اشاعتیں

2024 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

شاعر شکیب جلالی کی پراسرار خود کشی ۔ ایک تنجیمی کھوج

تصویر
عام طور پر ادیبوں خصوصا شعرا کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا رحجان زیادہ ہوتا ہے ۔ عالمی ادب میں کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے زندگی کی کلفتوں سے گھبرا کر موت کے دامن میں اس وقت پناہ لی جب وہ اپنی شہرت کے عروج اور عالم جوانی میں تھے ۔ مثلا ا مریکی شاعرہ سلویا پلاتھ ( جن کا زائچہ پہلے پیش کیا جا چکا ہے اور یہاں پڑھا جا سکتا ہے) ، این سیکسٹن ، جان بیری مین اور ایڈگر ایلن پو۔ اردو ادب میں بھی چند بہت مشہور نام ہیں مثلا سارہ شگفتہ ، مصطفے زیدی اور شکیب جلالی وغیرہ۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور یاد رکھا جانے والا کیس شکیب جلالی کا ہے اور ہر سال ان کی برسی کے موقع پر تحاریر شائع کر کے انہیں یاد کیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی نومبر میں وئی نیوز کی ویب سائٹ پہ سجاد بلوچ نے اپنے مضمون کے عنوان میں خود کشی کے عوامل میں ان کی ذاتی زندگی کو حوالہ بنایا ہے ۔ اگرچہ ادیبوں میں خود کشی کے محرکات پر ڈاکٹر صفیہ عباد نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا جو ’راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول‘ کے نام سے نیشنل بک فاونڈیشن نے شائع کیا جس میں انہوں نے خودکشی پر مذہبی لٹریچر ، ادیبوں اور ماہر...

مغربی نجوم میں نظرات

دائرۃ البروج کو بارہ حصوں میں تقسیم کرنے سے جو بروج حاصل ہوتے ہیں ان کی گروہی تقسیم عنصری ،ماہیتی اور جنسی بنا پہ کی جاتی ہے ۔ مثلا حمل اسد قوس آتشی بروج ہیں ،ثور سنبلہ جدی خاکی ہیں اور جوزا میزان دلو بادی بروج ہیں۔سرطان عقرب حوت آبی بروج ہیں ۔ بلحاظ ماہیت بروج کی تقسیم یوں ہے حمل ، میزان سرطان جدی منقلب بروج ہیں ،ثور اسد ، عقرب دلو ثابت بروج ہیں جوزا سنبلہ قوس حوت ذوجسدین بروج ہیں ۔ قران ، تربیع اور مقابلہ کی نظرات ان بروج کے درمیان ہوتی ہیں جن کی ماہیت ایک جیسی ہوتی ہے البتہ عنصر مختلف ہوتا ہے ۔ مثلا حمل ،سرطان، میزان اور جدی تمام کی ماہیت منقلب ہے لیکن ان کے عناصر مختلف ہیں حمل اگر آتشی ہے تو سرطان آبی ہے ، میزان بادی ہے تو جدی خاکی ہے۔ تثلیث کی نظر ایک جیسے عناصر کے بروج کے درمیان ہوتی ہے البتہ ماہیت مختلف ہوتی ہے ۔   تسدیس کی نظر ان بروج کے درمیان ہوتی ہے جن کے عناصر کی آپس میں مطابقت ہے البتہ ماہیت مختلف ہوتی ہے مثلا آتشی کی بادی کے ساتھ مطابقت ہے تو آبی کی خاکی کے ساتھ ۔ نیم تسدیس نظر مختلف ماہیت اور عناصر کے بروج کے درمیان ہے تاہم یہ دائرۃ البروج کی تیس درجات کی تقسیم کے ان...

قلب ظلمات

تصویر
ہم میں سے زیادہ تر قتل عام ، سیریل کلنگز ، اور مافیا سٹائل زندگی ختم کر دینےجیسے قبیح اور ناقابل معافی جرائم کی خبر سن کر اسے بُرا جانتے ہیں اور تاسف کا اظہار کرتے ہیں تاہم اتنی ہی دلچسپی سے ان خبروں کو دیکھتے بھی ہیں ایسے ہی جیسے نیٹ فلکس پراوریجنل کرائم ویب سیریز ڈھونڈھ کر دیکھتے ہیں ۔ نجومِ قتل ایک دلچسپ اور وسیع موضوع ہے تاہم اس مضمون میں صرف بدنام زمانہ سیریل کلرز کے خاکے پیش کیئے جائیں گے ۔ اگر ہمارا یہ یقین ہو کہ زائچہ ہمارے مستقبل کا تعین نہیں کرتا تو پھر کوئی زائچہ یقینی طور پر یہ نہیں بتا سکے گا کہ کوئی شخص آگے چل کر قاتل بنے گا ۔ زائچہ ہم میں سے سے ہر ایک کے اندر مخفی ترتیبات اور توانائیوں کا مثالیہ ہے جو ہم مہد سے لے کر لحد تک کا فاصلہ طے کرنے میں استعمال کر سکتے ہیں ۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ بہت سے دوسرے غیر تنجیمی عوامل فرد کی ابتدائی ، سماجی شخصیت اور طرز زندگی کے متشکل ہونے میں کارفرما ہوتے ہیں ۔ قتل وہ عمل ہے جو زائچے میں دکھنے کی حد سے پرے ہے ۔ قتل کا عمل بذات خود کئی بنیادی وجوہات ، تحریکات اور طرائق کی وسیع طیف رکھتا ہے ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ ان وجوہات کا سراغ ...

آٹزم کی بیماری کے سیاروی اشارے

تصویر
آٹزم کیا ہے؟ عرف عام میں جسے آٹزم کہا جاتا ہے یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی بیماری ہے جو عام طور پر بچپن میں ظاہر ہوتی ہے جس کا کلینکل نام آٹزم سپکیٹرم ڈس آرڈر ( اے ایس ڈی) ہے ۔ یہ ایک انسان کی معاشرتی زندگی، تعلقات اور اظہار خیال کی اہلیت کو متاثر کرکے اس پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔ آٹزم سے متاثرہ شخص میں ایسے رویے پائے جاتے ہیں جو معاشرتی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہوتے آٹزم کے شکار بچے سماجی لحاظ سے نارمل بچوں سے مختلف ہوتے ہیں ۔ طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے پورا جسم متاثر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے شکار بچوں کو اضطراب، ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ میرے ذاتی خیال میں اسے بیماری کہنا مناسب نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اس لفظ سے کسی خوفناکی کاتاثر ابھرتا ہےبلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت کا نام ہے یعنی کوئی عمر بھر کی معذوری نہیں ہے ( اسی لیئے اسے سپیکٹرم کہتے ہیں )۔ اگر اس کا نفسیاتی علاج شروع میں ہی کیا جائے تو اس کی علامات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور بچہ ایک نارمل انداز میں زندگی گذارنے کے قاب...

واسومان یا واسومتی یوگ ۔ Vasuman (or Vasumati) Yoga

تصویر
جب تمام سعد سیار گان لگن یا چندر سے اُپچے گھروں (3،6،10،11) میں ہوں تو واسومت یوگ بنتا ہے ۔اس کا حامل گھر بیٹھے دولت مند ہو گا ۔ پھل دیپکا (6:19) اگر تمام سعد سیارگا ن لگن یا چندر سے اُپچے گھروں میں ہوں تو حامل بہت دولت مند ہو گا ۔ اگر دو سیارگان ہوں تو زیادہ دولت اور اگر ایک سیارہ ہو تو متوسط درجہ ۔ اس یوگ کے اثرات بقیہ تمام یوگ پر غالب آئیں گے حتی کہ اگر حامل کیمدروم یوگ کے ساتھ پیدا بھی ہوا ہو ۔ برہت جٹاکا (13:9) تشریح ۔واسو کا لفظی مطلب ہے دولت اور واسومت یعنی دولت مند ۔ چندر یوگ کلاس کے بہت سے یوگ عمومی طور پر دولت سے متعلق نکات پہ مرکوز ہیں ۔ بنیادی طور پر یہ یوگ بھی دولت سے متعلق ہے اور اس کے اثرات چارٹ میں موجود دوسرے نحس یوگ سے متاثر نہیں ہوتے ۔اُپچےگھروں میں نحس سیارگان کی موجودگی مشکلات اور جدوجہد کے بعد فائدہ لے کر آتی ہے اور سعد سیارگان کی موجودگی کم جسمانی مشقت سے مالی ے فائدہ لے کر آتی ہے ۔ چندر کا ماہانہ روشنی میں گھٹنا بڑھنا چونکہ ترقی و نشونما سے منسوب ہے اس لیئے اُپچے گھر وسعت و کشادگی کے گھر ہیں ۔قدرتی سعد سیارگان مالی ترقی اور مبارک اشیاء سے منسوب ہیں تو اس یوگ کے...

الفت مرگ کی شاعرہ ۔ سلویا پلاتھ کا زائچہ

تصویر
تقریبا چھے ماہ قبل کسی فیس بک فرینڈ نے میری اس گروپ میں مختلف مشہور شخصیات کے تنجیمی نفسیاتی خاکوں کو پڑھ کر تجویز دی تھی کہ امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ کے چارٹ کا بھی کچھ تجزیہ کیا جائے کہ اس کے اندر موت سے سے اتنا والہانہ لگاو کیوں تھا ۔ سوانحی خاکہ سلویا پلاتھ اپنے وقت میں دنیا کی مشہور امریکی شاعرہ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ انھیں اعترافی شاعری کی صنف کے فروغ کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے دو شائع شدہ مجموعوں، دی کولاسس اور دیگر نظمیں (1960) اور ایریل (1965) کے ساتھ ساتھ ایک نیم سوانحی ناول دی بیل جار کے لیے مشہور ہیں۔ سلویا 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا پلاتھ کے والد بوسٹن یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر تھے۔ سلویا بچپن سے ہی حد سے زیادہ حساس لڑکی تھیں۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر سے ہی اپنے جذبات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنی ڈائری میں رقم کرنا شروع کر دیا۔ ڈائری لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے فن کا اظہار شاعری میں بھی...