ایک برطانوی قاتلہ نرس کی کہانی
جولائی 2018 کی ایک صبح اٹھائیس سالہ برطانوی نرس لوسی لٹبی کے گھر پہ برطانوی پولیس نے چھاپہ مارا اور اسے اُلٹی ہتھکڑیاں ڈال ہمراہ لے گئی وہاں پولیس کسی شخص کو اسی وقت گرفتار کرتی ہے جب اس کے پاس تفتیش کے بعد اتنے ٹھوس شواہد اکٹھے ہو جائیں جس کی بنا پہ مقدمہ کھڑا کیا جا سکے۔ اسپتال قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی نرسری میں کام کرنے والی اس نرس پر الزام تھا کہ اس نے برطانوی شہر چیسٹر کے کاونٹیس آف چیسٹرشائر ( برطانوی اس کا ا تلفظ چیشائر کرتے ہیں) اسپتال میں ڈیوٹی کے دوران سات نوزائیدہ بچوں کو قتل کیا اوردس کو زخمی کیا ۔اس نے یہ جرائم جون 2015 سے جون 2016 کے دوران انجام دیے ۔ وہ پہلی دفعہ اس وقت مشتبہ ٹھہری جب اس اسپتال میں مرنے یا نقصان پہنچنے والے بچوں کی سالانہ شرح چوگنی ہو گئی جبکہ ماضی میں یہ شرح معمول سالانہ تین بچے کے آس پاس تھی ۔ یہ تمام واقعات اس نرس کی بچوں کی نرسری میں ڈیوٹی کے دوران پیش آئے ۔ یوں اپنی سنگینی اور بے مثال واقعے کی وجہ سے یہ کیس ہائی پروفائل کیسز کی صف میں شامل ہو گیا ۔ تحقیقات کے بعد یہ مقدمہ عدالت میں چلتا رہا اور دنیا بھر کے اخبارات کیدلچسپی اس مقدمے سے رہی جس کا فیصلہ اسی مہینے 24 اگست 2023 میں ہوا ہے جس میں جج اور جیوری نے طویل غور و خوض کے بعد اس نرس کو تاعمر قید ( یعنی وفات تک) کی سزا سنائی ہے ۔ دنیا بھر میں جہاں اس سزا کے حق میں اکثریت کی رائے پائی گئی ہے وہاں اس سزا کے خلاف بھی آراء موجود ہیں کیونکہ یہ سزا واقعاتی شہادتوں کی بنا پر سنائی گئی نہ کہ عینی شواہد کی بنا پہ ۔ ( اگرچہ کچھ عینی شاہدین کا بیان اس طرف مدھم اشارے کرتا ہے) ۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ لوسی نے مقدمے کے دوران تمام الزامات سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ "میں اکیلی لڑکی یہ سب کیسے کر سکتی ہوں" ۔ماہرین نفسیات ابھی تک متفقہ طور پر اس جرم کے بنیادی نفسیاتی محرک پر انگلی رکھنے میں کامیاب نہیں ہوئے ایک آدھ نفسیات دان نے یہ کہا ہے کہ یہ " منچوسان سنڈروم بائی پراکسی " ہو سکتا ہے جس میں کوئی ماں یا معالج کسی بچے کو اس لیئے بیمار کرتا یا ظاہر کرتا ہے کہ اسے خود دوسروں کی توجہ مل سکے جس کی اس کے اندر شدت سے خواہش ہوتی ہے۔
ایک امریکی ماہر نفسیات کی یہ رائے ہے کہ اگرچہ وہ مکمل سائیکو پیتھ ( خلل دماغ کا شکار شخص یا خاتون)نہیں ہے لیکن اگر اسے اس نفسیاتی پیمانے پر جانچا جائے تو ا س کی شخصیت اس معیار کے قریب ہے پھر ایک کی رائے تھی کہ وہ سادیت پسند ( دوسروں کو اذیت دے کر محظوظ ہونے والا شخص) ہے تو تیسرے کا کہنا تھا وہ نرگسیت اور گاڈ سنڈروم کا شکار تھی (گاڈ سنڈروم کی ایک جھلک دیکھنی ہو تو انڈین مووی " انکور اروڑہ مرڈر کیس" ضرور دیکھیں) یہ سب آراء اس لیئے متضاد ہیں کہ لوسی لٹبی کی گذشتہ زندگی معمول کے مطابق تھی اور اس میں کوئی ایسے واضح اشارے نہیں ملتے جس سے اسے نفسیاتی مجرموں یا مریضوں کی کسی واضح کیٹیگری میں رکھا جا سکے ۔
لوسی کے دوران کار اچھے برتاو کی وجہ سے اس کے قریبی دوست ، اسپتال میں کام کرنے والے ہمکار حتی کہ مرنے والے بچوں کے چند والدین بھی اب تک یقین کرنے کو تیار نہیں کہ لوسی ایسا کچھ کر سکتی ہے ۔ وہ دوستوں کے ہمراہ سماجی تقریبات میں شمولیت اختیار کرتی تھی اور اس کی ان تقریبات میں مسکراتے ہوئے کئی تصاویر انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں ۔
اسی طرح ماہرین قانون بھی اسی دبدھا کا شکار ہیں کچھ کہنا ہے کہ اگر مقدمے میں پیش کیئے گئے شواہد کو دیکھا جائے تو یہ کیس بنتا ہی نہیں ہے جبکہ مخالف کیمپ واقعاتی شہادتوں کو کافی سمجھ رہا ہے ۔
استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ ایک وجہ/ الزام یہ تھا کہ لیٹبی نے ایک ساتھی ڈاکٹر کی ہمدردی/محبت حاصل کرنے کے لیے، جس کے لیے وہ ’پاگل‘ ہوچکی تھی اپنی نگہداشت میں موجود بچوں پر حملہ کیا اور انہیں مار ڈالا۔
یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ خود کو اس (ڈاکٹر) کی توجہ کا مرکز بنانا چاہتی تھی۔
مقدمے کے دوران، لیٹبی نے اس سال 16 فروری تک جذبات کا کوئی اظہار نہیں کیا تھا ۔جب وہ ڈاکٹر، جس کی قانونی وجوہات کی بنا پر شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی، حلف اٹھانے کے بعد اپنے نام کی تصدیق کی۔لیٹبی اور گیلری میں موجود لوگ شادی شدہ رجسٹرار (برطانوی اسپتال میں زیر تربیت ڈاکٹر جو سپیشلسٹ بننے کی تربیت حاصل کر رہا ہوتا ہے ) کو نہیں دیکھ سکے کیونکہ انہوں نے سکرین کے پیچھے سے اپنا بیان دینے کو کہا تھا۔
اس کی آواز سننے پر نرس کے آنسو نکل آئے جب وہ اچانک اپنی سیٹ چھوڑ کر باہر جانے والے دروازے کی طرف چل پڑی۔
جب اس کا گواہی دینے کا وقت آیا تو اس نے کہا کہ وہ ڈاکٹر سے ایک ’قابل اعتماد دوست‘ کی حیثیت سے پیار کرتی ہیں لیکن رومانوی طور پر اس کی محبت میں گرفتار نہیں تھیں۔
اس نے استغاثہ کے ان دعوؤں کی تردید کی کہ وہ ڈاکٹر سے ’انتہائی متاثر‘ تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کا اپنا خفیہ بوائے فرینڈ موجود ہے اسے ڈاکٹر کی توجہ حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔
پولیس کو لوسی کے گھر چھاپے کے دوران تلاشی میں لوسی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چند پرچیاں ( سٹکی نوٹس)ہاتھ لگیں تھیں جس میں مبینہ طور پر اس نے اپنے خیالات چند فقروں میں لکھے تھے اور ان پرچیوں کومقدمے میں ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا تھا اور مقدمے کے اختتام پر پبلک بھی کر دیا گیا ہے۔ ان پرچیوں میں سے ایک پر اس نے لکھا" میں بُری ہوں کہ میں نے یہ کام کیا "۔
انہوں نے یہ بھی لکھا
’میں زندہ رہنے کے لائق نہیں ہوں۔ میں نے انہیں جان بوجھ کر مارا کیونکہ میں ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے مناسب نہیں ہوں۔ میں کبھی شادی نہیں کروں گی اور نہ ہی بچے پیدا کروں گی۔ میں کبھی نہیں جان پاؤں گی کہ خاندان کا ہونا کیسا ہوتا ہے۔‘ ۔
مقدمے کے دوران لٹبی نے عدالت کو بتایا کہ یہ نوٹس، جو اسے پولیس تحقیقات کے دوران کام سے معطل کیے جانے کے بعد لکھے گئے تھے، اس کی ڈیوٹی کے دوران زیر نگرانی بچوں کی موت کے بعد اس کی ذہنی پریشانی کو ظاہر کرتے تھے اور میری اس پریشانی کو مجھ پر الزام نہ بنایا جائے۔
اس تحریر میں ( جو چند قسطوں پر مشتمل ہو گی) آسٹرالوجی کی مدد سے لوسی کی شخصیت کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
لوسی کی تاریخ پیدائش تو یقینی ہے لیکن وقت پیدائش انٹرنیٹ پہ دستیاب نہیں ہے چناچہ تین عوامل کی بنیاد پہ میں نے اس کا وقت پیدائش صبح نو بج کر تیس منٹ فرض کیا ہے پہلا یہ کہ لوسی کا تعلق ایک معمولی گھرانے سے ہے اور اس کی والدہ ایک اکاونٹ کلرک ہیں اور والد کاروں کے ریڈی ایٹر کا بیوپار کرتے ہیں ۔ یہ والدین کی اکلوتی اولاد ہے۔دوسرے یہ کہ نرسنگ کا پیشہ اس نے برضا رغبت اختیار کیا تھا کیونکہ اس کی بچپن کی دوست کا کہنا تھا کہ لوسی کی اپنی پیدائش کے وقت ماں اور بچے کو شدیدمشکلات پیش آئیں تھیں اور صرف ڈاکٹرز اور نرسز کی کوششوں کی وجہ سے دونوں کی جان بچ پائی تھی اس لیئے لوسی شروع ہی سے بچوں کی نگہداشت کے شعبے میں تعلیم حاصل کر کے نرس بننا چاہتی تھی ۔ اس کے علاوہ وہ سالسا ڈانس میں مہارت حاصل کرنے کے لیئے ایک ڈانس سکول میں کلاسز بھی لے رہی تھی ۔وقت پیدائش 9:30 کرنے سے چارٹ تینوں عوامل کے مطابق ہو جاتا ہے۔
لوسی لٹبی کے کیس میں پولیس نے جو سب سے مضبوط شہادت عدالت میں پیش کی تھی وہ لوسی کے اپنے خیالات تھے جو چند فقروں کی صورت میں چٹوں پر لکھے ہوئے اس کے گھر سے برآمد ہوئے تھے۔ یہ اس نے اسوقت تحریر کیئے تھے جب وہ بچوں کی موت کے بعد اسپتال کے کام سے معطل ہو چکی تھی اور پولیس اس سے تفتیش کر رہی تھی ۔ وہ فقرے مندرجہ ذیل ہیں" میں نے انہیں خود قتل کیا کیونکہ میں اچھی نہیں ہوں"
" میں چاہتی ہوں کہ کوئی میری مدد کرے لیکن وہ نہیں کر سکتے تو اس کا فائدہ بھی کیا ہے ، مجھے اپنی زندگی سے نفرت ہے"
" جس طرح میں محسوس کر رہی ہوں کوئی بھی ان جذبات کو نہیں سمجھ سکتا"
"کسی کو یہ سمجھ نہیں آئے گی کہ اصل میں کیا ہوا تھا، میں ایک ناکام فرد ہوں "
" بہت کچھ بدل چکا ہے ، اب ماضی میں واپس جانا ممکن نہیں ہے"
" میں بہت بری ہوں کہ میں نے ایسا کیا""
" یہ سب کچھ مجھے اندر سے مار رہا ہے"
لیکن لوسی نے عدالت یہ تو اقرار کیا کہ یہ نوٹس اس کے لکھے ہوئے لیکن اس کا یہ کہنا تھا کہ ان فقروں کا غلط مطلب لیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت وہ بہت پریشان تھی اور اس کے خیالات الجھے ہوئے تھے ۔
لوسی کے چارٹ پر نظر دوڑائیں تو اس میں سب سے نمایاں چیز جس پر سب سے پہلے نظر پڑتی ہے وہ کیمدروم یوگ ہے جس میں چاند کسی گھر میں تنہا ہوتا ہے ۔ اس گھر سے دوسرے اور بارہویں گھر میں سورج کے علاوہ کوئی اورسیارہ موجود نہیں ہوتا ( راہو کیتو اس یوگ میں شامل میں نہیں ہوتے) اور لگن سے کیندر میں بھی کوئی سیارہ موجود نہ ہو( برہت پراشرا ہورا شاستر)۔اگرچہ بعض جدید مصنفین کچھ اور شرائط بھی بیان کرتے ہیں اور کچھ حالتوں میں اس کے کینسل ہونے کو بھی بیان کرتے ہیں لیکن کلاسیکی کتب میں جو بیان ہے وہی مستند ہے ۔
آگے بڑھنے سے پیشتر یہاں جوتش میں چاند کی اہمیت کچھ بیان کرنا ضروری ہے ۔ اس سسٹم میں چاند کی اہمیت مرکزی ہے کیونکہ جوتش کا علم چاند کی گردش پر استوار ہے اسی طرح جس طرح مغربی نجوم کی بنا سورج پر ہے ۔ چاند جوتش میں دوسرا لگن ہے یہ ذہنی سکون کا حکمران سیارہ ہے ، آسائش ، حامل کی عمومی ذہنی صحت مندی اور قسمت کی علامت ہے ۔ اگر چاند چارٹ میں اچھی حالت میں سعد سیارگان کے ساتھ ہے اور اس پر نحس سیارگان کی نظر نہیں ہے تو ایسا شخص پُرعتماد ہوتا ہے ، جب کسی محفل میں داخل ہوتا ہے تو لوگ اس کا نوٹس لیئے بغیر رہ نہیں پاتے ، ان میں ایک مقناطیسی صلاحیت ہوتی ہے ۔ اگر چاند کسی وجہ سے نحس ہے تو دنیاوی کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے ، آرام ، سکون اور خوشی کا احساس ساری زندگی خواب ہی رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ چاند کو چارٹ میں تنہا نہیں ہونا چاہئیے ۔ بہتر تو یہ ہے کہ چاند کسی سعد سیارے کے ساتھ یکت ہو وگرنہ دوسرے اور بارہویں گھر سعد سیارگان ہونے چاہئیں اگر یہ سب نہ ہوتو بھی چاند کو تنہائی سے بچانے کے لیئے کم از کم کوئی نحس سیارہ ہی اس کے ہمراہ ہو وگرنہ اکیلا چاند بہت سی اقسام کے مسائل کا باعث بنتا ہے ۔
کلاسیکی کتب میں کیمدروم یوگ کے اثرات مندرجہ ذیل بیان کیئے گئے ہیں
کیمدروم یوگ کے ساتھ پیدا ہونے والا شخص چاہے وہ کسی شاہی گھرانے سے تعلق ہی کیوں نہ رکھتا ہو ، وہ غمگین ، میلا کچیلا اور ایسے کام انجام دے گا جو خاندانی وقار کے منافی ہوں گے ۔(برہت جٹاکا)
کیمدروم یوگ کے ساتھ پیدا ہونے والا شخص بھلے شاہی خاندان سے ہی کیوں نہ ہو ، مصیبت کا مارا ، گمنام ۔ بری عادتوں کا شکار ، منگتا، معمولی پیشوں سے روزی پیدا کرنے والا اور نیچ (برے) کاموں کی طرف مائل شخص ہوتا ہے ( پھل دیپکا ادھیائے 6 اشلوک 7)
۔۔۔۔۔۔۔ایسا شخص زمانے کی لعن طعن کا نشانہ بنتا ہے ، کم عقل اور مصائب کا شکار ہو گا ( برہت پراشرا ہورا شاستر ادھیائے 11 اشلوک 13)
واضح رہے کہ مصائب کا مطلب یہاں جسمانی اور ذہنی دونوں سے مراد ہے۔نیچ کاموں سے مراد ہر وہ کام ہے جو قانون ، اخلاق، شریعت اور سماجی اصولوں کے خلاف ہے ۔
قدیم حکماء نے اس یوگ کے اثرات تو بیان کر دیئے لیکن یہ نہیں بتایا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ اسے سمجھنے کے لیئے جدید علم نفسیات سے مدد لی جا سکتی ہے ۔ کیمدروم یوگ کے لوگوں کئی اور علامات مثلا احساس تنہائی وغیرہ کے علاوہ ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ ان کا "سیلف کونسپٹ "غلط ہوتا ہے ۔ اسکے کئی اجزا ہوتے ہیں
ا۔ اپنی شخصیت کا مسخ شدہ ذہنی تصور
ب۔ احساس کمتری
ج ۔ ناکام ہونے کا خوف
د ۔ اپنا آپ معاشرے کی طرف سے سے رد کیئے جانے کا خوف
چ ۔ ماضی کی ناکامیوں کا خوف
ح ۔ ماضی میں کی گئی ایسی خطائیں جنہیں معاشرہ بہت برا سمجھتا ہے ، ان کے آشکار ہونے کا خوف
کیمدروم یوگ کے نتائج کو ایک دوسری جگہ سے بھی تقویت ملتی ہے اور وہ لگن کے حاکم کا بارہویں گھر پہ ہونا ہے ( اسے آو یوگ کہتے ہیں( عمران صاحب نے صحیح نشاندہی کی ہے کہ آو یوگ کی شرائط اس سے زیادہ ہیں جو میں نے بیان کی ہیں اس یوگ سے متعلق ان کا تبصرہ کمنٹ سیکشن میں پڑھیں)) ۔ پھل دییپکا کے مطابق اس کا حامل کم یا کسی اہمیت کا حامل نہیں ہوتا ، طویل عمر نہیں پاتا ، اسے زندگی میں کئی بار بے توہین کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، عیاری کے حامل افرد کی صحبت میں بیٹھتا ہے اور برے اخلاق کا حامل ہوتا ہے ۔
جدید ماہرین نجوم اس کے اثرات میں ذات پر اعتماد کی کمی ، اپنی شخصیت کا مسخ تصور ، کمزور صحت ، ناخوشگوار بچپن، مشکلات کا شکار رہنا ، بہت نچلے درجے سے کیرئر کا آغاز قانون اور کورٹ کیسز میں زد میں آنے کا رحجان کے علاوہ زندگی میں اسپتال یا جیل یا کسی محدود جگہ بند رہنے (بطور پیشہ یا مجبوری) کے دورانئیے آئیں گے ۔ اس کے علاوہ ایسے اشخاص جنسی اختلاط میں بہت تلذذ پاتے ہیں البتہ اگر بارہویں میں شنی (زحل) موجود ہو تو یا تو جنسی تلذذ بہت زیادہ ہوتا ہے یا بلکل نہیں ہوتا ( درمیانی کیفیت نہیں ہوتی) ۔
بارہویں گھر میں لگن کے حاکم شنی کے علاوہ سوریا بھی براجمان ہے اور دونوں کے درمیان صرف دو ڈگری کا فرق ہے (سوریا جو کہ معمولی نحس مانا جاتا ہے اس طرح مکمل نحس ہو گیا ہے) سوریا کا اس طرح نحس ہونا اس بات کی علامت ہے کہ لوسی اپنے والد کے ساتھ خوشگوار ذہنی مطابقت محسوس نہیں کرتی یا ان کے والد لوسی کے بچپن میں اپنی پیشہ ورانہ مصروفیت کی وجہ سے لوسی کو مطلوبہ وقت نہیں دے پائے ۔
کیمدروم یوگ کے نتائج کو تقویت ایک اور جگہ سے بھی ملتی ہے اور وہ ہے شنی سوریا کا بارہویں گھر یکت ہونا ( اس کے علاوہ شنی کا لگن کا حاکم سیارہ بھی ہونا) ۔ اس کے اثرات کے حامل افراد اپنے آپ کو دنیا سے الگ کٹا ہوا محسوس کرتے ہیں ، خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے ۔ بارہواں گھر ذہن لاشعور کا گھر بھی مانا جاتا ہے کیونکہ ابھی تک ہم اس کے بارے میں مکمل طور نہیں جانتے سکے لیکن اس کے اثرات کے بارے میں جانتے ہیں ( جب ہم عالم خواب میں ہوتے ہیں یا جن لوگوں کو نیند میں چلنے کا عارضہ لاحق ہوتا ہے ، نیند کی وجہ سے اگرچہ ان کے حواس معطل ہوتے ہیں لیکن وہ لوگ نیند سے اٹھ کر چلنے پھرنے کے بعد اسی طرح سو جاتے ہیں اور صبح انہیں یاد بھی نہیں ہوتا کہ وہ رات کو اپنے کمرے کی چیزیں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتے رہے ہیں یا سیڑھیاں کسی ہوشمند انسان کی طرح چڑھ کر واپس اتر گئے تھے اس وقت ذہن لاشعور ہی انہیں کنٹرول کر رہا ہوتا ہے ۔ ماہریننفیسیات کا ماننا ہے کہ ایسے لوگوں کے لاشعور مین کچھ ایسے قضیئے دفن ہوتے ہیں جنہیں بچپن میں حل نہیں کیا گیا اور وقت گذرنے کے ساتھ وہ پیچیدہ ہو چکے ہیں جن کی گانٹھیں کھولنا مناسب نفسیاتی علاج سے ضروری ہوتا ہے ۔ (بارہویں گھر شنی سوریا کے علاوہ یورینس اور نیپچون بھی موجود ہیں اور نحس سیارگان ہیں)شنی سوریا کا یکت ہونا ذہنی یا جسمانی اکڑاو/ سختی کی نشاندہی بھی کرتا ہے ۔ اس بات کا تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ کہ یہ اکڑاو پہلے ذہن میں پیدا ہوتا اور اس کے بعد جسم کے حصوں خصوصا کمر اور کمر کے نچلے حصوں میں پیدا ہوتا ہے یا پھر یہ کیفیت پہلے جسم میں پیدا ہوتی ہے اور پھر ذہن کو متاثر کرتی ہے ۔
شنی تقریبا پچاسی فیصد محترق ہے ۔ محترق شنی کا سوریا کے ساتھ بارہویں گھر موجود ہونے کے حامل لوگ زندگی میں ایک یا ایک سے زیادہ دفعہ گورنمنٹ کے عتاب کا نشانہ بنتے ہیں لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس میں ان کا قصور ہو یا نہ ہو ( بارہویں گھر سے چھٹے گھر ساتویں نظر)
چونکہ میں لوسی کی شخصیت کے تجزیے سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اس نے ایسا جرم کیوں کیا تو لوسی کے پانچویں گھر جو ذہن کا گھر بھی کہلاتا ہے اس پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے ۔ پانچویں گھر ر راہو کی نظر ہے اور یہ راہو دائریکت ہے یعنی معمول سے کچھ زایدہ طاقتور ہے اس کے حامل افراد دنیاوی دنیاوی مرتبہ اور قوت حاصل کرنے خواہش مند ہوتے ہیں اس کے ساتھ ہی مریخ کی ساتویں نظر بھی موجود ہے ۔ مشرقی معاشروں میں خاتون کے زائچے میں ایسی نظر ہو تو وہاں ایسی خاتون کے نوزائیدہ بچے کی جلد وفات ہونے کی توقع ہوتی ہے یا اولاد نہیں ہوتی البتہ مغربی معاشروں میں یہ ابارشن کی علامت بھی ہے
ساتویں گھر کیتو (ڈائریکٹ) کی چندرماں پہ نظر ہے ۔ اس کے حامل افراد ایسے پارٹنر کا انتخاب کرتے ہیں جو داخلیت پسند ، اعتماد کی کمی کا شکار ، معمول سے ہٹا ہوا یا رشتے میں دھوکہ دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ چارٹ میں اس کمبینیشن کے حامل کا دماغ حقیقی دنیا اور ادراک سے پرے دنیا کے درمیان مسلسل گردش کرتا رہتا ہے ۔ حقیقی دنیا میں کام کرتے ہوئے کچھ لمحوں یا اس سے زیادہ بے دھیانی کا شکار ہو جاتے ہیں اور غلطیاں کرتے ہیں ۔جو عوامل چارٹ کو مکمل طور پر منفی ہونے سے بچا رہے ہیں ان میں راج یوگ کارک زہرہ اور نویں کے حاکم بدھ کا لگن میں ہونا ہے اس کے علاوہ راج یوگ کارک طالع کے عین درجات پر ہے ۔ اس کے علاوہ گورو (مشتری) رجعت میں ہے اور چھٹے گھر میں ہے جو کام کی جگہ پہ کامیابی دیتا ہے اس کے علاوہ دسویں گھر پر نظر کیرئر میں کامیابی دلاتا ہے ، بارہویں گھر کے نحس اثرات میں کمی لاتا ہے اور دوسرے گھر پر پڑنے والے نحس اثرات میں کمی کرتا ہے ۔ گورو کا چھٹے گھر ہونا جہاں ملازمت کی جگہ میں فائدہ دیتا ہے وہاں کورٹ کیسز کا خطرہ بھی لاتا ہے ( کیونکہ گورو چھٹے گھر نحس ہو جاتا ہے اور چھٹا گھر اور گورو قانون ، کورٹ اور وکلا سے متعلق بھی ہیں )
پوسٹ سے لف نیچے دیا گیا چارٹ اگرچہ راشی ہے لیکن گھروں پہ نظرات( اسپیکٹس ) کو بھی ظاہر کر رہا ہے ( چارٹ سوفٹوئیر غلطی سے راہو کیتو کی ساتویں نظر کو ظاہر کر رہے ہیں جو کہ نہیں ہوتی اسے نظر انداز کر دیں)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں