ہنس یوگ (Hamsa Yoga)
(نام راج ہنس سے لیا گیا ہےلمبی ٹانگوں لمبی گردن پتلی چونچ والا بطخ سے مشابہ ایک سفید آبی پرندہ ہےجس کے بازو پر چند سرخ پر بھی ہوتے ہیں عموماً بڑی بڑی جھیلوں میں رہتا ہے ،پرانے زمانے میں لوگوں کا خیال تھا کہ یہ موتی کھاتا ہے) ۔ یہ پنج مہا پرش گروپ میں سے ایک ذیلی یوگ ہے۔ پنج مہا پُرش پانچ قسم کے عظیم باقوت انسانوں سے متعلق ہے ۔ 'وراہامہیرا 'ان کے حاملین کو بڑے بادشاہوں میں شمار کرتا تھا۔
ہنس یوگ ۔: جب مشتری کیندر کے کسی ایسے گھر میں موجود ہو جو اس کا اپنا یا شرف کا گھر ہو تو یہ یوگ بنتا ہے۔ اس کے حامل افراد کا چہرہ خوبصورت ،جسم پُرکشش ، شیریں گفتار، عوام میں پسندیدہ ، اچھے برتاو کے حامل اور راست باز ہوتے ہیں ۔ انہیں واٹر سپورٹس سے بہت دلچسپی ہوتی ہے قوت مردمی زیادہ ہوتی ہے آخری عمر میں بہت زیادہ مذہبی ہو جاتے ہیں ۔
اس یوگ کی قوت کا انحصار لگن کی قوت، مشتری ، اور کیندر کے گھر پر منحصر ہے (کیندر میں دسواں گھر زیادہ باقوت ہے) ۔ کیندر ادھی پتی دوش کے تحت اگرچہ مشتری کے لیئے کیندر کا حاکم ہونا اچھا نہیں ہے لیکن جب ہنس یوگ بن رہا ہو تو یہ دوش بہت ہی کم ہو جاتا ہے تاہم اگر یہ کیندر میں شرف میں ہو تو یہ دوش بالکل ختم ہو جاتا ہے ۔ ہنس یوگ کا تجزیہ بہت باریک بینی سے کرنا چاہئیے کیونکہ اس یوگ کا حامل بہت اعلی اخلاق و کردار کا مالک ہوتا ہے ۔ مشتری کو نحوست سے مکمل پاک ہونا چاہئیے۔
زائچہ نمبر- ایک
مندرجہ زیل زائچہ زائچہ نمبر ایک میں لگن قوس ہے اور مشتری چوتھے گھر برج حوت میں ہنس یوگ بنا رہا ہے۔ اس کا حامل معاشرے میں بہت اچھی پوزیشن کا حامل ہے اگرچہ زحل کی دسویں نظر ایک درجہ فرق سے اس یوگ کی قوت کو کم کر رہی ہے اس کے باوجود مشتری اتنا طاقتور ہے کہ اپنی دشا میں ہنس یوگ کے اثرات کافی حد تک ظہور پذیر کرے گا ۔ اس زائچے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ مشتری پر پڑنے والے نحس اثرات کس طرح ہنس یوگ کے نتائج کو محدود کر سکتے ہیں ۔
زائچہ نمبر- دو
زائچہ نمبر دو میں مشتری اپنے دسویں گھر ہنس یوگ بنا رہا ہے ۔ دسواں گھر کیندر کے گھروں میں سب سے زیادہ طاقتور ہوتاہے اس کے علاوہ مشتری کے ساتھ لگن کا حاکم ، پانچویں اور نویں کا حاکم بھی یکت ہیں ۔ یوں مشتری بہت طاقتور ہے لیکن تیسرے کے حاکم سوریا کی موجودگی سے یوگ کے اثرات پر معمولی نحوست پڑی ہے ۔ اس کے باوجود اس کا حامل پچھلی صدی کا ایک سیلف میڈ انسان تھا ، محض اٹھارہ سال کی عمر میں ایک انگریزی اخبار ' انڈین ہیرالڈ ' کا ایڈیٹر بن گیا تھا ۔ مہاتما گاندھی اس کے لکھے ہوئے اداریے شوق سے پڑھتے تھے۔ یوپی صوبے کا ایجوکیشن منسٹر رہا اور لندن میں ہونے والی پہلی راونڈ ٹیبل کانفرنس کے انڈین وفد میں شامل تھا ۔ شعبہ صحافت میں اس کی خدمات کی وجہ سے اسے جرنلزم کے اُسقُفِ اعظم کا عوامی خطاب ملا۔ بیس ستمبرسن انیس سو انتالیس میں مشتری عطارد کی دشا میں برطانوی حکومت کی طرف سے 'سر' کا خطاب بھی ملا تھا۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں