ایک برطانوی قاتلہ نرس کی کہانی
جولائی 2018 کی ایک صبح اٹھائیس سالہ برطانوی نرس لوسی لٹبی کے گھر پہ برطانوی پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے اُلٹی ہتھکڑیاں ڈال ہمراہ لے گئی وہاں پولیس کسی شخص کو اسی وقت گرفتار کرتی ہے جب اس کے پاس تفتیش کے بعد اتنے ٹھوس شواہد اکٹھے ہو جائیں جس کی بنا پہ مقدمہ کھڑا کیا جا سکے۔ اسپتال قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی نرسری میں کام کرنے والی اس نرس پر الزام تھا کہ اس نے برطانوی شہر چیسٹر کے کاونٹیس آف چیسٹرشائر ( برطانوی اس کا ا تلفظ چیشائر کرتے ہیں) اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران سات نوزائیدہ بچوں کو قتل کیا اوردس کو زخمی کیا ۔ اس نے یہ جرائم جون 2015 سے جون 2016 کے دوران انجام دیے ۔ وہ پہلی دفعہ اس وقت مشتبہ ٹھہری جب اس اسپتال میں مرنے یا نقصان پہنچنے والے بچوں کی سالانہ شرح چوگنی ہو گئی جبکہ ماضی میں یہ شرح معمول سالانہ تین بچے کے آس پاس تھی ۔ یہ تمام واقعات اس نرس کی بچوں کی نرسری میں ڈیوٹی کے دوران پیش آئے ۔ یوں اپنی سنگینی اور بے مثال واقعے کی وجہ سے یہ کیس ہائی پروفائل کیسز کی صف میں شامل ہو گیا ۔ تحقیقات کے بعد یہ مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اور دنیا بھر کے اخبارات کیدلچسپی اس مقدمے سے رہی ...