زائچے میں جامد سیارہ اوراس کی اہمیت
زائچہ پیدائش کی تعبیر کرتے ہوئے ایک اہم بات جو زیادہ تر نظر انداز ہو جاتی ہے وہ کسی سیارے کا ساکت( Stationary) ہونا ہے ۔ کوئی سیارہ اس وقت ساکت تصور ہوتا ہے جب وہ سیدھی سے الٹی چال کے لیئے مڑ رہا ہو یا الٹی چال سے سیدھی چال کے لیئے مڑ رہا ہو( زمین سے دیکھنے والے شخص کی آنکھ کو بظاہر ایسا دکھائی دے وگرنہ حقیقتا وہ سیارہ اپنے مدار میں آسمان پرمعمول کے مطابق رواں دواں رہتا ہے) اس کا مڑنا /ساکت ہونا بعض اوقات کئی دنوں یا ہفتوں پر محیط بھی ہو سکتا ہے۔ صرف پانچ سیارے ساکت ہو سکتے ہیں زحل ، مشتری ، زہرہ ، مریخ اور عطارد ۔ قیمتا دستیاب سوفٹویئر مثلا سولر فائر وغیرہ کے اندر اسے ناپنے کی سہولت دستیاب ہوتی ہے لیکن ویدک آسٹرالوجی کے سوفٹویئر بعض اوقات کچھ سیاروں کو غلط طور پر ساکت دکھا رہے ہوتے ہیں یا اس کی سہولت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔ اس لیئے کوئی سیارہ مقام کے لحاظ سے کس حالت میں ہے اس کا اندازہ آسٹرالوجر کو تقویم (Ephemeris)کے ذریعے لگانا چاہئیے۔ مندرجہ ذیل تصویر میں دیکھئیے سیارہ زحل سیدھی سے الٹی چال کے لیئے 22 تاریخ مڑنے کے لیئے ساکت ہوا اور 30 تاریخ الٹ چال چل پڑا ۔
ساکت حالت میں وہ سیارہ زائچے میں سب سے زیادہ اثر اور طاقت کا حامل تصور ہوتا ہے ۔مثلا اگر کسی بھی گھر میں عطارد ساکت حالت میں ہے تو وہ شخص ضرور لکھاری یا مقرر ہو گا بھلے بقیہ زائچے میں اس کی کوئی علامت نہ ہو ۔ یا اگر مشتری ساکت ہو تو وہ شخص ضرور وکیل یا مذہبی رہنما ہو گا ۔ یہ سیارہ جن گھروں کا حاکم ہو گا وہ بھی طاقت میں زیادہ سعد یا نحس ہو ں گے ۔اس سے یہ تصور نہیں کرنا چاہئیے کہ سو فیصد ہر زائچے میں ایسا ہو گا بلکہ نکتے کی بات یہ ہے کہ اس سیارے کا اثر سب سے گہرا اور دیرپا ہوگا اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے ۔
اسے ناپنے کا ایک عام ٹوٹکا یہ بھی ہے کہ اگر کوئی سیارہ اپنی روزانہ اوسط رفتار سے 30 فیصد پر چل رہا ہو تو وہ ساکت تصور ہو گا۔ سیاروں کی عام اوسط رفتار مندرجہ ذیل ہے ۔ چونکہ ہر سیارے کی ہر اپنی رفتار اور مدار کی طوالت ہے اس لیئے آسٹرالوجر کو تقویم دیکھ کر اپنے لیئے اس اوسط رفتار کا تعین خود کرنا چاہئیے۔
-زحل ۔ 2 منٹ 1 سیکنڈ
-مشتری ۔ 4 منٹ 59 سیکنڈز
-مریخ 31 منٹ 27 سیکنڈز
-زہرہ ۔ 59 منٹ 8 سیکنڈز
-عطارد ۔ 59 منٹ 8 سیکنڈز

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں