چندر لگن کب زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے
جنم لگن کے بعد اگر کسی سیارے کی اہمیت ہے تو وہ چاند ہے کیونکہ چاند ہمارے جذبات، احساسات، موڈ اور ذہنی جھکاو کی نشاندہی کرتا ہے زائچے میں جہاں یہ موجود ہوتا ہے اس گھر سے متعلقہ امور میں حامل راحت محسوس کرتا ہے۔ ہندو چونکہ اسے دیوتا بھی مانتے تھے اور یہ رات کے علاوہ دن کے کچھ حصے میں بھی آسمان پر نظر آتا رہتا تھا تو ہندی نجوم کے علماء نے اس کا مطالعہ زمانہ قدیم سے جاری رکھا اور بعض نتائج ایسے تیر بہدف ہیں کہ نوے فیصد زائچوں میں درست ثابت ہوتے ہیں مثلا چاند سے ساتویں گھر میں موجود سیارہ فرد کے تعلقات کے بارے میں بہت اہم معلومات فراہم کرتا ہے ۔ اس لیئے زائچے کے تمام گھروں کو نہ صرف جنم لگن سے دیکھا جانا چاہئے بلکہ چندر لگن سے بھی دیکھا جانا چاہئے۔ چندر لگن ، جنم لگن اور سوریا لگن سے سیارگان کی پوزیشن دیکھنے سے حامل کی شخصیت کے بنیادی رحجانات کا اندازہ بڑی درستگی سے لگایا جا سکتا ہے پراشرا نے بھی تینوں لگن کو استعمال کرنے پر زور دیا تھا۔ ایسے اشارے جو تینوں نقطہ نظر سے مشترک نظر آئیں وہ زائچے کے بہت مضبوط اشاروں میں شمار ہوتے ہیں ۔کچھ جوتشیوں کا خیال ہے کہ اگر چندر ،جنم لگن سے زیادہ مضبوط ہے تو چندر لگن کو جنم لگن پر ترجیح دینا چاہئیے۔ تاہم ، چونکہ جنم لگن کی اہمیت کو کبھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا لہذا بہتر ہے کہ چندر لگن کو ثانوی لگن کے طور پر استعمال کیا جائے۔
ہمیں چندر لگن سے گھروں کا مطالعہ مندرجہ ذیل صورتوں میں ضرور کرنا چاہئیے
(الف) جب چندر اچھی پکش بل میں ہو
(ب) جب کیندر میں ہو یا پھر ا س پر نظرات قوی ہوں
(ج) اپنے شرفی برج میں ہو
(د) زیر غور چارٹ عورت کا ہو۔
(ر) اگر ہورا ڈویژنل چارٹ (ڈی 2)کے قمری حصے میں بہت سے سیارے ہوں۔
کسی بھی چارٹ میں ان عوامل کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی چندر لگن کو استعمال کرنے کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہوگی۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں