اشاعتیں

شاعر لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شاعر شکیب جلالی کی پراسرار خود کشی ۔ ایک تنجیمی کھوج

تصویر
عام طور پر ادیبوں خصوصا شعرا کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا رحجان زیادہ ہوتا ہے ۔ عالمی ادب میں کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے زندگی کی کلفتوں سے گھبرا کر موت کے دامن میں اس وقت پناہ لی جب وہ اپنی شہرت کے عروج اور عالم جوانی میں تھے ۔ مثلا ا مریکی شاعرہ سلویا پلاتھ ( جن کا زائچہ پہلے پیش کیا جا چکا ہے اور یہاں پڑھا جا سکتا ہے) ، این سیکسٹن ، جان بیری مین اور ایڈگر ایلن پو۔ اردو ادب میں بھی چند بہت مشہور نام ہیں مثلا سارہ شگفتہ ، مصطفے زیدی اور شکیب جلالی وغیرہ۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور یاد رکھا جانے والا کیس شکیب جلالی کا ہے اور ہر سال ان کی برسی کے موقع پر تحاریر شائع کر کے انہیں یاد کیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی نومبر میں وئی نیوز کی ویب سائٹ پہ سجاد بلوچ نے اپنے مضمون کے عنوان میں خود کشی کے عوامل میں ان کی ذاتی زندگی کو حوالہ بنایا ہے ۔ اگرچہ ادیبوں میں خود کشی کے محرکات پر ڈاکٹر صفیہ عباد نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا جو ’راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول‘ کے نام سے نیشنل بک فاونڈیشن نے شائع کیا جس میں انہوں نے خودکشی پر مذہبی لٹریچر ، ادیبوں اور ماہر...

الفت مرگ کی شاعرہ ۔ سلویا پلاتھ کا زائچہ

تصویر
تقریبا چھے ماہ قبل کسی فیس بک فرینڈ نے میری اس گروپ میں مختلف مشہور شخصیات کے تنجیمی نفسیاتی خاکوں کو پڑھ کر تجویز دی تھی کہ امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ کے چارٹ کا بھی کچھ تجزیہ کیا جائے کہ اس کے اندر موت سے سے اتنا والہانہ لگاو کیوں تھا ۔ سوانحی خاکہ سلویا پلاتھ اپنے وقت میں دنیا کی مشہور امریکی شاعرہ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ انھیں اعترافی شاعری کی صنف کے فروغ کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے دو شائع شدہ مجموعوں، دی کولاسس اور دیگر نظمیں (1960) اور ایریل (1965) کے ساتھ ساتھ ایک نیم سوانحی ناول دی بیل جار کے لیے مشہور ہیں۔ سلویا 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا پلاتھ کے والد بوسٹن یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر تھے۔ سلویا بچپن سے ہی حد سے زیادہ حساس لڑکی تھیں۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر سے ہی اپنے جذبات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنی ڈائری میں رقم کرنا شروع کر دیا۔ ڈائری لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے فن کا اظہار شاعری میں بھی...

سرسوتی یوگ ۔ Saraswathi Yoga

تصویر
نام ہندو دیوی سرسوتی سے لیا گیا ہے جو دراصل شاعروں اور ادیبوں کی سر پرست دیوی ہے۔ ہندو کتب خانوں میں اس کی عبادت کے دوران پھول اور پھل پیش کیے جاتے ہیں اور لوبان سلگایا جاتا ہے تعریف ۔ اگر مشتری ، زہرہ ، اور عطارد ، لگن دوسرے ، چوتھے ، پانچویں ساتویں نویں یا دسویں گھروں میں اکٹھے یا علیحدہ علیحدہوں اور مشتری اپنے ، دوست یا، شرف کے برج میں ہو تو یہ یوگ بنتا ہے نتائج ۔ شاعر ، مشہور ، عالم، فنکار ، دولت مند ، عزت و اکرام پانے والا ، اچھی بیوی اور بچوں والا ہوتا ہے ۔ تبصرہ ۔ یہ یوگ بہت کم زائچوں میں پایا جاتا ہے ۔ اگر سیارگان طاقتور ہوں تو یوگ کا اثر ظاہر ہوگا وگرنہ دوسرے یوگوں کے ساتھ مل جائے گا ۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے زائچے میں پایا جاتا ہے ۔ انڈین جوتشی کے این راؤ ،اس یوگ میں گیارہویں  گھر کو بھی شمار کرتے ہیں ۔

شُبھ کرتری اور پاپ کرتری یوگ ۔ Shubha Kartari & Papa Kartari Yoga

تصویر
سیارگان اپنے اثرات، نظرات کے علاوہ بھی بالاواسطہ انداز سے منتقل کرسکتے ہیں۔ اس کی ایک معروف صورت "فلکی ہمسائیگی" ہے۔ یعنی کسی گھر یا سیارہ کے آگے اور پیچھے، صرف سعد یا صرف نحس سیارگان کی موجودگی۔ عربی میں اسے "حِصار" اور انگریزی میں سیزوئر یعنی (محاصرہ) کہتے ہیں۔ روایتی یونانی نجوم میں یہ وضعِ فلکی بلحاظِ درجات بھی تشکیل پاسکتا ہے، اور بلحاظِ بروج بھی۔ تاہم جیوتش میں "کرتری یوگ "کو صرف اگلے اورپچھلے بروج (راشیوں) کے حوالے سے دیکھا جاتا ہے۔ سنسکرت زبان میں کرتری کےلفظی معنی قینچی کے ہیں۔ قینچی سے کام بنایا بھی جاسکتا ہےاور بگاڑا بھی جاسکتا ہے۔ کرتری یوگ کی دو بنیادی اقسام یہ ہیں: شُبھ کرتری (Shubh Kartari) یعنی مابین السعدین۔ پاپ کرتری (Papa Kartari) یعنی مابین النحسین۔ یہاں لفظ "شُبھ" سے مراد سومیا گرہ یعنی سعد سیارگان ہیں۔ جبکہ لفظ "پاپ" سے مراد کرور گرہ یا نحس سیارگان ہیں۔ اگر زائچہ کا کوئی گھر یا سیارہ، کسی دو فطری نحس سیارگان کے درمیان آجائے تو اس صورتحال کو "پاپ کرتری یوگ" کہتے ہیں۔ پاپ کرتری کی مثال ایسے ہے جیسے کسی کے ...