دخترِقائد -دینا جناح واڈیا۔ علم نجوم کی روشنی میں

دینا جناح جو شادی کے بعد دینا واڈیا کہلائیں قائداعظم کی اکلوتی اولاد تھیں جن سے قائد اعظم کو بے پناہ محبت تھی ۔ ان کی پرورش والدہ(رتی جناح) کی وفات کے بعد قائد نے بہت پیارسے کی جس کا خمیازہ انہیں زندگی میں ہی بھگتنا پڑا اور دینا کے شادی کے انتخاب نے باپ بیٹی کے رشتے کوہمیشہ کے لیئے کاٹ دیا۔ بچپن میں وہ سیاہ آنکھوں والی خوب صورت، نازک اور دلکش لڑکی تھی۔ وہ اپنی ماں کی طرح ہنستی تھی اور اپنے مخاطبین کی طرح شوخی یا تنک مزاجی سے کام لیتی تھی۔ وہ باپ کے لاڈ سے بگڑی ہوئی بیٹی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی زندگی خاموشی سے بمبئی اور نیویارک میں گذاری اور طویل عمر پا کر 2017 نیویارک انتقال کیا ۔ انٹرنیٹ پر ان کی صرف دو چار تصاویر ہیں جن وہ مسکراتی دکھائی دیتی ہیں ۔ ۔ ان کے حالات زندگی عقیل عباس جعفری کے" ہم سب" ویب سائٹ پر چھپنے والے طویل مضمون اور" ڈان نیوز" ویب سائٹ پر اختر بلوچ مرحوم کے مضمون سے لیئے گئے ہیں ۔ اس مضمون میں ان کی زندگی کو علم نجوم کی روشنی میں دیکھنے کی کوشش کی جائے گی

برتھ ڈیٹا : 15 اگسٹ 1919 بمقام لندن انگلینڈ بوقت رات 00.10 بجے ۔ بروز جمعہ ۔
بچپن اور والدہ کی موت 
 اِن کی والدہ مریم جناح(رتی جناح) 20فروری 1929ء کو 29 سال کی عمر میں وفات پا گئیں، اس وقت دینا جناح کی عمر نو سال چھے ماہ تھی۔ (بدھ، بدھ، کیتو دشا )۔
ماتا استھان یعنی چوتھے گھر شنی کا قیام
پھل دیپکا ، ادھیائے8 اشلوکا 22 میں لکھا ہے
"اگر وقت پیدائش شنی چوتھے گھر پر قابض ہو تو ایسا شخص ، ناخوش، بے گھر، بلاسواری، ماں کے بغیر اور بچپن شروع کے سال بیمار رہے گا"
ماتا استھان چوتھے کا حاکم سوریا تیسرے گھر میں منگل سے یُکت جو چوتھے سے بارہواں ہے۔ سوریا کو معمولی نحس مانا جاتا ہے اور اس کے بعد منگل جو نیچ میں ہے اس سے یُکت ہوناا س کی نحوست میں اضافہ کر رہا ہے۔
ماں سے منسوبی سیارہ چندرماں پر راہو کی نہ صرف پانچویں نظر ہے بلکہ وہ سترو گرہا(دشمن گھر)میں ہے۔
جن لوگوں کا چندرماں نحوست کا شکار ہوجائے ان کے جذبات مجروح ہوتے ہیں ، انہیں بچپن میں ماں کی پوری توجہ نہیں ملتی اور ان کا بچپن بہت خوشگوار نہیں ہوتا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ رتی جناح کے اپنے خاندان اور کمیونٹی نے قائد سے شادی کی وجہ سماجی تعلقات منقطع کر دیے تھے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دینا کی پیدائش کے بعد رتی اس سارے سلسلے کی وجہ سے ذہنی دباو میں تھیں کہ نومولود کا نام کچھ عرصے تک رکھا نہیں جا سکا تھا ۔ اس دور کے اشرافیہ رواج کے مطابق بچوں کی دیکھ بھال گورنس وغیرہ کیا کرتی تھیں ۔ البتہ چندرماں پر اُچ گورو کی نظر کی وجہ سے نومولود کاذہنی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔ تاہم شنی کی من استھان چوتھے گھر میں موجودگی اس بات کی علامت ہے کہ سب کچھ میسر ہوتے ہوئے بھی دل نے خوشی کو گہرائی سے محسوس نہیں کیا اور وہ زندگی بھر خصوصا بچپن میں والدہ کے حالات کی وجہ سے رنجیدہ تھیں۔ زندگی کے اختتام (موت)پر ایسے لوگوں پاس بہت کم لوگ موجودہوتے ہیں اوریہ لوگ اپنے اندر سے سنجیدہ اور عموما تنہائی پسند ہوتے ہیں۔
قائد اعظم رتی جناح سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ شادی کے بعد وہ عدالت سے بلاناغہ وقت پر گھر تشریف لاتے اور ان سے گھنٹوں باتیں کرتے ۔ لیکن بدقسمتی سے ان کی شادی میں دراڑیں 1922کے لگ بھگ پڑنا شروع ہو گئیں تھیں جس کی بنیادی وجہ قائد اعظم کی بے پناہ سیاسی مصروفیات تھیں جن کی وجہ سے وہ خانگی زندگی کو وقت دینے سے قاصر تھے۔ وہ 1922 کے سال لندن منتقل ہو گئیں ۔ بقیہ سالوں وہ وقتا فوقتا ملتے اور اکٹھے چھٹیاں گذارتے رہے لیکن 1928 تک وہ عملی طور پر الگ ہو چکے تھے اور اسی سال رتی کینسر میں مبتلا پہلے لندن اور پھر فرانس علاج کے لیئے چلی گئیں جہاں ان کی وفات ہوئی ۔ ان کے بعد قائد نے ان کی پرورش کے لیئے اگرچہ گورنس کا انتظام کیا لیکن قائد کی سیاسی مصروفیات کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال زیاہ تر ان کا ننھیال کرتا رہا ۔
تعلیمی کارکردگی
دینانے تعلیم کا آغاز بمبئی میں ایک کاونونٹ سکول سے کیا اور بقیہ تعلیم لندن میں مکمل کی ۔لندن میں 3ستمبر 1936ءکو مس فرانسس براؤن نے قائداعظم کو ایک خط تحریر کیا جس میں انہوں نے مطلع کیا کہ وہ اپنی صحت کی خرابی اور ممکنہ آپریشن کی وجہ اسے اپنا اسکول بند کررہی ہیں۔ مس براؤن نے لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ دینا اس خبر سے دلبرداشتہ ہوگی کیونکہ اسے اپنے اسکول سے بڑی محبت ہے۔ لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔اسی خط میں مس فرانسس براؤن نے قائداعظم کو دینا کی ”پراگریس“ سے بھی مطلع کیا اور بتایا کہ وہ تاریخ اور انگریزی میں اچھی ہونے کے باوجود امتحان میں پاس نہیں ہوسکی ہے کیونکہ اس کی فرنچ، ریاضی اور نباتیات بہت کمزور ہے۔عمر 17 سال ،(بدھ، چندرماں،بدھ دشا)
چوتھے گھر شنی کی موجودگی تعلیمی ڈگری حاصل کرنے میں مشکلات پیدا کرتی ہے ۔سیارہ شکرنیچ میں ہے، شکر کا تعلق ریاضی سے بھی ہے جن لوگوں کا شکر اُچ میں ہوتا ہے وہ عموما ریاضی داں یا اکاونٹنٹ ہوتے ہیں ۔ اسی وجہ سے دینا کا ریاضی کا مضمون اچھا نہیں۔ذہانت کا فطری منسوبی سیارہ بدھ تیسرے گھر نہ صرف رابع ہے بلکہ ادھیسترو گرہا (برے دشمن کا گھر) میں ہے ۔ تیسرا گھر نہ صرف روزانہ امنگ کا گھر ہے بلکہ قوت ارادی ، عزم ،آرٹس ، شہری زندگی، میوزک ، ڈانس اور ڈرامہ کا بھی ہے ۔ جب کوئی سیارہ راجع ہوتا ہے تو اس کی قوت غیر متحرک ہو جاتی ہے جسے سائل اگر چاہے تو قوت ارادی سے حرکت اور کام میں لا سکتا ہے وگرنہ وہ حالت سکون میں رہتی ہے ۔ نصابی مضامین میں عمدہ کارکردگی نہ دکھانے کے باوجود ان میں مطالعے کا شوق بہت زیادہ تھا (گورو تیسرے گھر)۔ شاید انہیں اپنی تعلیمی کمزوری کا احساس تھا اور وہ اس کی کمی پورا کرنے کے لیئے کتابوں سے استفادہ کرتی تھیں۔
اس کے علاوہ گورو کا منگل سے مقرن ہونا گورومنگل یوگ بناتا ہے جوکہ راج یوگ ہے اور مشہور شخصیات کی کنڈلی میں پایا جاتا ہے۔
سماجی زندگی 
 دینا کو اپنی والدہ کی طرح سیر و تفریح اور سماجی تقریبات میں شرکت کرنے کا ازحد شوق تھا، قیام انگلستان کے دوران انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اس میدان میں خاصی سرگرمی کا مظاہرہ کیا۔ قائداعظم کو دینا کے اخراجات کا گوشوارہ باقاعدگی کے ساتھ وصول ہوتا تھا قائداعظم زندگی کے تمام معاملات میں اصراف کے سخت مخالف تھے لیکن دینا کے بارے میں ان کا یہ رویہ بالکل جداگانہ تھا اور وہ ان کی سیر و تفریح، تھیٹر، سینما، قیمتی لباس اور دیگر تمام اخراجات خندہ پیشانی سے ادا کیا کرتے تھے۔دینا چھٹی کے روز دوپہر اور رات کا کھانا اچھے سے اچھے ریستوران میں کھایا کرتی تھیں، بہترین ہوٹلوں میں قیام کرتی تھیں اور ایام تعطیلات میں کسی نہ کسی تھیٹر یا سینما گھر میں اعلیٰ ترین کلاس کا ٹکٹ خرید کر روز بلاناغہ شو دیکھا کرتی تھیں۔ مس فرانسس براؤن نے 30 جنوری 1932ءکو دینا جناح کے اخراجات کی جو تفصیل قائداعظم کو ارسال کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے دسمبر 1935ءمیں ایک ہفتہ کی تعطیلات لندن میں گزاریں اور اس دوران ہر روز شام کو وہ مہنگا ترین ٹکٹ خرید کر سینما گھر یا تھیٹر میں جاتی رہیں، قائداعظم نے یہ تمام اخراجات بڑی فراخ دلی سے بغیر کسی اعتراض کے ادا کردیئے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قائداعظم اپنی اکلوتی بیٹی سے کس قدر محبت کرتے تھے۔
تیسرے اور گیارہویں گھروں کے مالکان (چندرماں اور گورو)کا پری ورتن ۔ گیارہواں گھر دوستوں اور گروہی دلچسپیوں کا گھر ہے ، حامل کے زندگی کے بڑے مقاصد اور خواہشات اس گھر سے پڑھی جاتی ہیں، سائیڈ بزنس سے آمدنی بھی، جبکہ تیسرا گھر روزانہ کی بنیاد پر خواہشیں پوری کرنے کا گھر ہے۔تیسرا اور گیارہواں دونوں گھر چونکہ اوپچایا (بڑھوتری) کے گھر ہیں اس لیئے عمر بڑھنے کے ساتھ ان کا اثر زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ چندرماں کی گیارہویں میں موجودگی کا حامل دوستوں اور گروہی تفریحات میں حصہ لینا پسند کرتا ہے ، یا تو خود مشہور ہوتا ہے یا اس کی دوستی مشہور افراد سے ہوتی ہے خصوصا خواتین دوست منفرد ہوتی ہیں ۔ ایسے شخص کی زندگی میں مواقع خود بخود پیدا ہوتے رہتے ہیں اور زندگی کو اپنی مرضی سے گذارنا پسند کرتا ہے۔ یہاں چندرماں ستروگرہا (دشمن گھر)میں ہے۔
اگر چندرماں گیارہویں گھر میں ہو تو حامل اعلی خیالات کا مالک ہو گا ، لمبی عمر پائے گا ، مالدار ہو گا ، صاحب اولاد اور ملازمین کا مالک ہو گا(پھل دیپکا ، ادھیائے 8 اشلوکا 7)
تیزرفتاری کا شوق
 دینا بہت شوخ اور چنچل تھیں، وہ فاطمہ جناح سے چھپ چھپا کر ملازمین کو پیسے بھی دیا کرتی تھیں۔ خواجہ رضی حیدر اپنی کتاب رُتی جناح قائداعظم کی رفیقہءِ حیات کے صفحہ نمبر 146 پر لکھتے ہیں کہ "سید عبدالحئی، جو جناح صاحب کے ملازم تھے، اُنہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ محمد علی جناح کے پاس اُس وقت 5 گاڑیاں تھیں۔ دینا جناح کو کار چلانے کا بہت شوق تھا لیکن جناح صاحب مجھے منع کرتے تھے کہ دینا کو کار چلانے کو مت دیا کرو لیکن دینا اکثر مجھ سے ضد کرکے کار لے لیتی تھیں اور بمبئی کے مضافات کی سڑکوں پر بہت تیز ڈرائیونگ کیا کرتی تھیں۔ اُن کو موسیقی اور عمدہ کپڑے پہننے کا بھی شوق تھا جب ہم خریداری کرکے لوٹتے تو محترمہ فاطمہ جناح دینا کے بارے میں دریافت کرتی تھیں کہ وہ کہاں گئی تھیں اور انہوں نے کیا خریدا؟ جناح صاحب بھی اکثر مجھ سے پوچھتے تھے کہ کیا دینا نے کار چلائی تھی مگر میں ہمیشہ جھوٹ بول دیا کرتا تھا"۔
منگل کی تیسرے گھر میں موجودگی کا حامل مہم جوئی کا شوقین ہوتا ہے اور یہ تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کی خواہش کا اشارہ ہے اس کے علاوہ "اگر سوریا تیسرے گھر میں ہو تو حامل مضبوط ، بہادر، دولت مند اور آزاد خیال ہو گا لیکن اس کے رشتہ داروں سے تعلقات ناخوشگوار ہوں گے" ( پھل دیپکا، ادھیائے 8 اشلوکا 2) اس کے علاوہ سوریا چوتھے گھر کا حاکم ہے اور تیسرے گھر میں موجود ہے چوتھا گھر من استھان ہے اور سوریا روح سے منسوبی سیارہ بھی ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ حامل کو من کی خوشی تیسرے گھر سے منسوب افعال کر نے سے ملتی تھی جو گیارہویں سے بھی منسلک ہے۔

٭چارٹ میں آرٹس، موسیقی ، ڈانس ،سینما ،زیورات ،عمدہ کپڑوں،خوبصورت ماحول اور سماجی زندگی سے لگاو کے اشارے زیادہ ہیں۔

رومانوی مزاج
 28 اپریل 1947دینا نے شادی کے بعد کسی میگزین میں جھوٹی خبر پڑھنے کے بعد قائد اعظم کو یہ خط لکھا

"میں نے سنا ہے کہ آپ نے ”ساؤتھ کورٹ“ بیس لاکھ روپے میں ڈالمیا کو بیچ دیا ہے۔ یہ بہت اچھی قیمت ہے اور یقینا آپ بھی خوش ہوں گے۔مجھے بتایا گیا ہے کہ مکان کی قیمت میں فرنیچر اور رتی کی کتابیں بھی شامل ہیں۔ اگر ایسا ہے تو میری آپ سے درخواست ہے کہ رتی کی کتابوں میں سے کچھ کتابیں بالخصوص بائرن، شیلے اور آسکر وائلڈ کے شعری مجموعے مجھے دلوا دیجیے۔ آپ کو معلوم ہے کہ میں مطالعہ کی کتنی شوقین ہوں اور یہاں بمبئی میں اچھی کتابوں کا حصول کتنا مشکل ہے"
پانچواں گھر محبت کے تعلقات کا گھر بھی کہلاتا ہے اس میں شکر کا قیام۔ شکر نیچ میں ہے اس لیئے منفی اثرات دیئے۔ شاعری پڑھنا ان کا شوق تھا
شادی : عمر انیس سال آٹھ ماہ (بدھ ، راہو، راہو دشا): قائد اعظم کے مشورے کے باوجود دینا نے ایک پارسی نژادعیسائی نیول واڈیاسے شادی کرنے پر اصرار کیا جس پر قائد نے واضح کیا کہ اس طرح وہ دین اسلام سے خارج ہو جائیں گی اور والد سے ان کا کوئی شرعی رشتہ نہیں رہے گا ۔ اس کے باوجود دینا نے اسلام ترک کردیا اور15 نومبر1938ءکو نیول واڈیا سے شادی کرلی۔
خانہ اول میں کیتو کا قیام انسان کو داخلیت پسند ، شرمیلا اور اور ساتویں گھر پر اس کی نظر شادی شدہ زندگی کو نشیب وفراز کا شکار بناتی ہے ۔
مذہب کا کارک گورو آٹھویں (دشتنا کا گھر) اور گیارہویں گھر کا حاکم ہے اور تیسرے گھر میں اگرچہ اُچ ہے لیکن سوریا ، منگل اور راجع بدھ سے یُکت ہے ، راہو کی اس پر نویں نظر ہے ،جس نے ان کی زندگی میں مذہب کو ثانوی حیثیت دی۔
ساتویں میں راہو کا قیام دور اندیشی کی کمی اور آزادی عمل کا مظہر ہے
ساتویں کا حاکم منگل جو نیچ میں ہے تیسرے گھر موجود جس پر راہو کی نویں نظر بھی ہےمیں،
اس کے علاوہ خانہ زوج کے برج عقرب کی خصوصیت میں بظاہر پرسکون لیکن بباطن شدید جذباتی ہونا ہے اور اس کے لوگ پس پردہ رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں، اور اپنی کر کے رہتے ہیں۔
جنم کنڈلی کیندر میں نحسین(راہو ، کیتو اور شنی) کا قبضہ۔ سرپا یوگ۔ حد سے زیادہ آزادی عمل اور فکر، لڑکی کا شادی کے سلسلے میں اپنی مرضی کرنا
اتنے سب منفی عوامل نے مل کر انہیں اپنی مرضی کر گذرنے پر اکسایا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے قائد نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں ۔ دینا کو قرآن پاک پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
علیحدگی : شادی پانچ سال سے زیادہ عرصہ نہ چل سکی اور دونوں میں 1943 میں علیحدگی ہوگئی۔ عمر چوبیس سال تین ماہ (بدھ ، شنی ، بدھ دشا۔ یہ اندازے پر مبنی ہے کیونکہ صحیح ماہ کا پتہ نہیں)
شادی کے باب میں بیان کردہ نکات کے علاوہ نوانش کنڈلی کے پہلے میں شنی کا قیام جو نوانش کے ساتویں پر بھی نظر کر رہا ہے۔
اولاد : دینا کے دو بچے ہیں، ایک بیٹا نصلی واڈیا اور ایک بیٹی ڈیانا واڈیا جن کی پرورش دینا نے خود کی۔ بیٹے نُصلی این واڈیا ،واڈیا گروپ کے چیئرمین بھی ہیں ۔
شکر کا پانچویں گھر قیام ، پھل دیپکا کے مطابق اس گھر شکر قیام کا مطلب بااثر،مشہور اور صاحب اولاد ہونا ہے۔
مالی فراغت و آسائش: لگن کے مالک کا ترکون استھان (پانچویں )میں ہونا ۔اچھی صحت، آرام آسائش۔
پانچواں گھر سٹاک ایکسچینج وغیرہ میں پیسہ لگانے کا بھی ہے شاید انہیں انویسٹمنٹ کا شوق بھی ہو گا۔
شکر کا چوتھے گھر میں ہونا ۔کاروں ، زیورات اور خوبصورت ماحول میں گذر بسر
چندرماں کا گیارہویں گھر میں ہونا۔اچھی آمدنی ، مالی مواقع کی دستیابی،جلد دولت حاصل کرنا، حسب خواہش زندگی بسر کرنا
پاکستان کا دورہ: گیارہ ستمبر 1948 ء کو جب قوم کا عظیم قائد اِس جہانِ فانی سے کوچ کرگیا تو انکے آخری دیدار کےلیے دینا کو خصوصی طیارے کے ذریعے انڈیا سے پاکستان لایا گیا. وہ اپنے والد کی قبر پر بس زاروقطار روئے جارہی تھیں۔جب 1948ء میں قائداعظم کا انتقال ہوا تو دینا واڈیا ان کا آخری دیدار کرنے کے لیے کراچی آئیں، پھر وہ ممبئی سے نیویارک منتقل ہو گئیں۔وہ اپنی زندگی میں کُل 4 مرتبہ پاکستان آئیں ، 1948 والد کی وفات اور اس کے بعد اپنی پھوپھی فاطمہ جناح سے ملنے دو دفعہ ۔ آخری دفعہ سنہ 2004 میں ایک مرتبہ وہ پاکستان آئیں جب بھارتی کرکٹ ٹیم چودہ سال کے طویل وقفے کے بعد پاکستان آئی تھی تو اس سیریز کے دوران بھارت سے آنے والی شخصیات میں قائداعظم محمد علی جناح کی صاحبزادی دینا واڈیا قابل ذکر تھیں۔ شہریارخان نے اپنی کتاب ' کرکٹ کالڈرن' میں انکشاف کیا ہے کہ دینا واڈیا سرکاری مہمان کی حیثیت میں پاکستان آنے کے لیے تیار نہ تھیں۔
ان کا انتقال 2 نومبر 2017 بروز جمعرات نیویارک میں ہوا اس وقت ان کی عمر 98 برس تھی ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga