لیا ہے لیکن زائچے کی تعبیر کے لیئے منطقی اور مربوط انداز میں اسے کس طرح استعمال کیا جائے اس میں دشواری ہے ۔ اس تحریر میں ونشوتری دشا کی تعبیر کے لیئے مصنف نے کلاسک اساتذہ کے اصولوں سے انحراف کر کے اسے مغربی آسٹرالوجی کی طرح منطقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور دشا کی یہ تعبیر مصنف کی زندگی کی کہانی ان کی اپنی زبانی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس سلسلے میں لگھو پراشری کا بھی ضرور مطالعہ کریں یا اگر یہ...

الفت مرگ کی شاعرہ ۔ سلویا پلاتھ کا زائچہ

تصویر
تقریبا چھے ماہ قبل کسی فیس بک فرینڈ نے میری اس گروپ میں مختلف مشہور شخصیات کے تنجیمی نفسیاتی خاکوں کو پڑھ کر تجویز دی تھی کہ امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ کے چارٹ کا بھی کچھ تجزیہ کیا جائے کہ اس کے اندر موت سے سے اتنا والہانہ لگاو کیوں تھا ۔ سوانحی خاکہ سلویا پلاتھ اپنے وقت میں دنیا کی مشہور امریکی شاعرہ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ انھیں اعترافی شاعری کی صنف کے فروغ کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے دو شائع شدہ مجموعوں، دی کولاسس اور دیگر نظمیں (1960) اور ایریل (1965) کے ساتھ ساتھ ایک نیم سوانحی ناول دی بیل جار کے لیے مشہور ہیں۔ سلویا 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا پلاتھ کے والد بوسٹن یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر تھے۔ سلویا بچپن سے ہی حد سے زیادہ حساس لڑکی تھیں۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر سے ہی اپنے جذبات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنی ڈائری میں رقم کرنا شروع کر دیا۔ ڈائری لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے فن کا اظہار شاعری میں بھی...

ایک برطانوی قاتلہ نرس کی کہانی

تصویر
جولائی 2018 کی ایک صبح اٹھائیس سالہ برطانوی نرس لوسی لٹبی کے گھر پہ برطانوی پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے اُلٹی ہتھکڑیاں ڈال ہمراہ لے گئی وہاں پولیس کسی شخص کو اسی وقت گرفتار کرتی ہے جب اس کے پاس تفتیش کے بعد اتنے ٹھوس شواہد اکٹھے ہو جائیں جس کی بنا پہ مقدمہ کھڑا کیا جا سکے۔ اسپتال قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی نرسری میں کام کرنے والی اس نرس پر الزام تھا کہ اس نے برطانوی شہر چیسٹر کے کاونٹیس آف چیسٹرشائر ( برطانوی اس کا ا تلفظ چیشائر کرتے ہیں) اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران سات نوزائیدہ بچوں کو قتل کیا اوردس کو زخمی کیا ۔ اس نے یہ جرائم جون 2015 سے جون 2016 کے دوران انجام دیے ۔ وہ پہلی دفعہ اس وقت مشتبہ ٹھہری جب اس اسپتال میں مرنے یا نقصان پہنچنے والے بچوں کی سالانہ شرح چوگنی ہو گئی جبکہ ماضی میں یہ شرح معمول سالانہ تین بچے کے آس پاس تھی ۔ یہ تمام واقعات اس نرس کی بچوں کی نرسری میں ڈیوٹی کے دوران پیش آئے ۔ یوں اپنی سنگینی اور بے مثال واقعے کی وجہ سے یہ کیس ہائی پروفائل کیسز کی صف میں شامل ہو گیا ۔ تحقیقات کے بعد یہ مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اور دنیا بھر کے اخبارات کیدلچسپی اس مقدمے سے رہی ...

امرتا شیر گل کا زائچہ

تصویر
پنجاب کی شہزادی بمبا ،مہاراجا دلیپ سنگھ( جسے انگریزوں نے انگلینڈ جلاوطن کر دیا تھا) کی بیٹی تھیں۔ یہودی النسل میری انٹونیٹ شہزادی کی گورنس تھیں جن کا تعلق ملک ہنگری سے تھا جب پرنسس بمبا پنجاب متقل ہوئی تو وہ بھی اس کے ساتھ آئی ۔میری اینٹونیٹ کی کچھ عرصہ بعد ایک تقریب میں امراؤ سنگھ شیرگِل مجیٹھیا سے ملاقات ہوئی، دونوں میں محبت بڑھی جو شادی پر منتج ہوئی۔ یہ امراؤ سنگھ شیرگِل کی دوسری شادی تھی۔ ان دونوں نے شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی بڈاپسٹ (ہنگری) کا رُخ کیا جہاں ان کی پہلی بیٹی امرتا شیرگِل کی پیدائش ہوئی ۔امرتا شیرگِل کے والد امراؤ سنگھ شیرگِل اگرچہ پنجاب کے ایک بڑے جاگیردار تھے مگر برطانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف اور انڈیا کی تحریکِ آزادی کے حامی تھے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ان کے گہرے دوستوں میں شامل تھے۔ان کا انقلابی سیاسی جماعت غدر پارٹی سے بھی تعلق رہا جس کے باعث انگریز راج نے ان کے لیے سیاست کرنا ناممکن بنا دیا اور ان کی بہت ساری زمین بھی ضبط کر لی گئی۔ امرتا شیرگِل کے فن پاروں میں بھی روایت سے بغاوت نظر آتی ہے تو اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھیں جس میں بغاوت...

انڈین کامیڈین کپل شرما کا زائچہ

تصویر
کسی فرد کی قسمت اور کامیابی کا تعین کرنے کے لیئے سب سے پہلے اس کی شخصی بنیاد کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے اگر وہ بنیاد مضبوط ہے اور فرد عزم و ارادہ کا حامل ہے تو زائچے میں موجود دیگر خوش بختی کے نشانات/امکانات کو عملی زندگی میں بآسانی عملی جامہ پہنا سکتا ہے لیکن اگر یہ بنیاد مضبوط نہیں تو راج یوگ اور لکشمی یوگ بھی کام نہیں کرتے ۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ ہر شے دوبار تخلیق پاتی ہے ۔ پہلی بار آپ کے ذہن میں اور اس کے بعد عملی دنیا میں ۔ اگر کسی کے عزائم بچپن سے بلند نہ ہوں، ارادہ مضبوط نہ ہو تو وہ زندگی میں جو بھی میسر ہوتا ہے اسی پر اکتفا کر لیتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے سمندر کو پار کرنے میں یہ مضبوطی اس کشتی کا کام کرتی ہے جو طوفان کے تھپیڑے سہ سکے۔ اس مضبوطی کا تعین چار چیزیں کرتی ہیں ، طالع ، طالع کا حاکم ، چاند اور سورج ۔ طالع کی ڈگری مناسب ہے اور نہ ابتدائی تین درجات میں ہے اور نہ آخر ی وگرنہ اگلے وقتوں میں پہلے اور آخری درجات کے نومولود کی جب پیدائش ہوتی تھی تو وقت پیدائش موجود پنڈت اس بچے کا چارٹ بنانااگلے تین مہینے کے لیئے موخر کر دیتا تھا کیونکہ اس کے بچنے کے امکانات کم ہوتے ...