الفت مرگ کی شاعرہ ۔ سلویا پلاتھ کا زائچہ
تقریبا چھے ماہ قبل کسی فیس بک فرینڈ نے میری اس گروپ میں مختلف مشہور شخصیات کے تنجیمی نفسیاتی خاکوں کو پڑھ کر تجویز دی تھی کہ امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ کے چارٹ کا بھی کچھ تجزیہ کیا جائے کہ اس کے اندر موت سے سے اتنا والہانہ لگاو کیوں تھا ۔
سوانحی خاکہ
سلویا پلاتھ اپنے وقت میں دنیا کی مشہور امریکی شاعرہ، ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں۔ انھیں اعترافی شاعری کی صنف کے فروغ کا سہرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنے دو شائع شدہ مجموعوں، دی کولاسس اور دیگر نظمیں (1960) اور ایریل (1965) کے ساتھ ساتھ ایک نیم سوانحی ناول دی بیل جار کے لیے مشہور ہیں۔
سلویا 1932 میں امریکہ کے شہر بوسٹن میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ کا خاندانی تعلق آسٹریا سے تھا اور والد کا آبائی رشتہ جرمنی سے جڑا ہوا تھا۔ وہ دونوں امریکہ میں پہلی نسل کے مہاجر تھے۔ سلویا پلاتھ کے والد بوسٹن یونیورسٹی میں حیاتیات کے پروفیسر تھے۔ سلویا بچپن سے ہی حد سے زیادہ حساس لڑکی تھیں۔ انہوں نے گیارہ برس کی عمر سے ہی اپنے جذبات اور خیالات کو الفاظ کا روپ دے کر اپنی ڈائری میں رقم کرنا شروع کر دیا۔ ڈائری لکھنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے فن کا اظہار شاعری میں بھی کیا اور پینٹنگز میں بھی بنائیں۔ سلویا کی اصل وجہ شہرت اس کی نظمیں ہیں جو اس کے ذہنی خلفشار کا تحفہ تھیں، اس کے اپنے اندر کی عکاس نظمیں جو بھیانک خالی پن، عام لوگوں کی ڈگر سے ہٹ کر مشاہدے اور ذہانت و ڈپریشن کی پیدا کردہ مختلف ڈھب کی سوچ کی تصویر ہیں۔ ذہنی خلجان اور ڈپریشن کے باعث سلویا ہمیشہ بے چینی کا شکار رہی، اس میں خودکشی کا رجحان بھی موجود تھا اور عام افراد کے برعکس موت اسے خوفزدہ کرنے والی شے نہیں لگتی تھی۔ ڈپریشن کی گولیاں تو ہمیشہ ہی اس کی ساتھی رہیں۔ اس کی شاعری نے عورت کے دکھوں، ان کہے جذبات اور جنسیت کے گرد قائم خاموشی کا حصار توڑا اور اس کا نڈر اظہار کیا۔سلویا جنہوں نے اپنی زندگی کا خاتمہ سر کو گیس اوون میں دے کر کرلیا تھا ، ان کی ایک بہت ہی دردناک نظم کی چند سطریں جو خودکشُی کے خیالات اور موت سے متعلق یوں ہیں ۔
مادام لازارس٭
۔۔۔۔۔۔۔
"مرنا
ایک ہُنر ہے
جیسے کوئی اور کام کرنا
اور میں تو یہ بہت ہی سلیقے سے کرتی ہوں
میں یہ کام ایسے کرتی ہوں
جیسے مجھے یہ جہنم کی طرح لگے
کچھ اس طرح سے کرتی ہوں
یہ بالکل حقیقی ہو
میں قیاس کرتی ہوں
تم اسے ایک بلاوا کہہ سکتے ہو"
٭(گاسپل آف جان میں لکھا ہے کہ سینٹ لازارس آف بیتھنی وہ شخص تھا جو چار روز تک کلیسا معبد میں مُردہ رہا اور پھر یسوع مسیح علیہ السلام نے اُسے زندہ کردیا تھا- ایسٹرن آرتھوڈوکس اور رومن کیتھولک مسیحی روایات دونوں میں سینٹ لیزرس کی بڑی مدح کی جاتی اور عقیدت دکھائی جاتی ہے- سلویا پلاتھ نے اسے نسائی رنگ کے ساتھ نظم کے عنوان میں استعمال کیا ہے )۔
اُس کی نظموں کا ظاہر شدید ڈپریشن، اینگزائٹی، درد، تکلیف، دباؤ ہے لیکن اُن نظموں کی زیریں تہہ بالکل سیاسی ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی بے معنویت کی صورت حال سے جنم لیتی ہے ۔ اسی نظم مادام لازاروس میں مزید کہا ہے
"راکھ میں سے
میں اپنے سرخ بالوں کے ساتھ نمودار ہوئی
اور میں نے آدمیوں کو
سانس کی طرح
نگل لیا"
٭راکھ ۔ (دوسری جنگ عظیم کے دوران نازی فوجی، گیس چیمبرز میں جلائے گئے یہودیوں کی خاکستر کو صابن بنانے کے لیئے استعمال کرتے تھے اور اسی راکھ میں سے سونے کی اشیاء مثلا سونے کے دانت جس کا اس زمانے میں عام رواج تھا، تلاش کرتے تھے )۔
مشہور ادبی نقاد جیک کرول کا کہنا ہے کہ ، یہ شاعرانہ پاگل پن ، یہ مار ڈالنا اور لفظوں کے ساتھ چیر پھاڑ کر کھا جانا سلویا پلاتھ کے اندر تباہ کُن انتقام کے انتہائی احساس کا باعث بنا ۔
سن 1940 میں جب سلویا آٹھ سال کی تھی تو اس کے والد کا ذیابیطیس کی وجہ سے پاوں میں پیدا ہونے والی گینگرین سے انتقال ہوا تھا ۔ سلویا کا مذہبی فرقہ اگرچہ خدائے واحد پر یقین رکھتا ہے لیکن والد کی وفات کے صدمے نے اسے اُس وقت مذہب سے دور کر دیا اور وہ تمام عمر مذہب سے دور رہیں ۔باپ کی وفات کے چھے مہینے بعد اس کی پہلی نظم بوسٹن سنڈے ہیرالڈ میں شائع ہوئی ۔ والد کے ساتھ ان کے تعلقات بہت پیچیدہ تھے جہاں والد نے اُس کی تخلیقی صلاحیتوں کی حوصلہ افزائی کر کے شاعر اور مصنف بننے میں مدد کی وہیں خود اس نے اپنی موت سے پہلے خاندان کے اصرار کے باوجود اپنی بیماری میں علاج کرانے سے انکار کر دیا شاید میاں بیوی کے تعلقات بھی ٹھیک نہیں تھے۔ والد کی موت کے خلا کو اس نے شدت سے محسوس کیا اور سلویا کی انیس سو باسٹھ میں لکھی گئی ایک نظم جس کا عنوان "ابا" ہے اس کے چند ابتدائی سطریں یوں ہیں ۔ پوری نظم تاریک استعاروں سے پُر ہے ۔ ترجمہ ناہید ورک نے کیا ہے۔
اب نہیں، مزید اب نہیں
اس تنگ و تاریک سیاہ جوتے میں پاؤں پھنسائے
بہ مشکل سانس لیتے ہوئے میں نے تیس برس تک خوفزدہ زندگی گزاری
ابا، مجھے تمہاری جان لینی ہی تھی۔
مگر اس سے پہلے کہ میں ایسا کرتی تم اس دنیا سے چلے گئے ـــ
سنگِ مرمر کی طرح بھاری،
خدا کی طرح طاقتور،
ایک بدصورت اور بھدے پاؤں والے بھیانک مجسمے جیسا (تمہارا وجود) ۔۔۔۔الخ۔۔
پوری نظم اس لنک پہ پڑھی جا سکتی ہے
https://www.punjnud.com/sylvia-plath-ki-nazam-dady-ka-urdu-tarjuma/
سلویا کا آئی کیو 160 تھا اس نے سکالر شپ پہ کالج جوائن کیا اور انگریزی کا بطور مضمون انتخاب کیا جہاں ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بنا پر انہیں اور کچھ دوسری خواتیں کو نیویارک مطالعاتی ٹور پر بھیجا گیا ۔
نیویارک کے قیام کے دوران سلویا پلاتھ کی شدید خواہش تھی کہ وہ مشہور شاعر ڈلن تھامس سے ملیں۔ وہ ان کے ہوٹل کے گرد دو دن تک چکر لگاتی رہیں لیکن جب وہ ملے بغیر چلے گئے تو سلویا پلاتھ اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ انہوں نے چاقو سے اپنی ٹانگوں پر چرکے لگاتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ میں خود کشی کرلوں؟۔
24 اگست 1953 صبح نو بج کر 17 منٹ پر( ایسٹرن سٹنڈرڈ ٹائم ) بمقام ویلزلے ، میسا چیوسٹس امریکہ میں سلویا نے 48 خواب آور گولیاں کھا کر خود کشی کی کوشش کی ۔ گولیاں کھانے کے بعد وہ والدین کے گھر کے تہ خانے میں چھپ گئی ۔ اس کی نانی نے 26 اگست کو اسے دیکھا جب وہ تہ خانے کسی کام سے گئیں ۔انہیں اسپتال لے جایا گیا جہاں معدہ صاف کیا گیا اور اس کے بعد وہ نفسیاتی عارضوں کے اسپتال میں 6 ماہ تک داخل رہیں جہاں بجلی کے جھٹکوں سے ان کا علاج کیا گیا (عام طور پر عورتیں خود کشی کے لیئے ایسے طریق کا انتخاب کرتی ہیں جو ان کے جسم کو موت کے بعد بھدا نہ کرے اور کم تکلیف دہ طریقہ ہو )۔ اس واقعے کے بعد سلویا کے دماغ میں اس مرض کے دوبارہ عود آنے کا خوف بیٹھ گیا ۔
اس کے بعد وہ فل برائٹ سکالر شپ پہ کیمرج یونیورسٹی لندن گئی جہاں اس کی مستقبل کے شوہر اور شاعر ٹیڈ ہیوگس سے ملاقات ہوئی ۔
16 جون 1956 میں انہوں نے خفیہ شادی کی ۔ شادی کے وقت ٹیڈ کی عمر 26 سال تھی ۔سن 1957 میں سلویا اور ٹیڈ امریکہ آ گئے اور دونوں استاد بن گئے۔اس طرح دو شاعر ’دو ٹیچر اور دو دانشور ایک چھت تلے ساتھ رہنے لگے۔
جب سلویا اور ٹیڈ کی شادی کا ہنی مون پیریڈ ختم ہوا اور رومانوی رشتے میں دراڑیں پڑنے لگیں تو سلویا کے دل میں اپنے شوہر کے لیے مثبت جذبات کم ہونے لگے اور منفی جذبات بڑھنے لگے۔دھیرے دھیرے سلویا کی محبت نفرت ،ان کی چاہت جارحیت اور اپنائیت غیریت میں ڈھلنے لگی۔
سلویا کے ہاں ان کی بیٹی فریدا اپریل 1960 اور بیٹا نکولس جنوری 1962 میں پیدا ہوا۔
سن 1961 میں سلویا اور ٹیڈ نے ایک جوڑے آسیہ ویول اور ڈیوڈ ویول سے ایک گھر کرائے پر لیا لیکن اس گھر نے ان کی زندگی میں ایک بحران پیدا کر دیا کیونکہ ٹیڈ اپنی مالک مکان آسیہ کی زلف کے اسیر ہو گئے۔ جنوری 1962 میں جب سلویا کو اپنے شوہر کے ایک شادی شدہ عورت سے رومانوی تعلقات کا پتہ چلا تو وہ اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ پہلے اپنے شوہر سے بہت لڑیں اور پھر ستمبر 1962 میں انہیں چھوڑ کر اور دونوں بچوں کو لے کر انگلستان چلی گئیں اور طلاق لینے کے بارے میں سوچنے لگیں لیکن سرکاری طور پر یہ شادی سلویا کی موت تک قائم رہی ۔
ٹیڈ سے علیحدگی کے بعد سلویا میں ایک تخلیقی طوفان آیا اور انہوں نے چند ماہ میں چالیس نظمیں لکھ ڈالیں۔اسی دوران انہوں نے اپنا خود سوانحی ناول دی بیل جار بھی وکٹوریا لیوکس کے فرضی نام سے چھپوایا۔
انگلستان کی سخت جما دینے ولی ٹھنڈمیں بچوں کی خدمت ’شوہر سے شکایت اور سردی کی شدت کی وجہ ان پر ڈپریشن کا ایک اور دورہ پڑا(مادام لازارس انہی دنوں کی تخلیق ہے)۔ ان کے ڈاکٹر نے انہیں اینٹی ڈپریسنٹ ادویہ کھانے اور ہسپتال میں داخل ہونے کا مشورہ دیا (کیونکہ انہوں نے اپنی اینٹی ڈپرینسٹ دوائی کھانا چھوڑ دی تھی)لیکن انہوں نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا۔ آخر ڈاکٹر نے جب سلویا کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے گھر میں ایک نرس رکھ لیں تو وہ راضی ہو گئیں۔لندن میں 11 فروری 1963 کی جس صبح نرس نے سلویا کا خیال رکھنے نو بجے جانا تھا اس صبح 6 سے ساڑھے نو بجے کے درمیان کسی وقت انہوں نے دونوں بچوں کو علیحدہ کمرے میں سلایا اور خود گیس کا چولھا جلا کر اس میں اپنے سر گھسا دیا اور کاربن مانو آکسائڈ کی زہریلی گیس کی شدت سے خود کشی کر لی۔ جب نرس آئی تو اسے دو سوتے ہوئے بچے اور سلویا کی لاش ملی۔ بچوں کا ناشتہ تیار پڑا تھا ۔
بچے تو چند گھنٹوں کے بعد جاگ گئے لیکن سلویا ابدی نیند سو گئیں۔ پولیس تحقیقات نے موت کی وجہ خود کشی قرار دیا ۔
سلویا پلاتھ کو 1982 میں بعد از مرگ شاعری میں نامور انعام پلٹزر پرائز سے نوازا گیا جو بعد از مرگ کم ہی دیا جاتا ہے ۔
سلویا کے بچوں نے ان کا فن اور پاگل پن دونوں وراثت میں پائے ان کی بیٹی فریدہ ایک فنکار بن گئیں اور ان کے بیٹے نکولس نے 2009 میں ماں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خود کشی کر لی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلحاظ جوتش پراشری
سلویا کے چارٹ کو اگر دیکھا جائے تو لگنیش بارہویں گھر اپنے برج میں ہے جس پہ چھٹے گھر سے نیچ منگل اور پلوٹوکی نظر ہے۔ لگنیش حامل کی شخصیت اور زندگی کی طرف رویے کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے لگنیش کے متعلق پراشرا نے کہا تھا اس کا حامل جسمانی راحت سے محروم ، غیر اہم کاموں میں مصروف اور جنم بھومی سے دور ملک میں رہے گا ۔ بارہویں گھر میں لگنیش پہ نحسین کی نظر ایسے شخص کو احساس کمتری ، حساس / غصیلا بنا سکتی ہے جو اگرچہ بظاہر سطح پر دکھائی نہ دیتا ہو لیکن بباطن موجود ہو کیونکہ جدید آسٹرو سائکالوجی بارہویں گھر کو ذہن لاشعور کا گھر بھی قرار دیتی ہے ۔ جس گھر میں لگنیش موجود ہو خصؤصا اپنے برج میں وہ گھر یقیننا قوت حاصل کرتا ہے لیکن اس کیس میں لگنیش شنی پہ ایک نہیں دو نحسین کی نظر ہے راشی میں منگل اور بھاوا چارٹ میں کیتو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح لگن پہ بھی منگل کی نظر ہے اور راہو اس میں موجود ہے ۔لگن اور لگنیش ایسے عوامل ہیں جو اگر کمزور ہوں تو پورا چارٹ کمزور پڑجاتا ہے ایسے شخص میں زندگی کے مصائب سے لڑنے کی ہمت کم ہوتی ہے یا بالکل موجود نہیں ہوتی ۔
چارٹ کا دوسرا اہم سیارہ چندر ہے جو آٹھویں گھرمیں ہے ۔ کرشن پکش کی تیرہویں تتھی میں صرف چودہ فیصد روشن ہے اس کے ایک دن بعد اماوس ہے۔ ایک پُر اعتماد اور مطمئن زندگی کے لیئے کسی چارٹ میں چندر کا روشن ہونا بہت ضروری ہے ۔ چندر چھٹے کا حاکم ہو کر آٹھویں میں ہے اور ہرش وپریت راج یوگ بنا رہا ہے ۔ چندر جو بچپن ،جذبات کے اتار چڑھاو،حساسیت ، موڈ ، ذہن اور عمومی فلا ح کا سیارہ ہے اس کا آٹھویں گھر ہونا ، بھاو ا میں کیتو سے یکت ہونا چندر جیسے نازک سیارے کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلویا کا بچپن جذباتی لحاظ سے خوشگوار نہیں گذرا اور ان کے اندر حساسیت بہت زیادہ ہے، جسمانی لحاظ سے سست ، ہر بات کو گہرائی اور شدت سے محسوس کرتی ہیں ، ذہنی سکون میں خلل اور دباو کے حالات میں ان کا رد عمل بہت جذباتی ہوگا اور صحت کے مسائل کے ساتھ موڈ بھی اتار چڑھاو کا شکار رہے گا ۔ تاہم چندر کا آٹھویں گھر ہونا اس گھر کو مضبوط اور اس کی منسوبات کو سلویا کی شخصیت میں نمایاں بناتا ہےاور نوانش میں چندر کا شرف میں ہونا صورتحال کو سنبھالا دے رہا ہے ۔
اگر لگن یا چندر پہ نحس سیارے کی نظر ہو یا اس سے یکت ہوں اور سعد سیارے کی نظر بھی نہ ہو تو اس شخص کی جسمانی صحت اچھی نہیں ہو گی ۔ ( برہت پراشرا ہورا۔ ادھیائے 12 اشلوک 3)
چارٹ کا سب سے بہتر سیارہ بدھ ہے جو پانچویں گھر (تخلیقی صلاحیت) کا حاکم ہو کر نویں میں ہے نوانش میں اپنے راشی میں ہے ، بھاوا میں دسویں میں ہے جو سلویا کو ذکاوت حس ، اپنے فن میں مہارت اور تخلیقی صلاحیت بخش رہا ہے ۔
لیکن چارٹ کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو
کیندر سوائے مشتری کے سعد سیارگان سے خالی ہے ۔بدھ پہ منگل اور راہو کی نظر ہے اور بھاوا میں دسویں گھر جانے کے بعد بھی منگل کی نظر میں رہتا ہے ۔
نویں آٹھویں کے حاکمان دینیہ پری ورتن بنا رہے ہیں جو نحس یوگ ہے (مذہب کا نقصان اور اس سے منسلکہ مسائل) ۔پھالا دیپیکا دینیہ پری ورتن کے متعلق یہ بھی کہتا ہے کہ اس کا حامل دشمنوں سے تکلیف پائے گا ، اپنی زبان سے دوسروں کو تکلیف دے گا ، اس کا ذہن متوازن نہیں رہے گا اور اس کے ہر کام کے پورا ہونے میں میں رکاوٹیں ہوں ۔(6:33)
اس کے علاوہ چارٹ اس چارٹ میں سوریا ، منگل اور شکر نہ صرف نیچ میں ہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ دونوں سوریا اور منگل اپنے نیچ کے انتہائی درجات میں ہیں ۔
مشتری جو کہ کشادگی ، بھاگیہ ، دھرم ، دولت ، مثبت انداز فکر،خاوند ، بچوں اورباپ کا کارک ہے کیتو سے یکساں درجات پہ اور نیپچون سے یکت ہے بھاوا چارٹ میں بمعہ کیتو آٹھویں میں چلا جاتا ہے
پلوٹو اور یورینس ورگوتم ہیں
والد کی وفات
سلویا کے والد کی وفات 5 نومبر 1940 ۔ مریخ ۔مشتری۔سوریا دشا (ونشوتری) میں ہوئی
پھالا دیپیکا کے مطابق اگر راشی چارٹ میں سوریا نویں میں ہو تو اس بات کا امکان ہوتا ہے حامل اپنے باپ کو کھو دے گا تاہم اسے بچے اور دوسرے رشتے نصیب میں رہیں گے ۔ سلویا کے کیس میں سوریا نویں میں نیچ ہے ، راہو اور شنی کی نظر ہے ۔
زائچے میں خودکشی کے گھر
لگن سے آٹھواں گھر موت کے طریق کو ظاہر کرتا ہے ۔ آٹھویں سے آٹھواں یعنی تیسرا گھر حامل، اس کے ارادے اور شجاعت کو ظاہر کرتا ہے ۔ خود کُشی کرنے کے لیئے بھی عزم اور ارادہ چاہئیے چنانچہ تیسرا گھر خُود کُشی کا گھر ہے
اسی طرح لگن بھی حامل اور اس کے ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔ جب لگن اور تیسرے کے حاکمان اچھی نشت یا شرف ، کیندر ، ترکون یا دوست کے گھر ہوں اور ان پہ سعد سیارگان کی نظر ہو اور نحس نظر اور محاصرےسے پاک ہوں تو حامل کے اندر اتنی جرات موجود ہے کہ زندگی کی مشکلات کو حل اوران کا مقابلہ کر سکے۔
جب پہلے اور تیسرے گھر یا ان کے حاکمان / کارک پر نحس اثرات ہوں تو حامل کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور وہ ذہنی طور پر اتنا پریشان ہو سکتا ہے کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لے ۔ اس طرح کا فرد بُزدل یا کمزور نہیں ہوتا کسی ہنجانی قوت کے زیر اثر کسی لمحے ایسا فیصلہ کر سکتا ہے۔
اگر لگن ، تیسرے اور آٹھویں گھر گھروں کے حاکمان آپس میں متعلق ہوں اور نحس سیارگان کی نظر میں ہوں یا کمزور ہوں تو خوُدکُشی کے ذریعے موت ہو سکتی ہے ۔
پانچواں گھر (بدھی استھان) کی اہمیت ثانوی ہے ۔
خود کشی کے سیاروی اشارے
چندر، دماغ ، مُوڈ یا کسی صورتحال کے طریق سے منسوب ہے اس لیئے یہ خود کشی میں ملوث ہو سکتا ہے
عطارد نروس سسٹم سے منسوب ہے ۔ نروس سسٹم پر دباو اور کھچاو کے بغیر کوئی خود کشی نہیں کرتا۔ چنانچہ چندر اور عطارد پر مریخ ، شنی ، راہو کیتو کے نحس اثرات بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔
سعدمشتری ، زہرہ یا طاقتور نویں کے حاکم کی نظر یا قران صورتحال کو خراب نہیں ہونے دے گی ۔
اس سب بنیادی نکات سے یہی اصول طے ہوتا ہے کہ خود کُشی کرنے کے لیئے کم از کم چندر اور عطارد کا نحس ہونا ضروری ہے اور لگن ، تیسرے اور آٹھویں کے حاکمان کا آپسی سمبندھ ضروری ہے۔
سلویا کی خود کشیاں
خوکشی کی پہلی کوشش ۔ 24 اگست 1953 ۔ بذریعہ خواب گولیاں ۔ راہو بدھ بدھ د دشا
خوکشی کی دوسری کوشش ۔ جون 1962 ۔ اپنی کار دریا میں گرا کر ۔ راہو چندر شکر
خود کشی سے موت ۔11 فروری 1963 ۔ راہو ، منگل ، بدھ د دشا
اگرچہ سلویا سعد نچھتر میں پیدا ہوئی تاہم سلویا کی خود کشی کی تمام کوششیں راہو مہا دشا میں ہوئیں ۔ راہو جو پہلے گھر موجود ہے اس پہ منگل کی نظر ہے اور بھاوا میں شنی کی بھی نظر ہے ۔ راہو پوربا بھدر پد نچھتر میں موجود ہے جو نحس نچھتر ہے اور اس کا ادھی پتی مشتری ہے جو ساتویں گھر کیتو اور نیپچون سے یکت ہے ۔
سلویا کے چارٹ میں لگن ، تیسرے اور آٹھویں کے حاکمان کا آپسی سمبندھ کی شرط پوری ہوتی ہے اور دشا ناتھ کا بمعہ مشتری راہو کیتو محور ہونا خوکشیوں کی بڑی وجہ تھا ۔
سلویا نے اپنی ڈائری میں ذہنی کیفیات کے بارے میں لکھا :
میں جسے اس بات کی خلش ہے، کہ میں زندگی کے ہر رنگ اور ہر تنوع کو بھرپور طریقے سے محسوس کرنا چاہتی ہوں، لیکن میں خوفناک حد تک محدود ہوں۔
اس نے ایک بار اپنی ذہنی کیفیت کے بارے میں لکھا، میں یا تو لمحے بھر میں بے حد خوش اور سرگرم رہ سکتی ہوں، یا پھر بے حد سست اور غمگین ہو سکتی ہوں، ان دونوں کیفیات کے بیچ معلق رہنا مجھے پاگل بنا دے گا۔
ایک بار اس نے کہا، کیا سوچوں سے باہر جانے کا کوئی راستہ ہے؟


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں