نجوم میں سیارگان کے مہلک درجات ۔( ڈگریز)
مختلف آسٹرالوجرز نے زائچے میں سیارگان کے مہلک درجات کا ذکر اپنی کتب میں کیا ہے مثلا ولیم للی اپنی کتاب کرسچن آسٹرالوجی میں ایسے درجات کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ عمیق یا جوف دار کھردرے درجات کا نام دیتا ہے ۔ اسی طرح ابو معشر نے انہیں اندھے کنووں سے تعبیر کیا ہے ۔ وقتی نجوم میں ایسے درجات پہ طالع ، طالع کا حاکم یا چندر ہو تو سائل ، سوالیہ مسئلے پہ کسی قسم کا عملی اقدام کرنے سے مختل ومعذور پاتا ہے چنانچہ اسے کسی دوسرے شخص کے مدد اور سہارے کی ضرورت پڑت ہے جو اسے اس گڑھے سے نکال سکے ۔ جوتش میں اسی قسم کا تصور مرتیو بھاگ کا ہے ۔ مرتیو کا لغوی مطلب موت اور بھاگ کا مطلب ٹکڑا یا قسمت ہے ۔موت کے کئی مفہوم ہو سکتے ہیں جن میں تکلیف ، پریشانی ، دکھ ، خوف ، شرمناکی ، بیماری ، محبوس ہونا ، پابندی ، بے عزتی یا اصل جسمانی موت ہو سکتے ہیں ۔ جوتش کی کتاب برہت پری جات میں ان درجات کا ذکر ہے ۔ اسی طرح جدید زمانے میں کے این راو نے بھی اپنی کتاب میں ان کا جدول پیش کیا ہے جو لف ہے۔ اس جدول میں درجات کو اعداد سے ظاہر کیا گیا لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ طالع یا کوئی سیارہ عین انہیں درجات میں ہو ۔ اس لیئے ج...