امرتا شیر گل کا زائچہ
پنجاب کی شہزادی بمبا ،مہاراجا دلیپ سنگھ( جسے انگریزوں نے انگلینڈ جلاوطن کر دیا تھا) کی بیٹی تھیں۔ یہودی النسل میری انٹونیٹ شہزادی کی گورنس تھیں جن کا تعلق ملک ہنگری سے تھا جب پرنسس بمبا پنجاب متقل ہوئی تو وہ بھی اس کے ساتھ آئی ۔میری اینٹونیٹ کی کچھ عرصہ بعد ایک تقریب میں امراؤ سنگھ شیرگِل مجیٹھیا سے ملاقات ہوئی، دونوں میں محبت بڑھی جو شادی پر منتج ہوئی۔ یہ امراؤ سنگھ شیرگِل کی دوسری شادی تھی۔
ان دونوں نے شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی بڈاپسٹ (ہنگری) کا رُخ کیا جہاں ان کی پہلی بیٹی امرتا شیرگِل کی پیدائش ہوئی ۔امرتا شیرگِل کے والد امراؤ سنگھ شیرگِل اگرچہ پنجاب کے ایک بڑے جاگیردار تھے مگر برطانوی نو آبادیاتی نظام کے خلاف اور انڈیا کی تحریکِ آزادی کے حامی تھے۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال ان کے گہرے دوستوں میں شامل تھے۔ان کا انقلابی سیاسی جماعت غدر پارٹی سے بھی تعلق رہا جس کے باعث انگریز راج نے ان کے لیے سیاست کرنا ناممکن بنا دیا اور ان کی بہت ساری زمین بھی ضبط کر لی گئی۔
امرتا شیرگِل کے فن پاروں میں بھی روایت سے بغاوت نظر آتی ہے تو اس کی وجہ ہی یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ماحول میں پلی بڑھیں جس میں بغاوت رچی بسی تھی۔
امراؤ سنگھ شیرگِل اور میری اینٹونیٹ کا بڈاپسٹ (ہنگری) میں موجود اپارٹمنٹ جلد ہی ادب اور موسیقی کا مرکز بن گیا۔
ہنگری کے معروف شعرا، ادیب، موسیقار، کمپوزر اور اہل علم و دانش ان کے گھر میں ہونے والی تقاریب میں بطورِ خاص شریک ہوا کرتے۔
امرتا شیرگِل بچپن سے ہی اپنے والدین کے لیے دردِ سر بن گئی تھیں کیوں کہ وہ روایت پرستی سے کوسوں دُور تھیں جس کے باعث ان کے والدین ان کو ماہرِ نفسیات کے پاس بھی لے کر گئے۔
اداسیوں کے کینوس پر مصوری کرنے والی امرتا شیرگِل کی زیست کے کئی رنگ ہیں۔ان کے والد سکھ تھے، والدہ یہودی اور انہوں نے خود کیتھولک مذہب اختیار کیا۔ ایک اور بغاوت۔
امرتا شیرگِل کی چھوٹی بہن اندرا کی زیادہ دلچسپی موسیقی میں تھی۔ یہ خاندان پہلی جنگِ عظیم تک ہنگری میں قیام پذیر رہا۔
ہنگری میں قیام کے دوران ہی امرتا کا داخلہ اٹلی کے شہر فلورینس کے ایک کانونٹ میں کروا دیا گیا۔مگر امرتا کے لیے اس وقت مشکلات پیدا ہوئیں جب انہوں نے سادہ تصاویر بنانے کے بجائے ایک ایسی تصویر بنائی جو قابلِ گرفت تھی۔ان کی تصویر کے کردار برہنہ تھے اور اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ انہوں نے اپنے ملحد ہونے کا اعلان کر دیا۔
چنانچہ امرتا کو اٹلی سے واپس لوٹنا پڑا اور شیرگِل خاندان نے دوبارہ انڈیا کا رُخ کیا۔ وہ زیادہ عرصہ مگر انڈیا میں نہیں ٹھہرے اور امرتا جب 16 برس کی ہوئیں تو شیرگِل خاندان پیرس کے لیے روانہ ہوا، کیوں کہ امرتا اس وقت تک رنگوں کے سحر میں کھو چکی تھیں۔
ان کا داخلہ پیرس کے ایک معروف آرٹس سکول میں کروا دیا گیا۔ پیرس ایسے ماورائی شہر نے امرتا کے فن کو ایک نئی جلا بخشی۔
سنہ 1934 میں 21 برس کی عمر میں امرتا شیرگِل انڈیا واپس لوٹیں تو جدید انڈین آرٹ میں ان کے فن کے چرچے ہونے لگے۔
وہ مشرق کی روایت پرست عورت کی طرح اپنا جیون بیتانا نہیں چاہتی تھیں، اسی لیے انہوں نے ایک بار پھر خاندان سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے کزن اور دوست ڈاکٹر وکٹر ایگن سے شادی کر لی۔
میو سکول آف آرٹس کے باعث اس وقت تک لاہور برصغیر میں فنِ مصوری کا نمایاں مرکز بن چکا تھا۔
امرتا سے قبل انڈیا میں کوئی دوسرا مصوری کے آہنگ کو تبدیل کرنے کی جرأت نہیں کر سکا تھا، امرتا نے نہ صرف مصوری کے روایتی انداز سے بغاوت کی بلکہ مرد اور عورت کے فرسودہ تعلقات کی تشریح رنگوں کے دلچسپ امتزاج کے ساتھ کی۔
امرتا کی نجی زندگی بھی غیرمعمولی طور پر تلاطم خیز تھی۔ انہوں نے پہلا ابارشن 18 برس کی عمر میں کروایا۔
ہوا یوں کہ امرتا کے والدین نے ان کی شادی ایک مسلمان یوسف علی خان سے طے کر دی۔ چند ہفتوں بعد شادی ہونا طے پایا۔
یہ شادی تو نہ ہوئی مگر امرتا حاملہ ہو چکی تھیں۔
انہوں نے تب بڈاپسٹ کا رُخ کیا جہاں اگرچہ ابارشن کی قانونی طور پر اجازت نہیں تھی مگر امرتا کے کزن اور بعدازاں شوہر ڈاکٹر وکٹر ایگن ( ملحد) نے ان کا ابارشن کیا۔
امرتا اپنی لااُبالی زندگی کے باعث بدنام بھی خُوب ہوئیں۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ ان کے بہت سے دوست تھے۔ کچھ کا تو یہ خیال ہے کہ وہ ہر دو گھنٹے بعد دوست تبدیل کرلیتی تھیں اور انڈیا ایسے رُجعت پسند معاشرے میں ایسی زندگی کسی طور پر قابلِ قبول نہ تھی۔
یہ بحث اب بھی جاری ہے کہ کیا انہوں نے ایسی ہی زندگی گزاری؟ اس کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے کیوں کہ امرتا کے پاس وقت ہی کہاں تھا۔
وہ تو ہمہ وقت کینوس پر جُھکی رنگوں سے کھیلتی رہتیں، گویا اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔
وہ ایک شام کینوس پر جُھکتیں تو اگلی شام شاور لیتیں۔ امرتا کی تصاویر میں عورت کی آزادی کے منظر دکھائی دیتے۔
یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث فریدہ کاہلو اور امرتا شیرگِل کو فنِ مصوری میں حقوق نسواں کی جدوجہد کی بانی قرار دیا جاتا ہے۔
امرتا اپنی موت سے تین ماہ قبل اگست 1941 میں مستقل طور پر لاہور منتقل ہو گئیں جہاں انہوں نے 23 گنگارام مینشن میں ایک گھر کرایے پر لیا جس کی بالائی منزل پر امرتا کا سٹوڈیو تھا جب کہ وکٹر نچلی منزل پر اپنی پریکٹس کرتا تھا۔
امرتا پانچ دسمبر کو اپنی بے وقت موت سے قبل لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں اپنے فن پاروں کی نمائش کی تیاری کر رہی تھیں جب ان کی موت کی خبر نے شہر کے علمی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔
ہ بحث آج بھی جاری ہے کہ کیا امرتا کا قتل ہوا تھا کیوں کہ ان کے خاندان نے یہ دعویٰ کیا تھا اور ان کے خاوند وکٹر کو دوشی قرار دیا تھا جسے پولیس نے گرفتار بھی کیا تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور بار ابارشن کرواتے ہوئے جانبر نہ ہو سکی تھیں، وجہ جو بھی رہی ہو، پنجاب اور برصغیر نے ایک عظیم مصورہ کھو دی تھی۔ وہ ایک باغی رُوح تھی جس نے کبھی کسی کی پروا نہ کی تھی، زندگی کی بھی نہیں۔
یہ سات دسمبر کا دن تھا جب لاہور کے علمی حلقے امرتا کی ارتھی اٹھائے مال روڈ سے شمشان گھاٹ کی جانب بڑھ رہے تھے۔
امرتا اپنی 29 ویں سالگرہ سے کچھ روز پہلے ہی موت کی آغوش میں چلی گئی تھیں، انہوں نے زندگی سے غالباً وہ کچھ پالیا تھا جو وہ چاہتی تھیں۔ان کے فن پاروں کی نمائش کا انعقاد ان کی موت کے بعد کیا گیا۔
انہوں نے رنگوں سے ایک ایسی دنیا بسائی جسے امرتا کے چاہنے والے کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم تاریخیں اور واقعات/نکات
پیدائش : 30 جنوری 1913 بوڈا پسٹ ہنگری
وقت پیدائش : گیارہ بج کر تیس منٹ
وفات : 5 دسمبر 1941 لاہور
-امرتا کے والد شملہ کے راجا کے بیٹے تھے اور سنسکرت ، اردو کے عالم ، شوقیہ فوٹو گرافر تھے۔ (والد سے منسوب نوین گھر میں سورج اور بدھ مل کر بدھاتی یوگ بنا رہے ہیں)
-پانچ سال کی عمر سے مصوری کرنا شروع کی لیکن اس کی باقاعدہ تعلیم 8 سال کی عمر سے شروع کی ۔( شنی بدھ دشا ۔ کیرئر کے کارک شنی(زحل) پر پانچویں گھر ( جو آرٹ کا گھر ہے)سے کیتو کی نظر ( جو فلم اور فوٹو گرافی کا نمائندہ بھی ہے))
-بچپن میں امرتا عام بچوں سے بے حد مختلف تھی حتی کہ ان کے والدین نے اس کا نفسیاتی علاج بھی کروایا۔ بوڈا پسٹ ہنگری میں امرتا کے بچپن میں اس کے والدین مالی عسرت کا شکار رہے کیونکہ ان کی بہت سی جائیداد انگریز سرکار نے ضبط کر لی تھی ( چاند اور شنی ایک دوسرے کے بالمقابل چار ڈگری پر ایک دوسرے پر ناظر ہیں ، اس کے علاوہ چاند برج عقرب میں نیچ ہے۔ اس کے علاوہ چاند ساتویں گھر اکیلا ہے جو کیمادروم یوگ بناتا ہے جو ذہنی پریشانی لاتا ہے)
-پیانو اور وائلن بجائے کے علاوہ سٹیج ڈراموں میں بھی اداکاری کی ( طالع کا حاکم زہرہ گیارہویں گھر راہو کے ساتھ)
-یوسف علی خان کے ساتھ منگنی 1931 میں ہوئی جو یو پی کے تعلقہ دار راجا نواب علی خان کے بیٹے تھے ۔اسی حمل سےاٹھارہ سال کی عمر میں ابارشن –( شنی راہو دشا ۔ اس کے علاوہ پانچویں گھر میں کیتو کی موجودگی)
-یوسف علی خان سے وہ آتشک کے مرض میں مبتلا ہوئیں ۔( زہرہ کا راہو سے یکت ہونا)
-اٹلی میں کانونٹ تعلیم کے دوران ملحد ہونے کا دعوی کیا بعد ازاں کیتھولک مذہب اختیار کیا۔ (شنی گورو دشا)
-شنی ( زحل) راج یوگ کارک ہے اور پہلے گھر یعنی کیندر میں ہے اس کے علاوہ صرف بارہ فیصد سپیڈ کے ساتھ حرکت کر رہا ہے یعنی ساکن (حالت جمود ) میں ہے اسے لیئے طاقتور ہے
-شادی سے پہلے متعدد معاشقے ۔ (دریدرہ یوگ ۔ گیارہویں گھر کا حاکم آٹھویں میں، اس کے علاوہ طالع کے حاکم کا گیارہویں میں ہونا بھی متعدد معاشقوں کو جنم دیتا ہے۔ سراولی کے مطابق شنی کا برج ثور میں ہونا بھی اس کی وجہ بنتا ہے)
-مریخ آٹھویں گھر منگل دوش بنا رہا ہے۔ مریخ کی آٹھویں گھر موجودگی جنسی کشش کے علاوہ حامل میں جنسی اشتہا کو بھی بڑھاتی ہے
- شوہر سے مضبوط تعلق ۔ منگل دوش کے علاوہ نوانش کنڈلی میں ساتویں کے حاکم کا پہلے گھر ہونا
-مصوری کرنے ایک دن بیٹھتیں تو دوسرے دن شام کو اٹھتیں ۔ تیسرے گھر پر نحسین کی نظر
-سکتا یوگ ۔ چاند گورو سے بارہویں گھر ۔ بدقسمتی اور عسرت کی علامت
-عریاں تصاویر کی مصوری ۔ پاکی اور مذہب کے مظہر سیارہ گورو اور حس جمال کا مظہر سیارہ زہرہ کا نحس ہونا
- وفات بدھ کی مہا دشا میں ہوئی جو دوسرے گھر مراکا کا حاکم ہے


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں