زائچہ کیسے پڑھیں ۔ تعبیر دشا

جیمز براہا مشہور امریکی ،ہندو آسٹرالوجی کے ماہر ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہندو آسٹرالوجی کو مغرب میں اپنی پہلی کتاب کے ذریعے متعارف کروایا ۔ وہ پچھے چالیس سال سے اس پیشے میں ہیں اور اب تک تقریبا دس ہزار سے زائد زائچوں پہ ریڈنگ دے چکے ہیں ۔ ہندوآسٹرالوجی پہ ان کی تقریبا پانچ شہرہ آفاق کتب منظر عام پہ آ چکی ہیں ۔ ان کا اپنا یو ٹیوب چینل بھی ہے جس پہ ان کی پوڈ کاسٹ دستیاب ہیں ۔ مندرجہ ذیل مضمون ان کی ایک پرانی انگریزی کتاب سے لیا گیا ہے اور اس کوشش کا مقصد ان دوستوں کی مدد ہے جو فون پہ مجھے یہ بتاتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے آسٹرالوجی کا بہت سا علم کتب سے حفظ کر لیا ہے لیکن زائچے کی تعبیر کے لیئے منطقی اور مربوط انداز میں اسے کس طرح استعمال کیا جائے اس میں دشواری ہے ۔ اس تحریر میں ونشوتری دشا کی تعبیر کے لیئے مصنف نے کلاسک اساتذہ کے اصولوں سے انحراف کر کے اسے مغربی آسٹرالوجی کی طرح منطقی انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور دشا کی یہ تعبیر مصنف کی زندگی کی کہانی ان کی اپنی زبانی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس سلسلے میں لگھو پراشری کا بھی ضرور مطالعہ کریں یا اگر یہ کام مشکل ہو تو پھر اسی  فیس بک گروپ میں محترم عمران صاحب نے ان کلاسک اصولوں کو مختصر کر کے چند سلائیڈز کا تعویذ تیار کیا ہے جو گائیڈز سیکشن میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نام ، جیمز براہا
تاریخ پیدائش ۔ 16 اکتوبر 1951
وقت پیدائش۔شام سات بج کر چھتیس منٹ
مقام پیدائش ۔ فورٹ لاڈرڈیل ، ریاست فلوریڈا ،امریکہ
26° N 07, 80° W 08
ہندو آسٹرالوجی کا سب سے اہم اصول یہ ہے کہ راشی چارٹ ،دشا انتر دشا سے زیادہ اہم ہے ۔ اگر کسی شخص کا راشی چارٹ کمزور اور نحس ہے جس میں چند سیارے ترکون اور کیندر میں ہیں ، یا اپنے اور شرف کے گھر میں ہیں یا بہت کم سیارگان گورو اور دوسرے سعد سیارگان کی نظر میں ہیں یا سیارگان پہ شنی کی نظر بہت قریب سے ہے اور چندر بہت کم روشن یا نحس ہے تو ایسا شخص کسی
شرف کے برج کی دشا میں جب داخل ہو گا تو نتائج عمومی طور پر بہت اچھے نہیں نکلتے ۔
اسی طرح طاقتور و مشہور لوگوں کے زائچے عام طور نحس دشا سے بہت زیادہ زیادہ متاثر نہیں ہوتے ۔ کسی بری مہا دشا کے آغاز پہ انہیں یکدم انحطاط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن چونکہ کئی اور سیارگان زائچے میں طاقتور اور سعد ہوتے ہیں تو ان سیارگان کی انتر دشا اس شخص کو عزم و حوصلہ بخشتی ہے۔
جب کوئی کمزور زائچے کے ساتھ بہت اچھی مہا دشا میں داخل ہوتا ہے تو اس کی انتر دشائیں اسے رکاوٹوں اور ناکامیوں میں مبتلا کرتی رہتی ہیں ۔ بہتر یہ ہے کہ طاقتور زائچے کے ساتھ کچھ کمزور دشائیں ہوں نہ کہ کمزور زائچے کے ساتھ کچھ بہت اچھی مہا دشائیں۔
میری زندگی کی پہلی دشا شکر شنی کی تھی ۔ شکر بہت زیادہ نحس ہو گیا ہے کیونکہ یہ دو نحس سیارگان کیتو اور منگل کے ساتھ قران میں ہے اس کے علاوہ قران کی نظرات ایک یا دو ڈگری کے اندر ہیں اور تیسرا یہ کہ منگل نظرات عام سے زیادہ نحس ہیں کیونکہ منگل بارہویں گھر کا حکمران ہے جو زائچے کا سب سے برا گھر تصور ہوتا ہے ۔
عام طور پر ثور طالع کے لیئے شکر کی دشا بہت اچھی تصور ہوتی ہے چاہے شکر کچھ نحس ہی کیوں نہ ہو گیا ہو ۔ تاہم میرے کیس میں شکر بہت زیادہ نحس ہو گیا تھا اور شکر مہا دشا کے بقیہ چار سال اور گیارہ ماہ میرے لیئے ہر قسم کی مشکلات کا باعث بنے ۔
شکر چوتھے گھر میں ہے جو کہ ماں کا گھر تصور ہوتا ہے۔ میری سب سے بڑی مشکل گھر میں عدم استحکام تھا کیونکہ میری ما ں ذہنی بیماریوں کی وجہ سے مستقل طور پر بیمار رہتی تھیں بلکہ میری پیدائش پہ ڈاکٹروں نے انہیں کسی اور بچے کی پیدائش سے منع کر دیا تھا ۔
میرے پہلے گیارہ ماہ شنی کی انتر دشا کے تھے جس کے بارے میں میری یادداشت میں کوئی واقعہ نہیں ہے تاہم اس کا ذکر اس لیئے کیا کہ میرے تجربے کے مطابق زیادہ تر لوگوں کی زندگی کی پہلی دشا انتر دشا بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ اور کی نفسیاتی وجہ صاف ظاہر ہے کیونکہ نوزائیدہ بچے کی روح پر اس دنیا کا پہلا تاثر وہ رنگ چڑھا دیتا ہے جو تاعمر قائم رہتا ہے ۔طاقتور اور مشہور لوگوں کے زائچے دیکھنے میں عموما یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ پہلی دشا انتر دشا کا تعلق طاقت ، حکمرانی اور قائدانہ صلاحیتوں سے ہوتا ہے ۔
فنکار عام طور پر شکر کی دشا یا انتر دشا میں جنم لیتے ہیں یا وہ سیارے جو آرٹ کے گھروں (تیسرے پانچویں)میں موجود ہوں یا ان کے حکمران ہوں ۔ جو لوگ عرفان حاصل کرنے کی تمنا میں رہتے ہیں وہ کیتو دشا یا بارہویں گھر موجود یا اس گھر کے حاکم کی دشا انتر دشا میں یا جو سیارہ کیتو سے قران میں ہو میں جنم لیتے ہیں ۔
چندرکی دشا مہا دشا یا جو سیارہ پہلے گھر(شخصیت) کا حکمران ہے اس کی دشا انتر دشا میں جنم لینے والے ،بجائے دوسروں پہ توجہ مرکوز کرنے ،کےعام طور پر پوری زندگی خود غرضی اور اپنے احساسات ،ادراک و تجربات پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں ۔
میرا یہ بھی ماننا ہے کہ میری پہلی دشا انتر دشا اور میری بقیہ زندگی کے درمیان ایک مضبوط تعلق موجود ہے ۔شکر کی دشا نے میرا ماں سے متعلق دکھ دینے کے علاوہ جو بڑا نقصان کیا وہ کمزورصحت اور اور خود اعتمادی سے متعلق مسائل تھے کیونکہ شکر پہلے گھر (شخصیت ، مقام حاصل کرنے کی صلاحیت وغیرہ) اور چھٹے گھر ( صحت اور دشمنوں کو شکست دینے کی صلاحیت) کا حکمران ہے ۔
خوش قسمتی سے چھٹا گھر زیادہ نحس نہیں ہے جس میں سعد بدھ براجمان ہے جس پہ تاباں چندر(پورن ماشی کے دو دن بعد کا چندر) کی روشنی پڑرہی ہے ۔شکر کی کیتو کے ساتھ انتہائی قربت نے میری ابتدائی زندگی میں ،میرے اندر دروں بینی ، انتہائی شرمیلا پن، بزدلی اور مستقل گھبراہٹ پیدا کی۔ یہ مسئلہ شکر کے منگل کے ساتھ انتہائی قربت میں قران سے دگنا ہو جاتا ہے کیونکہ منگل بارہویں گھر کا حکمران ہے جس کی منفی خصوصیات ویسی ہی ہیں جیسا کہ کیتو کی ۔
شکر کا جو سب سے بڑا فائدہ اس صور ت میں پہنچتا ہے وہ زندگی بھر روحانیت کی طرف جھکاو ہ اور ویدانتی تصوفانہ تجربہ، وجدان اور عرفان حاصل کرنے کی خواہش ہے۔ جب زائچے میں سوریا ، چندر بدھ یا پہلے گھر کا حاکم کیتو سے قران ہو تو اس شخص کا شعور جزوا حقیقی دنیا اور جزواخیالی دنیا کے درمیان جھولتے ہوئے کام کرتا ہے ۔ ایسا شخص حساس ، دروں بین ،غور فکر میں مبتلا حد شعور سے پرے دنیا سے جڑنا چاہتا ہے ۔
اسی طرح کا ثر اس وقت بھی ہوتا ہے جب اہم ذاتی سیارگان کسی طرح سے بارہویں گھر سے متعلق ہو جائیں ۔ میرے کیس میں یہ دونوں صورتیں موجود ہیں کیونکہ پہلے گھر کا حاکم شکر ، کیتو اور بارہویں گھر کے حاکم منگل سے قران ہے اور میرا آسٹرالوجی اور ویدانتی تصوف سے متعلق کیا ہوا کام اس کا عملی مظہر ہے ۔ تاہم اگر ہم صرف شکر کی نحوست کو ہی دیکھیں تو میرا س زندگی کا پہلا تجربہ میرے نفس ، اعتماد اور وقار کے لیئے تباہ کُن تھا کیونکہ شکر پہلے گھر کا حاکم ہے جو تصور شخصیت ، معاشرے میں پہچان و مقام حاصل کرنے کی اہلیت وغیرہ سے متعلق ہے ۔ تاہم آئیں شنی کی انتر دشا کو دیکھتے ہیں ۔
کئی وجوہات کی بنا پر شنی اس زائچے کا سب سے طاقتور اور سعد نظرات کا حامل سیارہ ہے۔پہلا، ثور لگن کے لیئے یہ راج یوگ کارک ہے (نوین دسویں کا حاکم) دوسرا یہ ترکون کے پانچویں گھر نشست میں ہے جو ترکون گھروں میں دوسرا سعد ترین گھر ہے اور تیسرا یہ کہ اس پہ سعد گورو کی عین درجے پر نظر ہے ۔
اگرچہ گھروں کی حاکمیت کے لحاط سے گورو اس زائچے میں اچھا سیارہ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود یہ قدرتی سعد سیارہ ہونے کی بنا پر فراواں مثبت انرجی پانچویں گھر پہ ڈال رہا ہے۔
شنی پانچویں (مائنڈ) کےگھر موجود ہے اور یہ نویں ( مذہب ، فلسفہ اور اعلی تعلیم) اور دسویں ( کیرئر اور پیشہ ورانہ کاموں ) کا حاکم ہے ۔ اگرچہ میرے لیئے شکر کی وجہ سے زندگی بھر ، شرمیلے پن ، گھبراہٹ ، اور عدم اعتماد پر قابو پانا مشکل رہا ہے تاہم ان خامیوں پر قابو پانے میں ، میں نے اپنے مائنڈ ، مذہب ، فلسفے اور کیرئر میں کامیابی حاصل کر کے مدد لی جو کہ اس زائچے میں شنی کی منسوبات ہیں ۔
شنی کا زائچے میں طاقتور ہونا اگرچہ ایسا ہونے میں ممد ہے لیکن میرا یہ بھی ماننا ہے کہ شنی کی انتر دشا میں پیدا ہونا میری نفسیات پر ایک خوش قسمت اثر تھا۔
شکر کی مہا دشا میں پیدا ہونے نے جہاں عدم اعتماد دیا وہاں دروں بینی ، غورفکر، روحانی اور مخفی علوم کی جانب رغبت دلائی ۔تاہم وقت پیدائش شنی کی انرجی کے تجربے نے تقریبا تناقصی طور پر سنجیدگی ، بیرون رُخی اور کیرئر پر مرکوز ،مخفی طاقت بھی دی ۔شنی کسی بھی اور سیارے سے زیادہ کیرئر کا مظہر ہے اور اس زائچے میں تو دسویں کا حکمران بھی ہے ۔
جب بھی شکر کی انتر دشا آتی ہے مجھے پہلے ، چوتھے اور چھٹے گھروں سے متعلق امور میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا جن کا شکر یا تو حاکم ہے یا اس کی نشست ہے۔اس کا مطلب ہے اعتماد کا فقدان ، مکانات ، کاروں اور والدہ سے متعلق معاملات اور صحت کے مسائل مثلا گلے اور گردوں کا مسئلہ جو کہ شکر کی منسوبات ہیں ( شکر گلے ، تھائی رائڈ ،تناسل اور گردوں کا حکمران ہے)۔
شنی کی انتر دشا میں مجھے ہمیشہ کیرئر میں غیر معمولی ترقی یا سکول میں نمایاں کامیابی نصب ہوئی ہے تاہم قدرتی نحس سیارہ ہونے کی وجہ سے اپنی منسوبات کے کچھ دکھ بھی دیے ہیں ۔
اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ، میں نے یہ دیکھا ہے کہ زائچے میں چاہے شنی جتنا بھی اچھی نشست اور سعد نظرات کا حامل ہو اس کی مہا دشا اور انتر دشا ہمیشہ روک ، رکاوٹ، تاخیر، بوجھ اور دکھ لاتی ہے حتی کہ جن زائچوں یہ راج یوگ کارک بھی ہے اس کی دشا کچھ نقصان ضرور لاتی ہے۔ یعنی جہاں یہ فوائد لے کر آتی ہے وہاں متعلقہ گھروں اور قران کے سیارگان کےمسائل بھی لاتی ہے ۔
شاید میری زندگی کی سب سے بری دشا شکر کیتو کی تھی جو کہ میری تین سال نو ماہ کی عمر سے شروع ہوئی اور چار سال گیارہ ماہ کی عمر تک رہی ۔جب بھی زائچے میں مہا دشا سیارہ انتر دشا سیارے سے نحس ہو رہا ہو تو بڑی مصیبت اور دکھ یقینی ہے ۔
(نوٹ۔ لیکن اگر دشا کو معکوس کر دیا جائے یعنی یہ کیتو مہا دشا اور شکر انتر دشا ہوتی تو نتائج بہتر ہوتے کیونکہ کیتو شکر کی سعد انرجی وصول کر رہا ہوتا۔ مہا دشا سیارے کو ہمیشہ انتر دشا سیارے پہ برتری حاصل ہوتی ہے۔ یقیننا نحس نظرات درجات میں جتنی زیادہ قریب ہوں گی پریشانی اسی قدر زیادہ ہو گی )۔
شکر اور کیتو اس زائچے میں صرف ایک ڈگری کے اندر ہیں جو کہ اثر میں شدید ہے۔ میری شکر کیتو دشا کے دوران والدہ کی جذباتی صحت اس حد تک بگڑ گئی کہ انہیں اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ چار سال کی عمر کے بچے کے لیئے یہ کتنا مشکل ہو گا اس کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں ۔ اس پہ مستزاد یہ کہ مجھے اور میرے دو بڑے بھائیوں کو نگہداشت کے سمر کیمپ میں بھیجا گیا جو اس قدر ناگوار تھا کہ میرے دونوں بڑے بھائی وہاں سے بھاگ گئے ۔میرے روکنے کے باوجود میرے بھائی مجھے چھوڑ گئے کیونکہ وہ مجھے ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے ، میری والدہ نہیں تھیں ، ابا کسی دوسرے شہر پیشہ ورانہ کام میں مصروف تھے اور اب میرے قرب کے دو عزیز ترین رشتہ دار بھی مجھے اس اجنبی جگہ چھوڑ کر جا رہے تھے ۔ مجھے بے سہارا ہونے کا شدید احساس ہوا ۔ اگرچہ ابھی بڑہاپے میں اس پہ ہنسی آتی ہے لیکن چار سال کی عمر میں یہ شدید تکلیف دہ احساس تھا ۔
یہ بھی نوٹ کرنے کی بات ہے کہ قدیم ہندو صحائف میں شکر کیتو قران منتر پھونکنے کی صلاحیت بھی دیتا ہے ۔ میری آسٹرالوجی کی کلاس کے اکثر شاگردوں کا کہنا ہے کہ وہ میرے لیکچر کے دوران اتنے گم اور سحر زدہ ہو جاتے ہیں جیسے ان پہ کوئی منتر پھونک دیا گیا ہو ۔
شکر کی بعد کی دشا سوریا کی تھی جو میری چار سال گیارہ ماہ کی عمر میں شروع ہوئی اور دس سال کی عمر تک جاری رہی ۔ اگرچہ سوریا ثور طالع کے لیئے حاکمیت کے لحاظ سےفعلی سعد سیارہ ہے لیکن اس زائچے میں کمزور ہے ۔یہ ایک بہترین گھر یعنی پانچویں گھر موجود ہے لیکن اس گھر کے آخری درجات پہ ہے جس کی وجہ سے کمزور ہے۔ کوئی سیارہ اگر کسی گھر کے پہلے دو یا تین یا آخری دو یا تین درجات میں ہے تو وہ کمزور ہے۔( اسے کچھ سیارگان کے شرف کیے ان درجات کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہئیے جو کسی برج کے پشروع یا آخری درجات اس سیارے کا انتہائی نقطہ شرف ہوتا ہے)۔ اس طرح کا سیارہ کسی قسم کی طاقت سے محروم ہو جاتا ہے اور اپنے گھر کی منسوبات کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا ۔ اور میرے کیس میں یہ سوریا بھاوا چارٹ میں چھٹے گھر چلا جاتا ہے جو کہ ایک نحس گھر ہے ۔
سوریا میرے چوتھے گھر کا حکمران ہے ۔ عام طور چوتھے گھر کے حاکم یا چوتھے میں موجود سیارے کی دشا میں انسان رہائش یا شہر تبدیل کرتا ہے اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا ۔ سوریا کی دشا کے شروع ہونے کے ایک سال بعد میرا خاندان ریاست کے ایک دوسرے شہر جا رہائش پذیر ہوا۔ چونکہ سوریا بہت کمزور ہے تو یہ تجربہ بجائے خوشگوار ہونے کے تکلیف دہ ثابت ہوا اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کس طرح اپنا پُرانا مکان اور دوست چھوڑنے پر مجھے رنج ہوا ۔
جہاں تک میری والدہ کا تعلق ہے ان کے لیئے اگرچہ میری یہ دشا بہتر ثابت ہونا چاہئیے تھی لیکن چونکہ سوریا کمزور ہے تو انہیں کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوا ۔
میری سوریا دشا متذکرہ وجوہات کی بنا پر مشکل تھی اور ان میں سے سب زیادہ دلچسپ پانچویں گھر اور سوریا کی منسوبات تھیں ( سوریا آتم کارک ہے اور پانچویں گھر( مائنڈ)میں ہے)۔ اس دور میں مجھ پہ یہ آشکار ہوا کہ بہت زیادہ غور فکر میں مبتلا ہونا میری فطرت میں ہے اور دانشورانہ سرگرمی میری روح سے جُڑی ہوئی ہے ۔
پچھلی دشا جس میں شکر جتنا بھی نحس تھا تاہم اس دوران مجھے بس راحت اور عیش کی تمنا تھی جو کہ شکر کی منسوبات ہیں اب تاہم میں اپنا مائنڈ (پانچواں گھر) پہلے سے زیادہ استعمال کرنا شروع ہو گیا تھا ۔ آپ یہ بھی نوٹ کریں کہ میرے زائچے میں دو ذہنی سیارے بدھ اور چندر ایک دوسرے پر نظر کر رہے ہیں ۔ ہندو اسطورہ میں بدھ چندر کا بیٹا ہے ۔ جب یہ دونوں رشتہ دار ایک دوسرے پر ناظر ہیں تو ایک بہت زیادہ مائل بہ ابلاغ شخیصیت جنم لیتی ہے۔
یہ نوٹ کریں کہ سوریا جو پانچویں میں ہے اس پہ دو روحانی سیارے گورو اور شنی نظر کر رہےہیں (چونکہ ہندو آسٹرالوجی میں یورینس نیپچون اور پلوٹو استعمال نہیں کیئے جاتے تو گورو اور شنی کو روحانی سیارے مانا جاتا ہے)۔ گورو کرشنا دیوتا کا سیارہ ہے اور اعتقاد ومذہبی وابستگی کا علمبردار ہے۔ شنی ،شیوا دیوتا (تباہی کا دیوتا)کا سیارہ ہے جو کفائت شعاری ، نظم و ضبط اور برہمچاریت کے ذریعے شخصیت میں ارتقاء لاتا ہے۔
گورو اور شنی کے خواص میرے والد کی زندگی میں نمایاں تھے(گورو اور شنی سوریا کو ناظر ہیں اور سوریا والد کی نمائندگی کرتا ہے) اور اب یہ میرے خواص بن رہے تھے۔ سوریا کی دشا میں ، میں یکدم اپنے والد کی شدید مذہبی طبیعت اور روحانی جھکاو سے آگاہ ہوا جو میرے اندر بھی موجود تھیں ۔ میں نے جب زیادہ گہرائی سے سوچا تو احساس ہوا کہ میرے والد میری والدہ کی مشکل زندگی کے دکھ سے نبرد آزما ہونے کے لیئے خدا پر پکا یقین اور اس سے دعاوں سے کرتے تھے ۔
میرے والد اپنی عمر کے تیرہویں سال سے ہی یہودیوں کی صبح کی مذہبی عبادت پر عمل پیرا تھے ۔کیونکہ روحانی مشقوں ، ذکر اذکار اور عبادت پانچویں گھر کی منسوبات ہیں تو اس سوریا دشا میں ، میں اپنے والد کے اس شغل میں دلچسپی لینے لگا بلکہ کچھ عرصہ تو یہودی مذہبی رہنما ربی بھی بننے کے بارے میں سوچنے لگا لیکن بعد میں جب میں نے دیکھا کہ دعاوں نے میرے والد یا میرے حالات کو نہیں بدلا تو یہ خیال چھوڑ دیا ۔
سوریا دشا کے چلتے ہوئے میرے والد کے مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور ان کا بزنس ڈوب گیا اور زندگی میں پہلی دفعہ انہیں کسی کی ملازمت کرنا پڑی ۔ اپنے زائچے میں والد کی مشکلات کا عکس دکھاتے ہوئے یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہندو آسٹرالوجی کے مطابق حامل کی زندگی کے حالات پر اس کے قریبی رشتہ داروں کے زائچوں کا اثر گہرا پڑتا ہے ۔
میرے والد کی زندگی میرے زائچے میں کمزور سوریا ( اس کا آخری درجات میں ہونا اور شنی سے قران ) کی وجہ سے مشکل کا شکار رہی خصوصا میرے سوریا دشا کے چھے سالوں میں ۔ اس نکتے کی وضاحت کے لیئے یہ کہوں گا کہ ماں سے متعلق منسوبات میرے زائچے میں اس قدر نحس ہیں کہ میری پیدائش کے بعد اس کی زندگی بہت دشوار ہو گئی اور بقیہ زندگی ان کا یہی حال رہا ۔
چوتھے کے گھر کے حاکم کمزور سوریا کے علاوہ دو نحسین (منگل اور کیتو) وہاں ہیں اور منگل تو بارہویں گھر کا حکمران ہے ۔ وہاں شکر بھی موجود ہے جو کہ پہلے گھر کا حاکم ہے جس نے میرے اور والدہ کے درمیان ایک مضبوط تعلق اور محبت کو جنم دیا ۔
عام طور پر قریبی محبتی رشتہ داروں کا اثر چونکہ حامل کے زائچے پہ گہرا ہوتا ہے اس لیئے ہندو آسٹرالوجر آپ کو بتائیں گے کہ آپ کے ان رشتہ داروں مثلا بیوی ، والد والدہ وغیرہ کے اس دنیا سے جانے کے بعد حامل کی زندگی اچھی یا بری ہو جائے گی ۔ دلچسپ نکتے کے طور پر ایک دفعہ میں نے لاٹری جیتنے والوں کے زائچوں کا تجزیہ کیا تو یہ پایا کہ ان کے شریک حیات کے زائچوں میں آٹھواں گھر ( شریک حیات کی دولت) بہت زیادہ طاقتور تھا۔لاٹری جیتنے والوں کے زائچے میں یہ بہت نمایاں نہیں تھا لیکن ان کے شریک حیات کا آٹھواں گھر بہت زیادہ نمایاں تھا۔
پانچواں گھر قسمت کا گھر بھی ہے تو پانچویں گھر سے متعلق سیاروں کی دشا یا انتر دشا میں انسان کو اچھی یا بری قسمت کا تجربہ بھی ہوتا ہے ۔ چونکہ سوریا پانچویں گھر کمزور ہے تو کمزور قسمت سے واسطہ پڑتا ہے ۔سوریا باپ کے علاوہ کسی شخص کے اعتماد، انا اور طاقت کے استعمال کا مظہر بھی ہے ۔
سوریا کی دشا میں میں نے اپنے والد کی زندگی کو بدتر ہوتے دیکھا اور میری اپنی انا اور اعتماد کو بھی دھچکا پہنچا۔ پیدائشی زائچے میں قسمت کا تعین ضروری ہے کیونکہ یہ وہ قسمت ہے جس کا تجربہ انسان نے کرنا ہے ۔ اگر شکر پانچویں گھر بغیر نحوست کے موجود ہو تو آرٹ کی پیدائشی صلاحیت موجود ہوتی ہے اور اچھی محبت کا تجربہ ہوتا ہے لیکن اگر ساتواں گھر نحس ہو تو تو کچھ برے اثرات کا تجربہ بھی ہوتا ہے ۔
شکر اگر نحس ہے تو اس کا مطلب ہے کہ محبت کے معاملات میں اس شخص کو برے تجربات ہو سکتے ہیں اسی طرح اگر گورو بغیر نحوست کے پانچویں میں ہو تو حامل کو اچھے استاداور روحانی مرشد ملتے ہیں اور اعلی تعلیم کا امکان پیدا ہوتا ہے۔
میرے معاملے میں اچھی قسمت کا تعلق شنی سے ہے جو پانچویں میں ہے اور بدھ جو پانچویں کا حاکم ہے ۔ چونکہ بدھ چھٹے گھر میں روشن چندرسے منور ہے تو میرے اندر شفایابی یا صحت کا علم حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
شنی کی پانچویں میں نشست ، دو اچھے گھروں کی حاکمیت (نویں اور دسویں)اور گورو کی نظر اس بات کا اشارہ ہے کہ ڈسپلن ، ذمہ داری ، صبر اور شنی کی بقیہ مثبت منسوبات کی صلاحیت میرے اندر موجود ہے۔کیونکہ شنی نویں کا بھی حکمران ہے تو روحانی اساتذہ اور اعلی تعلیم کے حصول کی صلاحیت موجود ہے اور سمندر پار سفر بھی ضرور ہو گا اور دسویں گھر کی حاکمیت ،مستقل محنت کی وجہ سے کیریئر میں کامیابی کا اعلی امکان ہے ۔
اگرچہ نویں گھر کی وجہ سے اچھی قسمت ہے لیکن گورو جو کہ جو کہ اعلی تعلیم اور رواحانی اساتذہ کا سیارہ ہے اس پر دو نحسین یعنی منگل اور شنی کی عین درجے پر نظر ہے ۔
اگرچہ میری قسمت بہت اچھی ہے لیکن اس کے ساتھ منفی بھی ہے ۔ زائچوں کا تجزیہ کرتے ہوں کسی گھر سے متعلق امور میں بت اچھے اور برے اشاروں کا ملغوبہ عام دیکھنے کو ملتا ہے ۔ جب ایسا نویں گھر کے ساتھ ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس شخص کو مذہب ، فلسفہ ، اور اعلی تعلیم سے لگاو ہے لیکن کسی ایک استاد کے ساتھ بندھا نہیں رہے گا اور اس معاملے میں انتخاب پسند ہو گا اور میرے معاملے میں ایسا ہی ہوا ۔
میری عمر کے دسویں اور گیارہویں سالوں کے درمیان ، سوریا کی مہا دشا کی آخری انتر دشا میں ایک بہت اہم واقعہ ہوا۔
سوریا کی مہا دشا میں مجھے سپورٹس بہت پسند تھی جو کہ پانچویں گھر ، مریخ اور گورو کی منسوبات ہیں۔سوریا پانچویں میں ہے اور پانچواں گھر کیندر اور ترکون کے دو مالکان (سوریا اور شنی)کی موجودگی ، گورو کی نظر اور شنی راج یوگ کارک کی وجہ سے مضبوط ہے ۔ اس پر مستزاد مریخ (سپورٹس) شکر کے ساتھ دو درجے کے اند قران میں ہے جو کہ پہلے گھر کا حاکم ہے ۔ میری دانشورانہ سرگرمیوں کے علاوہ سپورٹس میری زندگی تھی اور اس میں بیس بال میری گیم تھی ۔
اکثر اوقات دو کمزور سیارگان کی دشا انتر دشا اتنی ہی بری ہوتی ہے جتنی ایسے سیارگان کی جو ایک دوسرے کو نحس کر رہے ہوں ۔میرے ساتھ سوریا شکر دشا میں اسی طرح کا کیس تھا اور نتائج بہت برے تھے۔ سوریا کی مہا دشا میں میری توجہات کا مرکز بیس بال تھی اور میں ایک پروفیشنل سپورٹس پلیئر بننے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
پہلے کے حاکم شکر کی بارہویں کے حاکم مریخ اور کیتو کے قرب میں موجودگی میری شخصیت کو غیر نمایاں اور معاشرے میں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرتی ہے اور میرے سوریا کے کمزور درجات کے ساتھ مل کر سوریا شکر دشا میں میرے پروفیشنل کھلاڑی بننے کے امکانات کو ختم کر دیا۔
ہوا یوں کہ ایک سو بچوں میں سے جنہوں نے بچگانہ لیگ کے میچز کھیلنے کی شمولیت کی فیس ادا کی تھی صرف دو بچے حصہ نہ لے سکے کیونکہ ٹیموں کے کھلاڑی پہلے ہی پورےہو چکے تھے۔ اور ان دو بچوں میں سے ایک میں تھا۔اگرچہ میرے والدین نے بہت کوشش کی لیکن انہیں بتایا گیا کہ ٹیموں میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس طرح میچوں کی پہلے سال کی سیریز جس میں بچے تیز رفتار گیند کے ساتھ کھیلنا سیکھتے ہیں،میں حصہ نہ لے سکنے کی وجہ سے میں اپنے ہم عمر ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا جس کا مداوا کسی طرح سے ممکن نہ تھا اس طرح بیس بال کھلاڑی بننے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں ۔ دسویں گھر ( کیرئر) کا حاکم میرے پانچویں ( مائنڈ اور سپورٹس)میں ہے اور اگرچہ بعد کی زندگی میں ذہنی کام میرا پیشہ بن گیا لیکں میں اکثر اوقات اپنے پروفیشنل کھلاڑی نہ بننے پر افسوس کرتا ہوں ۔
میرے پہلے گھر کے حاکم شکر کی مریخ اور کیتو سے قربت کا ذکر کروں گا کہ کیتو اور مریخ دونوں متضاد خصوصیات کے حامل سیارے ہیں ۔کیتو تصوفانہ اور دوسری دنیا سے متعلق سیارہ ہے جو حامل میں دروں بینی اور دروں فکری پیدا کرتا ہے جبکہ مریخ جارحیت اور حکم چلانے مظہر ہے ۔ کیونکہ میرے پہلے گھر کا حاکم شکر کیتو سے قران ہے تو میر شخصیت میں شرمیلا پن ، خلوت پسندی ، دروں بینی ، خیالی دنیا میں رہنا اور احساس کمتری ہے لیکن کیونکہ شکر مریخ سے بھی قران ہے تو تناقصی طور پر ( اس کے متضاد) میری شخصیت میں حاکمانہ پن ، حکم چلانے کی خواہش، مادیت اور بہت ثابت قدمی بھی ہے ۔ اگرچہ اب میں نے اپنی آسٹرالوجی کی کلاسوں میں حاکمانہ رویہ اختیار کرنا کم کر دیا ہے میری شخصیت دو متضاد اثرات کے موجودگی اس دوسرے کو ختم کیئے بغیر موجود ہیں ۔
ہندو قدیم صحائف میں یہ لکھا ہے کہ جب مریخ اور شکر کسی کیندر میں قران ہوں تو وہ شخص لیڈر ہوتا ہے ۔بل کلنٹن اور مہاتما گاندھی کے زائچے میں یہ قران پہلے گھر اور ہٹلر کے ساتویں گھر ہے)۔ میرے کیس میں لیڈرشپ کی یہ خصوصیت کیتو کے قرب کی وجہ سے دب گئی ہے ۔
تقریبا تمام فوجی کمانڈر۔ صدور، اوردوسری سیاسی شخصیات کے زائچوں میں عام طور پر کوئی سعد سیارہ مریخ کے ساتھ یا تو قران میں ہوتا ہے یا پھر مریخ پہ نظر کر رہا ہوتا ہے ۔کچھ ایسی شخصیات کا مریخ کسی نحس سیارے کے ساتھ قران میں ہوتا ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ اگرچہ مریخ کسی نحس کے ساتھ بھی ہو تو ایسا اثر مریخ کی قوت کو بہت متحرک کرتا ہے۔
مندرجہ ذیل لیڈران کے زائچوں میں مریخ کی نشست کو دیکھیں تو آپ کو اس کا اندازہ ہو جائے گا ۔
جان کینیڈی مریخ بدھ کے ساتھ ، رونالڈ ریگن مریخ بدھ کے ساتھ ، بل کلنٹن مریخ شکر کے ساتھ ، فرینکلن روزویلٹ مریخ چندرکے ساتھ ، لنڈن جانسن جو امریکی تاریخ کا سب سے زیاہ حاکمیت پسند شخص تھا مریخ بدھ ،گورو، سوریااور چندرکے ساتھ، رچرڈ نکسن مریخ بدھ ، گورو اور سوریا کے ساتھ، ایدولف ہٹلر مریخ بدھ، شکر اور سوریا کے ساتھ۔
جمی کارٹر کے مریخ پر شکر اور بدھ کی نظر ، مہاتما گاندھی مریخ بدھ کے ساتھ جس پر گورو کی نظر ہے ۔
جارج بش جس نے ایک سے زیادہ دفعہ جنگ چھیڑی اس کا مریخ کیتو کے ساتھ قران عین درجے میں ہے ۔ اور میرے تجربے میں یہ بات آئی ہے کہ مریخ اور شنی دو ایسے سیارگان ہیں جو کسی وجہ سے کیتو کے ساتھ قران کی وجہ سے مکمل طور پر تباہ و بے اثر نہیں ہوتے ۔ بعض اوقات کیتو شنی کا قرب کسی شخص کے ڈسپلن اور صبر کی خصوصیات کو ختم کر دیتا ہے لیکن ایساہمیشہ نہیں ہوتا ۔ مریخ کیتو قرب کی صورت میں کسی شخص کا خون کمزور اور دوسرے مریخی مسائل ہو سکتے ہیں لیکن میں نے یہ پایا ہے کہ تقریبا تمام کیسوں میں ایسا شخص جارحیت یا حاکمیت پسند ہوتا ہے جو بظاہر سطح پہ نظر نہ آتی ہو جیسا کہ جارج بش کے کیس میں تھا ۔
منگل راہو کے کیس میں ایسا شخص بہت مردانہ قوت اور سیکس پر مائل ہوتا ہے اور کئی گھنٹے مجامعت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
میری اگلی دشا چندرکی تھی جو میری دس سال گیارہ ماہ کی عمر سے بیس سال گیارہ ماہ کی عمر تک جاری رہی ۔ چندرمیرے زائچے میں تیسرے گھر کا حاکم ہے اور بارہویں گھر میں ہے جس پر سعد بدھ کی نظر ہے ۔ چندرکی دشا کے اثرات زیادہ تر تیسرے گھر سے متعلق تھے اور اس کے بعد بارہویں گھر سے جہاں یہ براجمان ہے ۔
تیسرا گھر میوزک ، ڈانس اور ڈرامہ کا ہے ۔ میں نے تیرہ سال کی عمر سے ڈرامہ کی کلاس میں شمولیت اختیار کی اور اپنے ہائی سکول کے دوران ڈراموں میں حصہ لیا ۔ اس کے بعد میں نے ایک پروفیشنل ایکٹنگ سکول میں داخلہ لیا ۔ چندرکی دشا کے دوران میری تمام سرگرمیاں اور دھیان تھیٹر پر مبذول رہا یعنی تھیٹر کے شوق نے میرے سپورٹس کے شوق پر غلبہ حاصل کر لیا ۔
ہر شخص کے کیس میں دشا کا اثر اتنا غیر معمولی نہیں ہوتا جتنا میرے کیس میں رہا ۔ بہت سے اشخاص یوں ایک دشا سے دوسری دشا میں اس طرح تبدیل نہیں ہوتے اور میں پوری طرح سمجھ نہیں پایا کہ میرے کیس میں ایسا کیوں ہوا۔ میرے خیال میں کسی حد تک اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ میری زندگی کا مقصد جو کہ دسویں گھر سے واضح ہے بہت مبدل ہے دسواں گھر فرض ِزندگی (دھرم یا ڈیوٹی) کا ہوتا ہے جس پہ ان سیارگان کی نظر ہے جو دشتنا (ٹرائک) گھروں مثلا بارہویں کے حکمران ہیں جس کی وجہ سے وہ شخص یا تو اپنے پیشے ، فرض زندگی (دھرم) کو متعین کرنے کو مشکل پاتا ہے یا پھر زندگی ایک کے بعد کئی پیشے اختیار کرتا ہے۔
انیس سو چوراسی میں جب میرے آسٹرالوجی کے استاد پی ایم پادیا نے میرے زائچے میں یہ نوٹس کیا کہ چھٹے اور بارہویں گھروں کے حکمران (شکر منگل)میرے دسویں گھر پہ نظر ڈال رہے ہیں تو اس نے کہا کہ تم نے اس سے پہلے کئی پیشے اپنائے اور ابھی اس (آسٹرالوجی) کے بعد پیشے تبدیل کرو گے۔اس وقت میری عمر تقریبا بتیس سال تھی اور میں اس سے پہلے اداکار ، بزنس مین(خوردہ فروش) ، روحانی شاگرد اور مراقبے کا استاد رہ چکا تھا اور پادیا کے اس بیان کے بعد حیرت انگیز طور پر میں نے لکھاری کا پیشہ بھی اپنایا جو اب تک چل رہا ہے ۔
چندرکی دشا دوسری دشاوں کی بہ نسبت بہت زیادہ جذبات سے بھرپور تھی اور اس دشا میں ذاتی مسائل پہ میری توجہ زیادہ رہی ۔اس دوران میں اپنے جذبات کا بری طرح اظہار کرنا چاہتا تھا جو میں نے ڈراموں میں اداکاری کی صورت میں کیا ۔ اس کی وجہ چندرکی مہا دشا ، میری عمر یا پھر چندرپہ بدھ کی نظر یا پھر ان سب کا مجموعہ ہو سکتی ہے ۔تاہم چندرسب سیارگان سے زیادہ فرد پہ ذاتی اثر رکھتا ہے (اگرچہ طالع کا حاکم بھی اثر میں چندرکے برابر ہے) اور کئی اشخاص چندرکی دشا میں بہت ذاتی اور جذباتی تجربات سے گزرتے ہیں ۔
اگرچہ میرا چندر بارہویں گھر میں ہے لیکن اس دشا میں مجھ پر کوئی روحانی اثر یا عرفان(موکش) حاصل کرنے طلب پیدا نہیں ہوئی ۔ تاہم جذباتی دکھ بہت اٹھانے پڑے۔ ہندو آسٹرالوجی میں بارہواں گھر سب سے برا گھر تصور ہوتا ہے اور چندرجیسا حساس سیارہ اس گھر میں بہت نقصان اٹھاتا ہے ۔چندرجذبات اور ذہنی سکون پر حکمران سیارہ ہے اور ان دس سالوں میں یہ پہلو بہت پریشان کُن رہے ۔اس دوران مجھ پر شرمیلا پن اور دروں بینی غالب رہی جو کہ بارہویں گھر کی دشا کی منسوبات ہیں ۔تاہم میرے لیئے یہ مشکلات نئی نہیں تھیں اور اپنی پیدائش سے ہی اس طرح کی چیزوں کا میں سامنا کر رہا تھا تاہم چندرکی دشا میں ان کا ثر بہت نمایاں اور تکلیف دہ تھا ۔
آپ نوٹ کریں کہ میرے زائچے میں ہر سعد سیارہ نحوست کا شکار ہے ۔ گورو پہ مریخ اور شنی کی عین درجہ نظر ہے ، شکر مریخ اور کیتو کے ساتھ قران میں ہے ، چندربارہویں اور بدھ چھٹے گھر میں ہے ۔ جب زائچے میں یوں تمام سعد سیارگان اس طرح نحس ہوں تو اس شخص کو مصائب اٹھانا پڑتے ہیں اور کسی کامیابی یا خوشی کو حاصل کرنے کے لیئے بہت محنت کرنا پڑتی ہے جس طرح میرے ساتھ ہوا ۔
چندرکی دشا میں میری والدہ کے مسائل کے علاوہ مجھے عورتوں سے مسائل کا سامنا رہا ( میری عمر میں لڑکیاں)۔ ان دس سالوں میں میرا کسی بھی لڑکی سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہ بن سکا اور میری تمام کوششیں رائیگاں گئیں ۔
کسی ایسے شخص کے لیئے جس کے زائچے میں شکر مریخ کے بالکل قریب ہو ، جنس مخالف سےبہت زیادہ قربت کی خواہش انسان میں بیدار کرتی ہے کسی لڑکی سے تعلق نہ پیدا کر سکنا بہت تکلیف دہ تھا ۔طالع کے حاکم کا ساتویں کے حاکم سے قران کے ہوتے ہوئے جنس مخالف کی محبت کا نہ ہونا برداشت سے باہر تھا کیونکہ راشی چارٹ اس بات کا اشارہ کر رہا تھا کہ یہ شخص جنس مخالف سے بہت زیادہ مضبوط تعلق بنانے کی شدید چاہ میں ہے ۔
تاہم محبت کی عدم موجودگی محض اس لیئے نہیں تھی کہ میں چندرکی دشا میں تھا اور چندرعورتوں پر حکمران ہے(اگرچہ شکر محبت کا کارک ہے تاہم چندر کسی شخص کی زندگی میں تمام عورتوں پہ اثر انداز ہوتا ہے اس لیئے کسی معاشقے میں اس کا کردار ہوتا ہے) اب میرے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ چندرمیرے نوانش میں ساتویں گھر(تعلقات) کا حکمران ہے اور اور ہبوط کے برج میں ہے جس کی وجہ سے عورتوں سے تعلقات میں بہت زیادہ جذباتی، حساس اور گھائل ہونے پر مائل تھا اور اب بھی چندرکی انتر دشا میں ایسا ہوتا ہے ۔چندرکی مہا دشا میں ، عورتوں سے جتنی زیادہ قربت کی چاہ تھی اس زیادہ میں شرمیلا ، خوف زدہ اور بے ڈھب ہو گیا تھا ۔
جنوری 1972 میں ، جب میں کالج میں تھیٹر کر رہا تھا تو میرے اندر روحانی کیفیات کی چاہ پیدا ہو گئی اور میں نے مراقبہ کرنا شروع کر دیا ۔ یہ چندرکی دشا اور شکر کی انتر دشا تھی ۔چندربارہویں گھرمیں ہے اور شکر بارہویں گھر ( روحانی ترقی اور عرفان)کے حکمران مریخ اور کیتو(ما بعد الطبیعاتی) سے قران ہے ۔
نو مہینے بعد میں مریخ کی دشا میں داخل ہوا اور میری زندگی ڈرامائی طور پر تبدیل ہونا شروع ہو گئی ۔مراقبہ زیادہ ہو گیا اور زندگی میں عورتوں سے تعلقات پیدا کرنے کے قابل ہو گیا ۔ مریخ بارہویں اور ساتویں گھر (شادی)کا حاکم ہے ۔ مریخ اس لیئے کچھ مضبوط ہے کیونکہ یہ کیندر میں چوتھے گھر میں ہے اور سعد شکر سے صرف دو درجے پرے ہے ۔اگرچہ یہ کیتو سے بھی قران ہے لیکن کیتو اتنا نقصان دہ نہیں ہے کیونکہ یہ بھی شکر کی انرجی حاصل کر رہا ہے ۔ مریخ کی دشا میری زندگی کا سب سے زیادہ خوشگوار دور تھا اور میں اس کی وجہ مریخ کی شکر سے قربت کو دیتا ہوں ۔کسی سیارے کی دشا یا انتر دشا میں جو کسی سعد سیارے سے قران ہو مثبت نتائج ملتے ہیں ۔ اسی طرح کوئی سیارہ اگر کسی نحس سیارے کی قربت کی نظر میں ہو تو اس دوران منفی نتائج ملتے ہیں۔ اگرچہ مریخ کی دشا میں بھی مجھے مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن بباطن ایک سرشاری اور خوشی کا احساس تھا جو اپنی بنا میں زہروی (وینیسونین)تھی ۔ میں نے اس دروان عام لوگوں سے عدم تعلقات اور تخصص کی روش بھی محسوس کی کیونکہ مریخ کیتو کے ساتھ ہے ۔
مریخ اگرچہ چوتھے گھر(مکان ، کار، پراپرٹی وغیرہ) میں ہے لیکن مریخ کی دشا شادی کے معاملات اور عرفان کی خواہش زیادہ غالب رہے ۔
مریخ کی دشا کے ایک سال کے بعد 1973میں کالج سے فارغ التحصیل ہوا اور سوئٹزرلینڈ مراقبے اور اس میں ٹیچر بننے کی مزید تربیت کے لیئے چلا گیا ۔ دو سال کے بعد میں نے اپنی کلاس فیلو جو کہ ایک اداکارہ تھی سے شادی کر لی جس سے میں نے مریخ کی دشا کے آغاز میں ڈیٹنگ شروع کی تھی ۔کیونکہ مریخ ساتویں کا حکمران اور شکر سے قران میں ہے تو کسی آرٹسٹ سے شادی کا احتمال زیادہ تھا ۔ کیونکہ ساتویں کا حاکم دو سیارگان سے قران ہے تو دو شادیوں کا امکان زیادہ تھا ۔ میری دوسری شادی 1993 میں ہوئی ۔
یہی اصول ان سیارگان کے لیئے بھی ہے جن کی نشست ساتویں گھر ہوتی ہے ۔اگر وہاں دو سیارے ہیں تو حامل ممکنہ طور پر دو شادیاں کرے گا اور اور ہر شریک حیات کسی ایک سیارے کی نمائندگی کرے گی ۔ دوسرے لفظوں میں اگر مریخ اور گورو ساتویں گھر موجود ہوں تو حامل ممکنہ طور پر ایک شادی تو ایسی عورت سے کرے گا جو حاکمیت پسند ، غصیل، جارح اور بحث و تمحیص کی عادی ہو گی اور دوسری جو کہ مذہبی ، روحانیت پسند یا دولت مند ہو گی ۔ اگرچہ ساتویں گھر دو سیارگان کی موجودگی یا ساتویں گھر پہ دو سیارگان کی نظر کا اصول سو فیصد کام نہیں کرتا لیکن عمومی طور پر یہ آزمایا ہوا ہے۔ کوئی شخص کئی شادیاں بھی کر سکتا ہے اگر اکیلا بدھ یا چندرساتویں گھر ہوں کیونکہ بدھ اور چندرافراط کے سیارے ہیں ( بدھ دوہرے مزج کا حامل ، متلون ہے اور چندربھی مبدل ہے کیونکہ یہ اپنی ضیاء میں گھٹتا بڑہتا ہے ۔ میں نے اس طرح کے کئی کیسز دیکھے ہیں جس میں ساتویں کے حاکم پہ بدھ یا چندرکی نظر تھی اور انہوں نے تین شادیاں کیں ۔ ان کیسیز میں زائچے میں ساتواں گھر بہت نحس ہو چکا ہوتا ہے ۔ کئی سال پہلے میں جب میں مشہور انڈین آسٹرالوجر آر شانتارام کے زیر تربیت تھا تو اس نے میرے کئی جاننے والے امریکی دوستوں کے زائچے دیکھ کر حیرت سے کہا تھا ، امریکہ میں کسی کی شادی شدہ زندگی خوشگوار نہیں ہے ؟۔
یہاں ایک دلچسپ نکتہ عرض کر دیتا ہوں ، میں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں آسٹرالوجی کی پریکٹس کی ہے مثلا سوئٹزر لینڈ اور آئس لینڈ اورنوٹ کیا کہ ہر ملک کی ثقافت کے کچھ عناصر ہوتے ہیں جو اُن لوگوں کے زائچوں میں نظر آتے ہیں ۔
مثلا آئس لینڈ میں جتنے بھی زائچے میں نے دیکھے ان کا آٹھواں گھر بہت طاقتور اور سعد نظرات کا حامل تھا ۔آٹھواں گھر طول العمری کا گھر ہے اور جب میں نے انہیں یہ بتایا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے باپ داد عام طور پر اسی نوے سال یا اس سے زیادہ عمر گزار کے مرے ۔
آٹھواں گھر وجدان اور مابعد الطبعیاتی مضامین مثلا مخفی علوم کا گھر ہے اور مجھے آسٹرالوجی پڑہانے میں سب سے زیادہ کامیابی وہاں ملی ۔ میرے ایک لیکچر جس میں چالیس یا پچاس لوگ تھے کے بعد تقریبا ستائیس لوگوں نے زائچے پڑھوانے کے لیئے فیس ادا کی ۔ طاقتور آٹھوں گھر کا مطلب ہے آسٹرالوجی میں بہت زیادہ دلچسپی ۔
سوئٹرزر لینڈ جہاں میرا کئی دفعہ جانا ہوا وہاں کے لوگوں کے زائچے میں دولت اور افراط بہت نمایاں تھی اور یہ عام لوگوں اور دولت مندوں دونوں کے زائچوں میں یکساں تھی ۔ سوئٹزر لینڈ جہاں معیار زندگی بہت بلند ہے اور دولت کی افراط ہے وہاں دولت سے دلچسپی عام لوگوں کے زائچوں میں بھی عیاں تھی ۔
مریخ کی دشا میں روحانی ترقی اور شادی کے علاوہ جس شے سے میری گہری دلچسپی پیدا ہوئی وہ دولت کمانے سے متعلق تھی ۔ اس کا تعلق میری مریخ دشا سے متعلق نہ تھا بلکہ میری بیوی کے زائچے سے تھا جس کے ساتویں کا حاکم دوسرے میں تھا اور سعد نظرات کا حامل تھا ۔جس کا مطلب تھا کہ اس کی قسمت میں تھا کہ اس کا تعلق ایسے لوگوں سے ہو جو دوسرے گھر سے متعلق امور ( تعلیم یا پیسہ)سے وابستہ ہوں ۔ شادی سے پہلے میں نے اسے بتا دیا تھا اگر اسے پیسے اور عیش عشرت سے غرض ہے تو میں وہ شخص نہیں ہوں کیونکہ میں عرفان حاصل کرنے کا خواہش مند تھا ۔ ایک حقیقی آرٹسٹ کی طرح اس نے کا کہ اسے دولت سے غرض نہیں ہے لیکن اس سے شادی کچھ ہی ماہ کے بعد میرے اندر دولت پیدا کرنے کی خواہش جاگی اور میں نے ایک پرچون کا سٹور کھول لیا جس سے اچھی آمدنی ہوئی ۔
مریخ مہا دشا کے آخر میں جب چندرکی انتر دشا میں داخل ہوا تو میری شادی بحران کا شکار ہو گئی اس کی وجہ نوانش میں چندرکا ہبوط ہے ۔ کچھ ماہ بعد جب چندرکی انتر دشا ختم ہوئی اور راہو کی مہا دشا شروع ہوئی تو ہم نے راہیں جدا کر لیں اور طلاق لے لی ۔ طلاق ایک ایسی چیز تھی جس کے متعلق میں نے کبھی سوچا تک نہ تھا اور میرے لیئے بہت تکلیف دہ چیز تھی۔ ہندو صحائف کے مطابق راہو کی مہا دشا اور راہو انتر دشا کے پہلے بتیس مہینوں میں بہت سی شدید تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں اور میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ۔ طلاق کا زخم تو ایک طرف تھا کچھ ہی مہینوں بعد میرے والد کو کینسر ہو گیا جس سے وہ وفات پا گئے ۔ یہ میرے زندگی کے دو بڑے نقصان تھے جن کا سوگ میں نے دو سال تک منایا ۔
راہو دشا کی اس قدر تبدیلیوں کی کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ کچھ آسٹرالوجرز کا کہنا ہے کہ چونکہ راہو پر دو سیارگان کی نظر جو کہ نحس گھروں کی حاکمیت رکھتے ہیں (شکر اور مریخ چھٹے اور بارہویں گھروں کے حاکم ہیں ) بقیہ کا کہنا ہے کہ یہ راہو اور راہو کے ڈسپوزیٹر کے درمیان برے تعلق کی وجہ سے ہے اور راہو شنی سے چھٹے گھر میں ہے ۔
اگر مثبت طور پر دیکھا جائے تو راہو دسویں گھر میں اچھی نشست ہے کیونکہ اپچے گھروں میں نحسین نمو پاتے ہیں ۔ عام طور پر دسویں گھر راہو کی دشا میں لوگ عزت ، شہرت اور مرتبہ حاصل کرتے ہیں اس کے علاوہ راہو کا ڈسپوزیٹر شنی ترکون گھر میں ہے جس پر سعد گورو کی نظر ہے ۔یہ صحیح ہے کہ گورو آٹھویں گھر کا حاکم ہے جو نقصان دہ ہے لیکن قدرتی سعد سیارہ ہونے کی بنا پہ مثبت انرجی بھی رکھتا ہے ۔ اسی راہو دشا میں آسٹرالوجی پہ میری پہلی کتاب شائع ہونے کی بنا پہ آسٹرالوجر کمیونٹی میں میری شہرت اور پہچان ہوئی جو ساری دنیا حتی کہ انڈیا میں بھی فروخت ہوتی ہے ۔
اگرچہ ہندو آسٹرالوجر زائچے میں بروجی خواص کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تاہم ان کا اثر ہوتا ہے ۔ راہو برج دلو میں ہے جو مخفی علوم سے وابستہ ہے راہو دشا کے آغاز میں میں نے زندگی میں پہلی دفعہ اپنے زائچے پہ ریڈنگ لی اور پھر یہ علم میرے دل میں گھر کر گیا ۔ لیکن اس شوق کی وجہ سے میرے روحانی اشغال پس منظر میں چلے گئے اور اب ان میں مجھے زیادہ دلچسپی محسوس نہیں ہوتی ۔ راہو اس طرح کا راکشش ہے۔ راہو دنیاوی قوت و اقتدار کی ایک نہ ختم ہونے والی پیاس ہے اگرچہ اس دور میں میں نے اپنے پروفیشن میں کایابی حاصل کی ، دنیا میں مقدس مقامات کی یاترا کی ہے تاہم اُس طرح کا اطمینان اور سکون جو مجھے مریخ کی دشا میں حاصل ہوا تھا اب اس کا نشان نہیں ہے ۔
راہو دشا میرے لیئے پروفیشن میں کامیابی کی خواہش اور آسٹرالوجی کی ترویج کی ایک نہ ختم ہونے والی پیاس لے کر آئی اور اب میں اس راہو دشا کے ختم ہونے کا انتظار کر رہا ہوں ۔
چونکہ میرے زائچے کا مجموعی جھکاو دنیاوی کی بجائے روحانی ہے ، گورو کی انرجی میرے لیئے زیادہ ترغیب آمیز ہے ۔ زائچے میں گورو کی کیفیت دو انتہاوں کا مغوبہ ہے ۔ مثبت طور پر گورو اپنے گھر میں ہے جس پہ راج یوگ کارک شنی کی عین نظر ہے اور ڈویژنل چارٹس میں بھی گورو تین دفعہ اپنے برج میں ہے اور تین دفعہ شرف میں ہے جس سے راشی گورو مضبوط ہوتا ہے ۔
منفی کیفیت میں گورو پہ دو بڑے نحسین مریخ اور شنی کی نظر کی عین نظر ہے ۔ گورو کی آٹھویں گھر کی ملکیت نقصان دہ ہے تاہم آٹھواں گھر آسٹرالوجی سے متعلق ہے اور آسٹرالوجی میرا کیریئر ہے ۔ گورو مذہب ، فلسفہ، سفر اور افراط کا سیارہ ہے جو گیارہویں گھر(مالی فوائد ، دوست یار ، گروپ اور عالی خواہشات ) سے متعلق ہے۔ تاہم اس کی حاکمیت آٹھویں گھر(مخفی علوم ، شریک حیات کا پیسہ، وراثت، موت وغیرہ) پر بھی ہے اس طرح دو متضاد سمتوں کا آئینہ دار ہے۔ اس کی دشا کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے ؟ ۔
۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga