انڈین کامیڈین کپل شرما کا زائچہ
کسی فرد کی قسمت اور کامیابی کا تعین کرنے کے لیئے سب سے پہلے اس کی شخصی بنیاد کو دیکھنا ضروری ہوتا ہے اگر وہ بنیاد مضبوط ہے اور فرد عزم و ارادہ کا حامل ہے تو زائچے میں موجود دیگر خوش بختی کے نشانات/امکانات کو عملی زندگی میں بآسانی عملی جامہ پہنا سکتا ہے لیکن اگر یہ بنیاد مضبوط نہیں تو راج یوگ اور لکشمی یوگ بھی کام نہیں کرتے ۔انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ ہر شے دوبار تخلیق پاتی ہے ۔ پہلی بار آپ کے ذہن میں اور اس کے بعد عملی دنیا میں ۔ اگر کسی کے عزائم بچپن سے بلند نہ ہوں، ارادہ مضبوط نہ ہو تو وہ زندگی میں جو بھی میسر ہوتا ہے اسی پر اکتفا کر لیتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں زندگی کے سمندر کو پار کرنے میں یہ مضبوطی اس کشتی کا کام کرتی ہے جو طوفان کے تھپیڑے سہ سکے۔ اس مضبوطی کا تعین چار چیزیں کرتی ہیں ، طالع ، طالع کا حاکم ، چاند اور سورج ۔
طالع کی ڈگری مناسب ہے اور نہ ابتدائی تین درجات میں ہے اور نہ آخر ی وگرنہ اگلے وقتوں میں پہلے اور آخری درجات کے نومولود کی جب پیدائش ہوتی تھی تو وقت پیدائش موجود پنڈت اس بچے کا چارٹ بنانااگلے تین مہینے کے لیئے موخر کر دیتا تھا کیونکہ اس کے بچنے کے امکانات کم ہوتے تھے لیکن میڈیکل سائنس کی ترقی کی وجہ سے اب قسم کا خطرہ اب بہت کم ہو گیا ہے ۔ بہرحال ان انتہائی درجات کے حامل بچے عموما والدین کی عدم توجہی کا شکار رہتے ہیں وہ بچے جو مائیں دوسروں کو
گود لینے کے لیئے دے دیتی ہیں وہ عموما اسی قسم کے ہوتے ہیں ۔
گود لینے کے لیئے دے دیتی ہیں وہ عموما اسی قسم کے ہوتے ہیں ۔
ہندی نجوم میں بروج(سائن) کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ سیارگان مرکزی اہمیت رکھتے ہیں ۔ لگن برج ثور کا حاکم زہرہ گیارہویں گھر میں ہے اور زہرہ کا تعلق روپے پیسے اور دوسری منسوبات کے علاوہ آرٹ خصوصا پرفارمنگ آرٹس سے ہے ۔ دنیا کے کے مشہور گلوکاروں کے چارٹ میں زہرہ یا تو نمایاں ہوتا ہے یا پھر دوسرے اور تیسرے گھر طاقتور ہوتے ہیں جن پہ یہ نظر ڈال رہا ہوتا ہے یا انہیں بڑی کامیابی زہرہ کی مہا دشا میں ملتی ہے مثلا امریکی گلوکارہ وہٹنی ہیوسٹن اور فرانسیسی نژاد کینیڈین گلوکارہ سیلن ڈیون ۔ گیارہواں گھر زندگی سے جڑے بڑے عزائم ، زیادہ دولت ، دوستوں اور گروپ ایکٹیویٹی سے ہے ۔ سورج جو آتم کارک ہے وہ بھی اسی گھر میں ہے اور لگن کے حاکم سے تقریبا ایک ڈگری کے فاصلے پہ ہے ۔ سورج بنیادی طور پر قوت ارادی ، لیڈرشپ اور پُراعتمادی کا مظہر ہے جس گھر میں سورج ہو گا اسی گھر سے متعلق منسوبات سے فرد زندگی بھر جڑا رہنا پسند کرے گا ۔ یوں گیارہواں گھر کپل کی نفسیات میں بنیادی اہمیت اختیار کر جاتا ہے ۔
چاند تیسرے گھر کا حاکم ( جو پرفارمنگ آرٹس کا گھر ہے) ہے اور دسویں میں موجود ہے ۔ جس گھر چاند بیٹھتا ہے اس گھر کی منسوبات سے فرد کا مضبوط جذباتی تعلق ہوتا ہے اور ان معاملات میں وہ راحت محسوس کرتا ہے مثلا اگر چاند ساتویں گھر میں ہے تو شریک حیات یا شادی سے ایک مضبوط تعلق کی علامت ہے اور ایسے لوگ بنا تعلق زندگی نہیں گزار سکتے ۔ چاند پبلک کی علامت بھی ہے اور دسواں گھر بھی پبلک سے متعلق ہے ۔
اس بات کی بہت اہمیت ہے کہ چارٹ میں چاند کس قدر روشن اور نحوست سے پاک ہے جس طرح چودھویں کے چاند کا ستعارہ بے مثال حسن کی علامت ہے اسی طرح چارٹ میں پورا روشن ، سعد چاند عہد طفولیت میں اشیاء ، محبت کی فراوانی اور خوشگوار بچپن کا مظہر ہے جس میں سب سے بڑا ہاتھ ماں اور پھر باپ کا ہوتا ہے ۔اگر چاند نحوست کا شکار ہو جائے تو فرد کے اندر منفی رحجانات جنم لیتے ہیں یا اگر ایسا نہ ہو تو وہ یہ فرض کر لیتا ہے کہ آئندہ زندگی میں وہ محبت یا دولت کا مستحق نہیں ۔
کپل کا چاند اس لحاظ سے کمزور ہے کہ یہ سورج سےایک گھر پیچھے ہے اور یوں محض تقریبا بیس فیصد روشن ہے لیکن کسی قسم کی بڑی نحوست سے پاک ہے سوائے اس کے کہ یہ تیسرے گھر کا حاکم ہے جو معمولی نحس لیکن اپچے ہے ۔ یوں ہم کہ سکتے ہیں کہ کپل کے بچپن میں زندگی جذباتی لحاظ سے ٹھیک لیکن اشیاء یا محبت کی فراوانی میسر نہیں تھی بس جو میسر تھا وہی تھا ۔چاند دسویں گھر میں ہے تو ایسے لوگ پبلک میں ہمیشہ نمایاں ہونے کی خواہش رکھتے ہیں ۔ جو افراد گھریلو پارٹی میں سب سے پہلے اٹھ کر کوئی مزاحیہ جملہ کہتے یا توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا چاند عموما دسویں میں ہوتا ہے ۔ ایسے افراد کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ پبلک سے متعلق معاملات میں بہت حساس ہو جاتے ہیں اور خلاف طبع ذرا سی بات کو بہت زیادہ منفی انداز محسوس کرتے ہیں ۔
چاند اور سورج کے علاوہ جس گھر کا جائزہ لینا مددگار ثابت ہوتا ہے وہ پانچواں گھر ہے جو اور منسوبات کے علاوہ دماغی رحجانات کا بھی عکاس ہوتا ہے ۔ پانچویں گھر کا حاکم دسویں گھر میں ہے اور پانچویں میں دو رجعت پذیر سیارے موجود ہیں یعنی مشتری اور زحل ۔ مشتری کا پانچویں گھر میں ہونا فرد میں اوائل عمری سے مقصد زندگی کا احساس پیدا کرتا ہے یوں جیسے ایک آواز ان کے دماغ میں بار بار بولتی رہتی ہو۔ مرحوم امریکی صدر رچرڈ نکسن کے زائچے میں مشتری پانچویں گھر میں موجود ہے ۔ نکسن دوسری جنگ عظیم میں امریکی نیوی میں رضاکار کے طور پر شامل تھے ۔ ان کے ُاس زمانے کے ایک ساتھی نے بعد میں بتایا کہ رات کے کھانے کے بعد جب ہم تاش کھیل رہے ہوتے تو کھیلنے کے دوران ایک شخص مسلسل بڑبڑاتا رہتا " میں امریکہ کا صدر بنوں گا ۔۔۔ میں امریکہ کا صدر بنوں گا" اور ہم اسے بکواس بند کرنے کا کہتے رہتے کیونکہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا تھا، وہ نکسن تھا ۔
کپل کے پانچویں گھر دوسرا سیارہ زحل ہے جو مشتری سے جب ملاپ کرتا ہے تو اسے نحس کرتا ہے لیکن مشتری کی منسوبات میں ایک تنظم بھی پیدا کرتا ہے ۔ پانچویں گھر جب بھی کوئی نحس سیارہ بیٹھتا ہے (اس کے علاوہ نویں گھر سے کیتو بھی پانچویں گھر کو ناظر ہے)تو فرد کو دماغی طور قدرے بوجھل ، سنجیدہ ،( زحل کی صورت میں احساس کمتری میں مبتلا )اور عملی ذہن کا مالک بناتا ہے جسے انگریزی میں سٹریٹ سمارٹ کہتے ہیں ۔ ایسے فرد کو آسانی سے دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ۔
یوں کپل کی جو تصویر ابھرتی ہے وہ ایک ایسے انسان کی ہے جو اوسط یا معمولی گھرانے میں پیدا ہوا جس کی قوت فیصلہ مضبوط ہے ، اسے دوستوں کے ساتھ محفل آرائی اور وقت گذارنے کا حد درجہ شوق ہو گا اور کم آمدنی کی وجہ سے محفل آرائی کا سامان، جگت بازی، آوارہ گردی ، موسیقی ، ڈرامہ یا فلم بینی ہی ہو سکتی تھی (زہرہ گیارہویں میں )۔ دوستوں کی محفل میں وہ قائد کے رتبے سے ایک درجہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں اور بعض اوقات اس کا یہ رویہ دوستوں میں بدمزگی کا باعث بھی بنتا تھا(سورج اور مریخ گیارہویں میں ) ۔جس کا مطلب تھا محنت اور ایک سے زیادہ فنون میں طبع آزمائی ۔ اسے دولت کمانے کا اسی قدر شوق ہو گا اور وہ اپنی پسند کے فنون کے استعمال سے بڑی دولت کمانے کے خواب دیکھتا ہو گا ۔ وہ بظاہر خوش باش لیکن اندر سے سنجیدہ انسان اور کسی قدر احساس کمتری میں مبتلا ہے۔ نوجوانی میں اس کے دماغ میں یہ تو ضرور بار بار گونجتا ہو گاکہ اسے بڑا آدمی بننا ہے لیکن کیسے ؟،یہ اسے اس وقت معلوم نہ ہو گا ذہن پر موجود بوجھل پن اسے اپنی عمر سے جلد بڑا ہونے کی طرف مائل کر رہا ہو گا(زحل موجود اور کیتو کی نظر) ۔
انڈین کامیڈین کپل شرما کے زائچے کا جائزہ ۔ آخری حصہ اب تک جو نتائج اخذ ہوئے ہیں ان کی تصدیق کی ضرورت ہے اگر حامل ان میں سے زیادہ تر کا انکار کرے تو برتھ ٹائم ریکٹیفیکیشن کی طرف جانا ہو گا چونکہ کپل کی پیدائش کی تفصیلات کی روڈن ریٹنگ اے ہے جس کا مطلب ہے کہ اگر کچھ فرق ہے بھی تو چار چھے منٹ کا ہی ہو گا ۔ ویسے پاکستانیوں کا چارٹ بنانے سے پیشتر ہی ان کے وقت پیدائش تفتیش بہت ضروری ہے کیونکہ ہمارے ہاں فرد کی زندگی میں وقت پیدائش وہ واحد شے جس پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ طالع کے حاکم سیارے کی گیارہویں گھر موجودگی سے یہ مفروضہ قائم ہوا تھا کہ حامل میں آرٹس سے متعلق صلاحیتیں موجود ہیں اب اس مفروضے کی مزید تصدیق کرنا ہے ۔ پہلا نکتہ تو یہ ہے کہ پورے چارٹ میں صرف ایک سیارہ زہرہ اپنے شرف کے برج میں ہے اگرچہ انتہائی درجہ شرف سے دس ڈگری پہلے ہے لیکن نمایاں ا سلیئے بھی ہے کہ یہ اپنے نقطہ شرف کی جانب رواں ہے اس کے برخلاف اگر کوئی سیارہ اپنے انتہائی درجہ شرف سے گزر کے دس درجے دور چلا جائے تو وہ گامزن کی بہ نسبت کمزور ہوتا ہے ۔ آرٹس سے متعلق امور میں دوسرا اور تیسرا گھر زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور چونکہ دوسرے گھر پہ دو نحسین مریخ اور زحل کی نظرات ہیں تو میں تیسرے گھر پہ زیادہ توجہ دوں گا ۔ تیسرے گھر کے امور میں موسیقی، رقص اور ڈرامہ بھی شامل ہے تیسرا گھر اس لیئے طاقتور ہے کہ اس میں راہو براجمان ہے اور تیسرا گھر اپچے ہے جس میں نحس سیارہ زیاہ اچھے نتائج دیتا ہے (اگرچہ چھوٹے بہن بھائیوں سے تعلقات کے ضمن میں بگاڑ کا باعث بنتا ہے ) ۔ راہو جس گھر میں بھی ہو اس گھر سے متعلقہ امور سے فرد میں نمایاں ہونے کی شدت میں اضافہ کرتا ہے ۔ تیسرا گھر قوت ارادی اور ہماری روزانہ کی خواہشات سے بھی متعلق ہے اور انہیں پورا کرنے کے لیئے راہو وہ توانائی فراہم کرتا ہے کہ فرد دن رات کام میں مصروف ہوتے ہوئے بھی تھکتا نہیں ہے ۔ تیسرا گھر آواز سے متعلق بھی ہے کپل میں گلوکار بننے کی خواہش بہت زیادہ ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اداکاری یا رقص کیوں نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھا اداکار بننے کے لیئے فرد کی قوت متخیلہ کا بہت اچھا ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی فلمی کردار کو عدم سے وجود میں لا نے کے لیئے اس کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ دوسرا گھر جو قوت متخیلہ سے متعلق ہے وہ نحس ہو چکا ہے تو کپل میں گلوکار بننے کی صلاحیت زیادہ اور اداکار بننے کی کم ہے ۔ دنیا کے مشہور اداکار جو آسکر جیتتے یا نامزد ہوتے ہیں ان کے چارٹ میں دوسرا گھر عموما بہت اچھا ہوتا ہے ۔ لیکن یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ زہرہ تقریبا ستاسی فیصد محترق ہو چکا ہے یوں کپل کا گلوکاری کے میدان کوئی بلند مقام حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا البتہ زیادہ شوق اور کچھ صلاحیت ضرور ہے۔ اس کے علاوہ یہ لطیف نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ تیسرے گھر نحس سیارے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ آواز جب اونچے سروں میں جاتی ہے تو اس میں لرزش پیدا ہوتی ہے جو اساتذہ بہت جلد محسوس کر لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بازؤں کی حرکت اور موسیقی کے تال میل میں بھی ہم آہنگی نہیں ہو پاتی اور پرفارمامنگ آرٹس مثلا رقص میں یہ بہت بڑا نقص ہے ۔ کپل شرما گھر چھوڑ کر بمبئی گلوکار بننے کی خواہش لے کر آیا تھا لیکن ٹی وی پر موسیقی کے مقابلوں میں کامیاب نہیں ہو پایا تھا ۔ خالی ہاتھ گھر جانا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے والد کی وفات کینسر کے مرض کی وجہ سے ہو چکی تھی جس کی تشخیص خاصی دیر سے اس وقت ہوئی تھی جب وہ خطرناک ہو چکا تھا ( کیتو باپ سے منسوب نویں گھر میں پانچویں گھر کو ناظر ، کیتو پوشیدہ مزمن امراض کا نمائندہ بھی ہے) کپل میں اگر گلوکاری ، اداکاری اور رقص کی صلاحیتیں اگر اوسط درجے کی ہیں تو پھر وہ کون سے سیارگان ہیں جو کپل کو پبلک میں کامیابی دلا سکتے اس کی تلاش میں جب ہم بقیہ چارٹ کو دیکھتے ہیں تو زہرہ اور سورج پانچویں گھر کو ناظر ہیں ۔ ہم نے پانچویں گھر کا پہلے سرسری جائزہ لیا تھا لیکن جب پانچویں گھر میں سیارگان اور اور ان پر نظرات کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ بہت سی مثبت اور منفی توانائیوں سے بھرپور نظر آتا ہے ( پوسٹ سے لف تصویر دیکھئے) پانچویں گھر زحل موجود ہے جو پروفیشن سے متعلق دسویں گھر کا حاکم بھی ہے اور اتفاق سے کیریئر کا کارک بھی ہے پانچویں اور دسویں گھروں میں پری ورتن ہے ( جسے انگریزی میں میوچل ریسپشن بھی کہتے ہیں ) مزید برآں یہ راج یوگ کارک بھی ہے یعنی نویں اور دسویں گھر کا حاکم بھی ہے ۔ اس کے علاوہ آٹھویں اور گیارہوں گھر کا حاکم اور پانچویں گھر کا کارک مشتری بھی موجود ہے ۔ یوں پانچویں ، دسویں اور گیارہویں گھروں کے درمیان ایک مضبوط تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور اگر فرد میں مسلسل محنت کرنے کی صلاحیت موجود ہے ( تیسرا گھر) تو عملی زندگی میں کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں ۔ سورج جب بھی مشتری سے ملاپ کرتا ہے یا نظر کرتا ہے تو ایسے فرد کی حس مزاح بہت عمدہ ہوتی ہے بشرطیکہ ان پر نحسین کی نظر نہ ہو ۔ زحل یا شنی ایک تو راج یوگ کارک ہے دوسرا رجعت میں ہے تیسرا اس پر سعد سیارگان زہرہ اور مشتری کی نظر یا ملاپ ہے اس لیئے اس کی بدمعاشانہ فطرت کی قوت کم اور نفع پہچانے کی صلاحیت بہت زیادہ ہو گئی ہے ۔پروفیشن کے کارک پر ان سیارگان کی نظر / ملاپ ، چاند کی پاکی اور تیسرے گھر کی قوت نے ہی بلآخر مزاح کے میدان میں کپل کو کامیابی دلائی ۔ یہاں ایک ضمنی بات یہ ہے کہ زحل کے اس قدر سعد ہونے کا مطلب نہیں کہ وہ اپنے برے اثرات سے دست بردار ہو گیا ہے بلکہ یہ اثرات نفسیاتی طور ذہن پر پڑتے رہتے ہیں ۔ مثلا مشتری آٹھویں گھر کا حاکم ہے اور شنی سے ملاپ میں ہے تو جب بھی شنی کی مہا دشا شروع ہو گی تو دنیاوی کامیابی تو ملے گی لیکن اس دشا کے دوران کام کے معاملے میں حامل پر نامعلوم عجب خوف طاری ہو جاتا ہے اس کے علاوہ بند جگہوں مثلا لفٹ ، جہاز وغیرہ پر گھٹن کا احساس جسے انگریزی میں کلسٹروفوبیا کہتے ، ہونے لگتا ہے ۔ اگرچہ اس زائچے پہ مزید بات ہو سکتی ہے لیکن اس سلسلے کو اب اسی پوسٹ پر ختم کر رہا ہوں ، مرنے کے بعد لافانی ہونے کا تعلق نویں گھر سے ہے اگر وہ طاقتور اور نحس اثرات سے پاک ہے تو اس کا امکان ہوتا ہے لیکن کپل کا یہ گھر نحس ہو چکا ہے ۔ بچوں کی جنس کے بارے میں تبصرہ کرنے والے کی رائے درست ہے کپل کی ذاتی اخلاقیات کے متعلق تبصروں میں کچھ حقیقت ہے جو شادی شدہ زندگی میں تبدیلی کا باعث بنے گی ۔ بقیہ سولات کے جوابات دیے جا چکے ہیں گیارہویں میں 99٪ محترق مریخ سے متعلق ایک لطیف نکتہ یہ بھی ہے کہ اگرچہ یہ محترق ہے لیکن اس کے نفسیاتی اثرات ہیں یعنی کپل کے اندر غصہ لمحہ بھر کے لیئے بھڑکتا ہے لیکن جلد ہی سرد بھی ہو جاتا ہے

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں