بلاول بھٹو زرداری کا زائچہ

اس سال مئی میں بھارتی شہر گوا ہونے والی کانفرنس میں شرکت کے دوران بلاول نے ایک بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعوی کیا وہ پاکستان کا اگلا وزیر اعظم بننے کا ارادہ رکھتے ہیں اور عمران خان کو اگلے انتخابات میں شکست سے دوچار کریں گے ۔ حالانکہ انہیں سیاست میں داخل ہوئے ابھی کوئی سولہ سال ہوئے ہیں لیکن پاکستانی سیاست میں موجود زیرک سیاست دانوں اور والد کی موجودگی میں ان کا ارادہ معنی خیز ہے جس جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس پوسٹ میں بلاول کے زائچے کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔
تاریخ پیدائش : 21 ستمبر 1988
وقت پیدائش :صبح نو بج کر تیس منٹ
مقام پیدائش : کراچی
روڈن ریٹنگ : اے ( معلومات کا ذریعہ اخباری خبریں ہیں جو دنیا بھر کے میڈیا میں ان کی پیدائش (سیزیرین) پر نشر کی گئیں ، وقت پیدائش ماں کے بیان سے منسوب ہے )
آئنانش برائےسال 1988 :- - 23 ڈگری 40 منٹ 13 سیکنڈز( لہری)
طالع کی 16 ڈگری 29 منٹ ہے جو تقریبا برج کے درمیان ہے اور اچھی قوت فیصلہ کا مظہر ہے۔ برج میزان میں پیدا ہونے والے لوگ عموما قد میں لمبائی کی طرف مائل ، آرٹس کی طرف رحجان رکھتے ہیں ، ہوشیار ، گفتگو سفارت کاروں کے انداز میں کرتے ہیں اور بعض اوقات ذاتی معاملات میں فیصلہ کرنے سے قاصر ہو جاتے ہیں اور دوسروں کو انصاف دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سعد ترین گھر نویں اور نحس بارہویں گھر کا مالک عطارد پہلے گھر میں دگ بل کے ساتھ موجود ہے، نوانش میں ورگوتم ہے، تاہم اس کی ڈگری ابتدائی درجے میں ہے اور اس پر چھٹے گھر میں موجود مریخ کی اور پانچویں گھر موجود راہو کی نظر ہے جو بذات خود نحس سیارگان ہیں اس کے علاوہ بھاوا چارٹ میں یہ بارہویں گھر میں جا بیٹھتا ہے جہاں یہ سورج سے یکت اور چھٹے گھر سےمریخ کی نظر میں ہے جو ذہنی پریشانی ، اعتماد کی کمی اور کمزور نروس سسٹم کی نشانی ہے ۔ پہلے گھر میں عطارد کے حامل افراد ذہین ، دوست نوازاور ابلاغی ذہن کے مالک ہوتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر موزوں الفاظ اور نرم گفتاری سے بیان کرنے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ان کا چہرہ بڑھاپا شروع ہونے تک جوانی کا تاثر دیتا رہتا ہے، سامعین کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں چونکہ عطارد نحس ہو چکا ہے تو بہت زیادہ دباو کے حالات میں کام کرتے ہوئے یہ افراد نروس ہو سکتے ہیں اور نروس سسٹم پر دباو پڑ سکتا ہے لیکن پہلے گھر پر نظرات کے سیارگان کی ڈگری عطارد سے بہت زیادہ دور ہے تو ان کا اثر عطارد پر محدود ہے یوں عطارد بھی ملے جلے رحجانات کا حامل ہے( اس کے علاوہ سورج بھی بارہویں گھر میں ہے جو انہیں کسی حد تک شرمیلا اور داخلیت پسند بناتا ہے ایسے افراد کو اپنے کام سے

ہمیشہ وقفہ لے کر چھٹیوں میں تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ اپنی توانائی بحال کر سکیں) ۔
پانچواں گھر سپورٹس ، بچوں وغیرہ کے علاہ سیاست اور ذہن کا گھر بھی کہلاتا ہے اور اس میں راہو کی موجودگی ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے کیونکہ راہو یہاں دماغ میں مرتبہ حاصل کرنے کی شدید خواہش پیدا کر رہا ہے ۔ بلاول کے چارٹ میں شنی یوگ کارک ہے (یعنی ترکون اور کیندر کا حاکم ہے) یوں یہ نحس اثرات کے ساتھ مثبت اوصاف بھی دیتا ہے جیسے ڈسپلن ، عاجزی ، دور اندیشی اور تنظیم وغیرہ ۔ پہلے گھر عطارد کی موجودگی اور اس پر پانچویں گھر سے راہو کی نظر نے انہیں شاید اپنے کالج میں مضامین کے انتخاب میں ماڈرن ہسٹری اور سیاسیات کا انتخاب کرنے پر مائل کیا۔ راہو طالع کی ڈگری سے تقریبا چار درجے دور ہے اور پہلے گھر پہ نظر ڈال رہا ہے، راہو وقت پیدائش سیدھی چال میں ہے اس لیئے اس کے اثرات زیادہ پُراثر اور دنیاوی فوائد کے حصول پر مرکوز ہیں۔ آٹھویں گھر میں موجود مشتری دوسرے گھر کو ناظر ہے جس کی وجہ سے ان کی یادداشت فوٹوگرافک ہے۔(مشتری کے علاوہ چاند بھی یادداشت کا مظہر ہوتا ہے یہ وصف بھٹو صاحب میں بھی تھا ۔ ایک اخباری کالم میں پڑھا تھا کہ مرحوم وزیر اعظم بھٹو صاحب ایک دفعہ بلوچستان کے اندرون دورے پہ گئے جہاں فوج کا تعمیراتی محکمہ ایک اہم سڑک تعمیر کر رہا تھا اور اس کام کے انچارج کرنل عثمان تھے جس نے انہیں اس منصوبے پر بریفنگ دی۔ ایک دو سال کے بعد بھٹو صاحب کسی فوجی میس میں دورے پہ گئے تو عثمان کو دیکھتے ہی بولے ، ہیلو عثمان کیسے ہو تم سے دوبارہ مل کے خوشی ہوئی)
چاند دسویں گھر کا مالک ہے اور چوتھے گھر میں دگ بل کے ساتھ موجود ہے ۔ سعد چاند کا چوتھے گھر موجود ہونا ماں سے مضبوط تعلق کی خواہش کا اظہار ہے اس کے علاوہ حامل کو خوش مزاج بناتا ہے اور والدہ سے مالی اور جذباتی فوائد کا حصول ممکن بناتا ہے۔ بلاول کا چاند چمک دمک کے اعتبار سے دوسرے کوارٹر میں ہے( پینسٹھ فیصد چمکدار) اور پورا چاند بننے کی طرف گامزن ہے ،چوتھے گھر میں ابتدائی درجات میں ہے اوربھاوا چارٹ میں دیکھا جائے تو تیسرے گھر جا بیٹھتا ہے جہاں یہ زحل سے یکت ہے تو اسے تیسرے اور چوتھے دونوں گھر میں پڑھا جائے گا۔ تیسرے گھر زحل سے یکت ہونے کا مطلب مرحومہ والدہ کے ساتھ تعلقات میں حامل یا والدہ کو مشکل پیش آ رہی تھی اس کے علاوہ صنف نازک سے تعلقات میں مشکلات کی علامت ہے ۔ اس میں سچائی ہو سکتی ہے کیونکہ جب بلاول ماں کے پیٹ میں تھے تو اس وقت ضیاء صاحب نے اسمبلیاں توڑ کر نومبر میں الیکشن کروانے کا اعلان کر دیا تھا ،وہ نہیں چاہتے تھے کہ بے نظیر الیکشن جیتیں ،الیکش کی تاریخ بھی ضیاء کے خیال میں بلاول کی ڈلیوری کی تاریخ کے قریب تھی اور یہ نان پارٹی الیکشن تھے ۔ یوں بے نظیر کی مشکل دوہری ہو گئی اور انہوں نے سخت عدالتی اور سیاسی جدوجہد کی اور اگست میں ضیاء صاحب کی وفات کے بعد بچے کی پیدائش کے تیسرے مہینے وزیر اعظم بن گئیں اور ان کے متعلق مشہور تھا کہ وہ روزانہ سولہ گھنٹے کام کیا کرتیں تھیں ۔ ان سب امور کی انجام دہی کے دوران بچہ نظر انداز ہوا ہو گا جس کا اثر یقیننا بچے پر پڑا ہو گا۔( یہاں یہ بات بیان کرنا اہم ہو گا کہ بچے کی زندگی میں، حمل قرار پانے سے لے کر سات سال کی عمر تک کا عرصہ بہت اہم ہوتا ہے جس میں اسے ماں اور باپ دونوں کی توجہ اور پیار کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور یہ عرصہ بچے کی آئندہ زندگی کے جذباتی رحجانات کا مستقل تعین کر دیتا ہے اور بعد کی زندگی میں انہیں بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے )۔ چاند چوتھے گھر میں ہے اور اس کے پچھلے اور اگلے گھر میں دو نحسین باالترتیب زحل اور راہو موجود ہیں جو پاپ کرتری یوگ بناتے ہیں اس یوگ کے حامل عموما شادی بہت دیر سے کرتے ہیں اور ان کے صنف مخالف میں کئی دوست ہوتے ہیں ، رومانوی تعلقات ایک سے زیادہ دفعہ ٹوٹتے ہیں اور ذاتی زندگی میں محبت حاصل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اگرچہ دسویں گھر موجود طالع کا حاکم اپنی ساتویں نظر سے ان اثرات کو کم کرنے میں کچھ مددگار ہے لیکن وہ خود جانی دشمن کے گھر میں ہے چناچہ جذباتی زندگی میں مسائل بھی پیدا کر رہا ہے۔اس کے علاوہ آٹھویں میں موجود ساکن مشتری بھی چاند پر کچھ سعد نظرات بنا رہا ہے( چونکہ چاند عوام کا بھی کارک ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہیں سیاست میں حتمی کامیابی ضرور ہو گی لیکن مشکلات کے بعد حاصل ہو گی ۔ طالع کا حاکم دسویں گھر موجود ہے تو ایسے شخص کی زندگی اپنے پیشے کے ارد گرد گھومتی ہے ، اپنے اپنائے پیشے میں نامور اور کامیاب ہوتے ہیں ، حکومتی حلقوں میں اثر رکھتے ہیں ، اچھی صحت اور لمبی عمر پاتے ہیں ، یوں بلاول کا چاند ملے جلے رحجانات کا حامل ہے یعنی جذباتی معاملات میں انہیں مشکلات دیتا ہے تو دنیاوی معاملات میں فائدہ بھی دیتا ہے۔ زہرہ کی دسویں گھر موجودگی انہیں عوامی مقبولیت دیتی ہے ۔ زہرہ کی چاند پر ساتویں نظر انہیں صنف مخالف کی خوبصورتی کا اسیر بناتی ہے اور ایسے لوگ شادی کے لیئے خوبصورت ، پیشہ ور اور ذہین خاتون کا انتخاب پسند کرتے ہیں اس کے علاوہ مشتری کی آٹھویں میں موجودگی انہیں صنف نازک کے لیئے جنسی کشش کا حامل بناتی ہے ۔ ان کی زندگی کے بڑے مسائل میں صنف نازک کا ہاتھ ہمیشہ نمایاں رہے گا۔( 2014 میں برصغیر کے کچھ ممالک کے اخباروں نے بلاول کے ایک شادی شدہ خاتون جو کہ بلاول کی ہم پیشہ تھیں اور عمر میں دس سال بڑی تھیں کے ساتھ رومانوی تعلقات کا ذکر کیا تھا ۔ خبروں کے مطابق اس تعلق میں بلاول بہت سنجیدہ تھے اور اس کے لیئے سب کچھ چھوڑ کر بیرون ملک مستقل رہائش اختیار کرنے پر تیار تھے ۔ بلاول کے والد کی مداخلت اور کوششوں سے یہ معاملہ ختم ہوا تھا ۔ یہ اخبار زیادہ تر تیسرے درجے کے تھے جو سنسنی خیزی کو پسند کرتے ہیں ۔ خبر میں کس حد تک صداقت ہے معلوم نہیں )۔
طالع کا حاکم زہرہ اور پانچویں میں موجود راہو ان کے اندر آرٹ اور کرافٹ مثلا پینٹنگ وغیرہ کی صلاحیت بھی دیتا ہے ۔
بلاول تیس کی دہائی میں ہیں اور وہ ابھی تک کنوارے ہیں ۔ باقاعدہ شادی سے متعلق معاملات ساتویں گھر کے تحت آتے ہیں جس پر کیتو کی نویں نظر ہے ۔( بلاول کے راہو کیتو زیادہ طاقتور اور کچھ سعد اثرات بھی دیتے ہیں کیونکہ یہ الٹے کی بجائے سیدھے چل رہے ہیں خصوصا راہو کیونکہ یہ تقریبا اکیس ورگا چارٹس میں تقریبا چھے دفعہ اُچ میں ہے)۔ ساتویں ( اور گھریلو خوشی یعنی دوسرے گھر کابھی)حاکم مریخ چھٹے میں بیٹھا ہے اور رجعت میں ہے ۔ ساتویں کے حاکم کا رجعت میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حامل اپنے رومانوی تعلقات کو باقاعدہ شادی کا درجہ دینے کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے میں بہت مشکل اور رکاوٹ محسوس کرتا ہے ۔مریخ چونکہ تکنیکی علوم، نوکدار اشیاء ، خون اور کزن وغیرہ کا نمائندہ ہے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کی شادی والد کی پسند سے اپنے خاندان یا قبیلے میں ہو گی اور شریک حیات کا تعلق آئی ٹی ، طب یا قانون کے شعبے سے ہو سکتا ہے، شریک حیات کی صحت بہت حساس ہو گی اور شریک حیات کا تعلق امیر خاندان سے ہو گا جس سے بلاول کو مالی فائدہ حاصل ہو گا ( مشتری آٹھویں گھر میں)۔ چونکہ کیتو قاطع ہے جس کی نظر ساتویں پہ ہے اس کے علاوہ نوانش میں ساتویں کا حاکم پہلے گھر میں ہے اور جنم کنڈلی میں ساتویں کا حاکم چھٹے میں بیٹھ کر طالع پر ناظر ہے اور خود مریخ پر بارہویں سے سورج ناظر ہے ، تو بلاول اپنی ذاتی پسند ناپسند اور کام کو شادی کے تعلق پر زیادہ ترجیح دیں گے یوں زوجین کے درمیان مضبوط رشتہ نہیں بن پائے گا اور شادی اونچ نیچ کا شکار رہے گی اور ہو سکتا ہے اس میں کسی وقت کچھ عدالتی معاملات بھی شامل ہو جائیں جس میں ان کی شریک حیات سے زیادہ ان کے قریبی دوستوں کا ہاتھ ہو گا اور شادی سخت خطرے میں پڑ جائے گی، طلاق کا امکان بہت زیادہ موجود ہےاور دوسری شادی کے امکان رد نہیں کیا جا سکتا (ساتویں کا حاکم مریخ زوجسدین برج میں اور طالع میں موجود عطارد کی ساتویں پر نظر اس کے علاوہ بارہویں میں موجود سورج کی مریخ پر نظر)۔ مریخ کی چھٹے میں موجودگی بلاول کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی دشمنوں کو شکست دیں گے اگرچہ اس کے لیئے انہیں زیادہ کوشش کرنا ہو گی کیونکہ رجعت پذیر سیارے کی قوت خفتہ ہو جاتی ہے اور اسے بروئے کار لانے میں حامل کو خود زیادہ کوشش کرنا ہوتی ہے ۔ چونکہ چھٹا گھر اپچے ہے تو وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ صلاحیت بڑھتی جائے گی ۔
تیسرے گھر کے امور میں اور باتوں کے علاوہ آواز ، اداکاری ، خود کردہ محنت ، جرات ، استقامت ، عزم و ارادہ ،تحرک وغیرہ شامل ہیں۔ تیسرا گھر معمولی نحس مانا جاتا ہے اور اپچے ہے(یعنی وقت گذرنے کے ساتھ اس گھر میں موجود سیارے طاقتور ہوتے جاتے ہیں ) اس لیئے یہاں پہ اگر کوئی نحس سیارہ موجود ہے تو گھر اس سیارے کی قوت کو بخوبی استعمال کر لیتا ہے ۔ بلاول کے اس گھر میں شنی بطور یوگ کارک موجود ہے (یعنی ترکون اور کیندر کا حاکم ہے) یوں یہ نحس اثرات کے ساتھ مثبت اوصاف بھی دیتا ہے جیسے ڈسپلن ، عاجزی ، دور اندیشی اور تنظیم وغیرہ( نجوم کی قدیم کتب میں ذکر موجود ہے کہ عموما گاوں دیہات کے سرپنچ کی کنڈلی میں شنی ان کے ذاتی گھروں موجود پایا جاتا تھا جو تجربے سے حاصل کردہ بصیرت دیتا ہے اور ایک لیڈر کے لیئے بصیرت بہت ضروری ہوتی ہے) ۔ یہاں شنی ارادے کی مضبوطی فراہم کر رہا ہے یوں حامل جب اپنی توجہ کا ارتکاز کسی کام پر کرتا ہے تو اسے مکمل کر کے دم لیتا ہے لیکن اپنے کام میں اسے دوسروں سے مدد کم ملتی ہے اور خود زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے میزان ویسے بھی منقلب برج ہے اور تحرک اور مرتبے کی خواہش اس کی فطرت ہے۔ شنی کی یہاں موجودگی کیتو کی نظر کی وجہ سے اپنی منفی خصوصیات میں سستی کاہلی اور جوش کی کمی بھی دے رہی ہے ۔ اس کے علاوہ آواز اور ہاتھوں کے استعمال میں ہم آہنگی نہیں پائی جاتی ۔ یہی وجہ ہے کہ بھٹو صاحب یا بے نظیر کی تقاریر کی ویڈیوز اگر دیکھیں تو بلاول جلسوں میں عوام کے سامنے پرفارم کرنے میں ان دونوں سے بہت پیچھے ہے ۔ ( بھٹو صاحب کے دور میں کہا جاتا تھا کہ عوام کی نفسیات اس ملک میں دو لوگ بخوبی سمجھتے ہیں ایک بھٹو صاحب اور دوسرے فلمسٹار رنگیلا جن کی مزاحیہ فلمیں ہٹ پہ ہٹ ہو رہی تھیں)۔
سن دو ہزار چوبیس ( یعنی ان کی عمر کا پینتیسویں سے چھتسویں سال کا درمیانہ عرصہ) بلاول کی زندگی میں اہم تبدیلی لے کر آئے گا اور ان کا مرتبہ پہلے سے زیادہ بلند ہو جائے گا کیونکہ شنی بلوغت کی عمر کو پہنچ جائے گا اگر یہ وزیر اعظم بن گئے تو فبہا ورنہ انہیں مزیدچھے سال انتظار کرنا پڑے گا ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga