جوتش میں آٹھواں گھر اور موت

سوال:- کیا جوتش میں آٹھواں گھر دشتنا گھروں میں سے سب سے زیادہ نحس ہے ۔ کیا یہ موت کا گھر نہیں ہے ، جب انسان مر گیا تو بقیہ اشیاء کا کیا فائدہ؟
جواب :- یہ سوال ہمارے ہاں عمومی طور پر زبان زد عام رہتا ہے کہ آٹھواں گھر ( مرتیو بھاوا)اس لیئے نحس ہے کہ اس کا تعلق موت سے ہے ۔نئے جوتش سیکھنے والوں کو چونکہ بارہ گھروں کی بے شمار منسوبات یاد رکھنا مشکل ہوتا ہے تو اساتذہ کی طرف
سے انہیں شروع میں ہر گھر کی دو تین موٹی موٹی منسوبات رٹا دی جاتی ہیں تاکہ یاد رکھنے میں آسانی ہو اور آگے چل کر وہ خود سے بقیہ منسوبات یاد کر لیں گے۔ ان میں سے شروع میں سکھائی جانے والی ایک نسبت موت بھی ہے ۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک گھر کی بقیہ منسوبات کو چھوڑ کر صرف ایک نسبت پہ توجہ مرکوز کر لی جائے اور اس نسبت کو بھی اس کے صحیح تناظر میں نہ سمجھا جائے۔ اس پوسٹ میں چونکہ تمام دشتنا گھروں کی منسوبات کا جائزہ لینا ممکن نہیں ہے تو صرف آٹھویں گھر کا جائزہ لیا جائے گا ۔
جوتش کی کلاسک کتب میں زائچے کے بارہ گھروں کو مختلف اصناف میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں نمبر 6، 8 اور 12 گھر وںکو ٹرائک یا دشتنا ( دکھ دینے والے)کا نام دیا گیا ہے ۔آٹھویں گھر کا سنسکرت نام " رندھر " ہے جس کا لفظی مطلب ہے سوراخ ، دہانہ ،غار یا دراڑ ہے۔ جوتش کی ایک مستند کلاسک کتاب پھل دیپیکا میں اس گھر کے اور نام بھی دیے گئے ہیں جو ذیل میں ہیں ۔
منگلیا ۔ شادی شدہ زندگی کی سعادت
رندھر- تاریکی
مالن-گرد
ادھی- ذہنی تکلیف یا درد
پرہہ ۔ شکست ، بے عزتی ، بے توقیری
آیوش – طول عمری
کلیش – سکینڈل
مرن – موت
وگھن – رکاوٹ
داس- ملازم یا غلام
اسی طرح قدیم جوتشی کالی داس میں نے اپنی کتاب اُتر کال امرت میں آٹھویں گھر سے یہ منسوبات بیان کی ہیں
طول عمری ، خوشی ، شکست یا بے توقیری ،وراثت کا پیسہ ، موت کا خوف یا موت سے پیدا ہونے والا خوف، امراض البول کی تکلیف ۔ بھائیوں ، دشمنوں اور بیوی کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانی ، دشمنوں کا قلعہ ، تکلیف پریشانی ، کاہلی آلکس ، گورنمنٹ سے سزا کا خوف ،پیسے کا ضیاع ،قرضہ ، دوسروں کا پیسہ ، طویل مدت سے پھنسی رقم ، کسی فاسق یا بدکار شخص کی آمد ، گناہ ، کسی زندہ شے کا قتل ، کسی جسمانی عضو کا نقصان ، سزائے کبیرہ ، شدید کرب ،دکھ اور اذیت ، کوئی کہانی جو ذہنی سکون غارت کر دے ، مصیبتوں کا یکے بعد دیگرے آنا ، کوئی بہت ظلم کا کام کرنے کی کوشش کرنا ، جنگ ، بہت زیادہ ذہنی تکلیف ،
جوتش کی تمام کتب کی آٹھویں گھر کی منسوبات کو اوسط طور پرجمع کیا جائے تو کچھ یوں بنتی ہیں
بیرونی جنسی اعضاء، جسم کے فاسد مادوں کو خارج کرنے والے اعضاء ( ایکسکریٹری سسٹم) بشمول مقعد ، گھنے سیاہ بڑے جنگل ، غیر مہذب غیر متمدن دور بعید جگہیں ، پہاڑی سلسلے ، محصولات ، اچانک اور غیر متوقع طور پر ملنے والی رقم ( مثلا لاٹری) ، مزمن امراض ، دوسروں کا پیسہ ، دیوالیہ ہونا ، ایکسیڈنٹ ، قتل کی واردات ، اسرار کی دریافت ، مخفی علوم ، ریسرچ ، علم نفسیات کا وہ شعبہ جس میں انسان کے لاشعور میں چھپے خیالات کی کھوج کی جاتی ہے ، وراثت ، سازشیں ، سرجری اور شادی سے متعلق اشیاءمثلا جہیز وغیرہ، شریک حیات کا پیسہ ، قوت حیات، انشورنس،جنسی قوت، تولیدی نظام، جنسی کشش،بینکنگ،وجدان اور ذریعہ موت۔ ایک نسبت جو کم بیان کی جاتی ہے وہ سمندر کے ذریعے لمبا سفر بھی ہے۔
یوں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ آٹھواں گھر قوت حیات، خفیہ ، پُراسرار امور ،کلفت ،تاریکی ، ضیاع،نقصان، خوف، نفع اور اچانک پن سے منسوب ہے ۔ موت بھی اچانک آتی ہےاور ایسی اشیاء بھی جو حد ادراک ، دماغ اور مادی دنیا سے بعید ہیں ۔اسی لیئے کال پُرش کنڈلی میں آٹھویں گھر چندر نیچ میں ہوتا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام دشتنا گھر نحس ہوتے ہیں اور نہ صرف ان گھروں میں بیٹھنے والے سیارگان نقصان اٹھاتے ہیں بلکہ دشتنا کے مالکان بھی جہاں جا کے بیٹھتے ہیں اس گھر کی منسوبات متاثر ہوتی ہیں۔ آٹھویں گھر سیارگان اگرچہ کمزور ہو جاتے ہیں لیکن وہ اس بات کا بھی اشارہ کرتے ہیں کہ حامل زندگی سے بھرپور انسان ہے اور زندگی کو بھرپور طریقے سے گذارنا چاہتا ہے ۔ جن لوگوں کا آٹھواں گھر مضبوط ہوتا ہے دوسروں کو ان میں جنسی کشش محسوس ہوتی ہے اسی لیئے جن بچوں کا آٹھواں گھر مضبوط ہوتا ہے ان کے والدیں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ اپنے بچے کو کسی اور کے پاس زیادہ دیر کے لیئے تنہا نہ چھوڑا جائے ۔ آجکل سمندر پار کا سفر ایک اہم موقع سمجھا جاتا ہے جو آٹھویں گھر کی نسبت ہے ۔ اسی طرح جو لوگ لاٹری جیتتے ہیں دیکھا یہ گیا ہے کہ ان کے شریک حیات کے آٹھویں گھر مضبوط ہوتے ہیں ۔ آجکل جو لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اچھی کمائی کرتے ہیں ان کا بھی آٹھواں گھر مضبوط ہوتا ہے ۔
آٹھواں گھر اگر جنسی قوت اور اعضائے تولید و سسٹم کا گھر ہے تو بارہواں جنسی لذت کا گھر ہے ، بستر مجامعت اور نیند کا گھر ہے ۔ اسی طرح چھٹا گھر دولت پیدا کرنے میں معاون گھر ہے۔ آٹھواں اور بارہواں گھر دونوں موکش گھر ہیں اور اس دنیا میں انسان کا اعلی ترین مقصد موکش کا حصول ہے ۔
آٹھواں گھر اس لیئے موت کا گھر گنا جاتا ہے کہ یہ قوت حیات کا گھر ہے اگر قوت حیات اچھی ہے تو جنسی قوت بھی اچھی ہوگی اور عمر بھی طویل ہو گی اور اس کے بالعکس صورتحال میں عمر مختصر ہو گی بیماریاں اور موت جلدی آئے گی اس بات اور کچھ اور عوامل کی مدد سے سے انسان کی عمر کا طول اور موت کی پیشین گوئی کی جاتی ہے۔ پراشرا اپنی کتاب برہت پراشرا ہورا شاستر میں ادھیائے 19 میں آٹھویں گھر سے متعلق جب بات شروع کرتا ہے تو طول عمر کی بات کرتا ہے اور پورا ادھیائے اسی میں صرف کرتا ہے ۔ پراشرا کا یہ زاویہ اس نقطہ نظر سے مختلف ہے جو آج کل عام طور پر رائج ہے ۔ جہاں یہ دشتنا گھر منفی خصوصیات کے مالک ہیں تو دوسری طرف انسانی زندگی میں مثبت اثرات کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ مثلا کون اپنی عمر طویل نہیں کرنا چاہتا یا پھر اچانک دولت حاصل نہیں کرنا چاہتا ہے اور پھر اچھی قوت حیات کا متمنی نہیں یا اچھی پُرسکون نیند نہیں چاہتا یا وجدانی قوت یا مخفی علوم سے فائدہ نہیں اٹھانا چاہتا ۔ یا مزمن بیماریوں سے بچنا نہیں چاہتا یا کام کر کے دولت نہیں کمانا چاہتا ۔ یا پھر اپنی جوانی میں جنسی کشش کے ذریعے عوام کے درمیان یا پردہ سکرین پر مقبول نہیں ہونا چاہتا ۔ ہالی وڈ ایکٹریس مارلن منرو جس نے ایک زمانے پردہ سکرین پر تقریبا ساری دنیا راج کیا اس نے آٹھویں گھر کے بل پہ کیا ۔ ہاںیہ درست ہے کہ اگر آٹھواں گھر بہت کمزور ہے تو انسان کو ناگہانی واقعات پیش آ سکتے ہیں لیکن ایک تو گھروں کی منسوبات ہیں مگر انسانی زندگی میں اچھے برے واقعات کی ترتیب کا اظہار دشا کے ذریعے ہوتا ہے ۔ ونشوتری دشا ( جو قبول عام کی سند حاصل کر چکی ہے)کے تجزیے کے لیئے اچھے برے مالکان کی بنیاد زائچے کے روایتی اچھے برے گھر نہیں ہیں ۔ ضروری نہیں کہ آٹھویں یا بارہویں کے مالک کی دشا برا پھل دے یا دسویں یا دوسرے گھر کا مالک سعد پھل دے ۔ ونشوتری دشا کے قوانین ذرا مختلف ہیں اور دشا کی ترتیب سے بھی کسی انسان کی زندگی میں بہت فرق پڑتا ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ آٹھواں گھر تکلیف اور نفع دونوں کا گھر ہےاس کو صرف موت کا گھر بنانا درست نہیں ہے اسے اس کے صحیح تناظر میں دیکھنا زیادہ صحیح ہے اور یہ وہ تناظر ہے جو جوتش کے قدیم حکماء کا نظریہ تھا اور اسی کو لے کر آگے چلنا چاہئیے ۔ 
آٹھواں گھر ، جسمانی نقصان ، ایکسیڈنٹ اور مشکلات یا دنیاوی عروج
 عام طور پہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ آٹھویں کا مالک یا گھر ضرور جسمانی تکلیف یا حادثے کا باعث بنتا ہے جو کہ ہو سکتا ہے ہو لیکن یہ کوئی کُلیہ نہیں ہے ۔ اس پوسٹ میں اپنے موقف کے حق میں بطور نمونہ بلحاظ جوتش چند چارٹس پیش خدمت ہیں جو مشہور شخصیات کے ہیں ۔ ان سب کے حالات زندگی انٹرنیٹ اور وکی پیڈیا پہ موجود ہیں اور کوئی بھی انہیں پڑھ سکتا ہے ۔ صرف روڈن ریٹنگ ڈبل اے کے چارٹ منتخب کیئے گئے ہیں تاکہ شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے ۔
زائچہ نمبر ایک : کم کارڈیشین
پہلا چاٹ مشہور امریکی خاتون ، میڈیا سٹار ، ماڈل اور کاروباری شخصیت کِم کارڈیشین کا ہے ۔ چارٹ کی روڈن ریٹنگ ڈبل اے ہے۔
ملاحظہ کیجئے آٹھویں گھر کا مالک بدھ بارہویں گھر میں راج یوگ بنا رہا ہے ۔ کسی دشتنا کا مالک اگر دوسرے دشتنا گھر میں جا کے بیٹھ جائے تو کسی فرد کی معاشرتی پوزیشن کو اونچا کرنے میں معاون بن جاتے ہیں بشرطیکہ یہ زائچے میں دوسرے راج یوگ بنانےمیں بھی معاون ہو ۔ یہاں آٹھویں کا مالک وپریت سرلا راج یوگ بنا رہا ہے۔ پھل دیپیکا اس یوگ کے بارے میں لکھتا ہے
"اس یوگ کے حامل افراد طویل العمر ، ارادے کے پکے ، نڈر ، خوش حال ، با علم ، اولاد اور دولت سے سرفراز ہوتے ہیں ۔ اپنے کام میں کامیابی ، دشمنوں پہ فتح اور دور تلک مشہور ہو گا ۔"
یہاں بدھ مون چارٹ میں چندر ادھی یوگ بنانے میں بھی معاون ہے جس میں سیارگان چندر سے چھٹے ساتویں اور آٹھویں گھر موجود ہوتے ہیں ۔
کارڈیشین کو عموما شنی کی انتر دشا میں جسمانی تکالیف یا سرجری سے گذرنا پڑا جو تیسر اور چوتھے کا مالک ہو کر گیارہویں گھر میں ہے ۔ یہ بدھ کی مہا دشا تھی جب وہ ریلیٹی ٹی وی سٹار بنی اور دنیا بھر میں مشہور ہوئی ۔
زائچہ نمبر دو :
ریاست ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے مشہور امریکی ماہر معاشیات اور سیاست دان فلپ گرام ۔چارٹ کی روڈن ریٹنگ ڈبل
اے ہے
آٹھویں کا مالک سوریا ، بارہویں کا مالک گرو اور چھٹے کا مالک بدھ تینوں چھٹے گھر (بغیر کسی اور گھر کے مالک کی موجودگی) کے موجود ہیں ۔
وہ پہلی دفعہ راہو مہا دشا میں ( جو کہ آٹھویں گھر موجود ہے) امریکی کانگریس کے ممبر بنے اور اس کے بعد گرو کی مہا دشا 16 سال تک جیتتے رہے ۔ ان کی بیماری یا حادثے کا کوئی ریکارڈ انٹر نیٹ پہ موجود نہیں ہے جس کا مطلب ہے کہ انہوں نے صحت مند زندگی گذاری ۔
زائچہ نمبر 3:
امریکی ٹی وی میزبان راکیل میڈو۔
روڈن ریٹنگ ڈبل اے
بارہویں کا مالک بدھ آٹھویں گھر بیٹھ کر وپریت وملا راج یوگ بنا رہا ہے ۔راکیل کے کام کا آغاز ریڈیو سے کیا لیکن اسے شہرت
ٹی وی پر سن 2008 میں ملی جب این بی سی چینل پہ اس کے شو" راکیل میڈو شو" نے امریکہ بھر میں سب سے زیادہ ریٹنگ حاصل کی ۔ اُس وقت اس کی بدھ مہا دشا چل رہی تھی ۔ تاہم لگنیش چندر کے آٹھویں میں ہونے اور آٹھویں کے حاکم شنی کی نظر کی وجہ سے اسے ڈپریشن کا مسئلہ رہا تاہم اس کے کسی ایکسڈنٹ یا جسمانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ شنی سوائے اس کے راج یوگ کارک ہو ،عموما جب بھی کسی بھی گھر سے، قریبی درجات سے چندر اور بدھ پہ نظر کرے گا ڈپریشن اور سر درد کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور یہاں دونوں سیارگان موجود ہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga