تری پٹاکی چکرایک تعارف۔ امریکی گلوکار سٹیوی ونڈر کیس سٹڈی

یہ چکر نوزائیدہ بچوں سے لے کر بارہ یا چوبیس سال کی عمر تک بچوں میں بیماری ( بال ارشت یعنی بچوں میں شدید بیماری یا مرض الموت)وغیرہ کی پیشین گوئی کرنے کے کام آتا ہےکیونکہ پراشرا کے مطابق چوبیس سال سے پہلے کی عمر میں انسان کی طول عمر کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی یا نہیں کی جانی چاہئیے البتہ جٹاکا پری جات ، پھل دیپیکا اور دوسری کتب اس عمر کو بارہ سال تک محدود کرتی ہیں)۔ اس چکر کو استعمال کرنے سے پہلے پیدائشی زائچے کا تجزیہ ، دشا ، ورگ اور ٹرانزٹس سے کرنا چاہئیے اور اگر بال ارشت موجود ہے تو اس کے بعد اس چکر کو استعمال کرنا چاہئیے تاکہ جو اشارے راشی چارٹ میں مبہم یا غیر واضح ہیں وہ دیکھے جا سکیں ۔
تری پتاکی کی تکنیک میں ردو بدل کر کے اس کی مختلف اقسام ہندوستان کے کئی علاقوں میں استعمال کی جاتی ہیں اور ان کی تفسیر ی آراء  میں اختلاف اتنا زیادہ ہے کہ نیا سیکھنے والا انسان کنفیوز ہو جاتا ہے ۔ اس لیئے چند اور ابتدائی نکات کا ہی ذکر کیا جائے گا۔
اس جائزے میں کیس سٹڈی کے طور پر امریکی گلوکار سٹیوی ونڈر کا زائچہ اور پٹاکی چکر دیکھا جائے گا ۔ اس گلوگار کے نغمے مثلا آئی جسٹ کالڈ ٹو سے آئی لو یو یا پارٹ ٹائم لور اسی کی دہائی کے آخر میں بہت مشہور تھے اور مجھے بہت پسند تھے ۔
سٹیوی کی پیدائش چھے ہفتے قبل از وقت (پری میچور)ہوئی تھی اور پیدائش کے وقت اس کے پھیپھڑے پوری طرح بنے نہیں تھے تو اسے انکیوبیٹر میں رکھ کر مصنوعی طریقے سے آکسیجن فراہم کی گئی تھی ۔ اس طریقے سے آکسیجن دینے سے اس میں ایک بیماری جسے ریٹنوپیتھی آف پری میچورٹی پیدا ہوئی جو آنکھوں کے قرنیئے کو خون پہنچانے والی رگوں کی بڑہوتری و نشونماپر اثر انداز ہوتی ہے جس سے قرنیئے کو نقصان پہنچتا ہے یا وہ آنکھوں سے علیحدہ بھی ہو جاتے ہیں ۔ اس طرح سٹیوی زندگی بھر کے لیئے آنکھوں سے معذور ہو گیا اگرچہ بعد میں وہ موسیقی کے آسمان پہ درخشندہ ستارہ بن کے چمکا۔
تری پٹاکی جیسا کہ شکل میں دکھایا گیا ہے اس کے کونوں پہ، لگن کی جگہ سے شروع کرتے ہوئے بروج کو
سٹیوی ونڈر کا تری پٹاکی چکر
اینٹی کلاک وائز لکھا جاتا ہے۔ عام طور پر بروج کے ساتھ کچھ نمبر بھی لکھے ہوتے ہیں جو اس عمر کا پتہ دیتے ہیں جس عمر میں پہنچ کر ارشت کے ظہور پذیر ہونے کا کا خدشہ ہوتا ہے لیکن تری پٹاکی میں یہ عمر نکالنے کی تکنیک چونکہ قابل اعتماد نہیں ہے اس لیئے اسے استعمال نہیں کیا جائے گا ۔ بنیادی طور پر تری پٹاکی کو زائچے پہ چسپاں (سپر امپوز) کر کے دیکھا جاتا ہے ۔
ویدھ
ویدھ سنسکرت لفظ ہے جس کا مطلب رکاوٹ یا مخالفت ہے اور پٹاکی چکر میں بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ نحس سیارے کی ویدھ نقصان کرتی ہے جبکہ سعد سیارے کی ویدھ حفاظت کرتی ہے۔ ویدھ چار طریق سے کام کرتی ہے ۔ پہلے تو یہ جس برج میں ہے اسے ویدھ کرتی ہے اور پھر بقیہ تین بروج کی
جو لائن سے ملے ہیں ۔ مثلا اوپر دی گئی شکل میں حمل برج میں بیٹھا سیارہ ایک تو حمل کو ویدھ کرے گا اس کے علاوہ سنبلہ،قوس اور حوت کو کرے یعنی وہ سیارہ بالکل سیدھے رخ ، دائیں رخ اور آخر میں بائیں رخ کی لائن کے آخر کے برج کو ویدھ کرے گا۔ ا سکی مزید وضاحت اس کی جدول کرے گی۔ جدول میں لکھے نمبر کا مطلب برج کا سیریل نمبر ہے یعنی ایک کا مطلب حمل ،دو کا مطلب ثور ، تین کا مطلب جوزا ، چار کا مطلب سرطان وغیرہ
اگر اسے زبانی یاد کرنا چاہتے ہیں تو سادہ اصول یہ ہے
منقلب بروج کے سیارگان اپنے برج کے علاوہ اپنے سے، چھٹی، نویں اور بارہویں جگہ پر موجود بروج کو ویدھ کرتے ہیں
ثابت بروج کے سیارگان اپنے برج کے علاوہ اپنے سے چوتھی، ساتویں اور دسویں جگہ کے بروج کو ویدھ کرتے ہیں
ذوجسدین بروج کے سیارگان اپنے برج کے علاوہ اپنے سے دوسری،پانچویں اور آٹھویں جگہ کے برج کو ویدھ کرتے ہیں
یم اردھ 
اگرچہ سنسکرت میں یم کا مطلب موت یا موت کا فرشتہ ، نقصان وغیرہ ہوتا ہے ۔ تاہم اس چکر میں ہندی دن کے دورانیئے کو اگر آٹھ برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر حصہ یم کہلائے گا ۔ جب ہر یم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا گا تو ہر حصہ یم اردھ کہلائے گا۔( اردھ کا مطلب ہوا نصف اور یم دن کا آٹھواں حصہ ۔ )یم اردھ ، یم کا نصف ہوتا ہے ۔
چونکہ اس تقسیم کی بنیاد دن پر ہے تو سورج کاطلوع وغروب کا وقت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ سورج طلوع اور غروب ہونے کے دورانیئے کو دن من کہا جاتا ہے۔ دن کا مطلب تو دن ہی ہے اور من کا مطلب دورانیہ ہے ۔اس طرح ایک دن ( طلوع آفتاب سے غروب تک)میں چار یم ہو گئے اور آٹھ یم اردھ ہو گئے ۔ یم سورج کا بیٹا بھی کہلاتا ہے ۔چونکہ دن کی طوالت مختلف موسموں میں مختلف ہوتی ہے تو یم اور یم اردھ کا دورانیہ بھی گھٹتا بڑھتا رہتا ہے ۔ ہر یم اردھ دورانیئے کا چوتھائی حصہ ڈنڈ (لفظی مطلب جرمانہ ، نقصان ) کہلاتا ہے
اسی طرح رات کا دورانیہ راتری من کہلاتا ہے (راتری کا مطلب رات ہوتا ہے ۔)
یم اردھ پتی ( اردھ یامیش)
یم اردھ کا مالک سیارہ یم اردھ پتی کہلاتا ہے۔ اس کی کیلکولیشن کا طریقہ حامل کی دن اور رات کی پیدائش کے لیئے الگ الگ ہے۔ اس کی مزید تفصیل میں جائے بغیر جدول اس سلسلے میں کار آمد ہے ۔پیشین گوئی کے لیئے یم اردھ پتی کو اچھی نشست کا حامل سعد سیارہ ہونا چاہئیے تاکہ وہ اچھی حفاظت فراہم کر سکے نحس ہونے کی صورت میں وہ بھی ڈنڈ پتی کی طرح کا نقصان دہ سیارہ بن جاتا ہے۔
ڈنڈ اوریم ڈنڈ پتی( ڈنڈ مان یا ڈنڈیش)
ہر یم اردھ کو چار حصوں میں تقسیم کریں تو ہر حصہ ڈنڈ کہلائے گا ۔ ہر دن میں چونسٹھ ڈنڈ ہوتے ہیں ۔
رات کے یم ڈنڈ پتی( ڈنڈ مان یا ڈنڈیش)
ہر ڈنڈ کا مالک سیارہ یم ڈنڈ پتی (ڈنڈ مان یا ڈنڈیش)کہلاتا ہے ۔ رات میں یم اردھ کے پہلےڈنڈ کا مالک سیارہ ،یم اردھ پتی ہوتا ہے جبکہ بقیہ مالکان کا تعین پچھلے ڈنڈ پتی کے دن سے چھٹے دن کا حاکم ہو گا۔
وضاحت
ہم سب جانتے ہیں کہ اتوار کے دن غروب آفتاب کے فورا بعد کے یم اردھ کا مالک سورج ہے۔ سورج کے یم اردھ میں دوسرا ڈنڈ پتی کا مالک وہ ہو گا جو سورج کے دن سے سے چھٹے دن کا مالک ہو گا جو کہ زہرہ ہے ۔ اسی طرح تیسرے ڈنڈ کا مالک زہرہ سے چھٹے دن کا مالک ہو گا جو کہ عطارد ہے اور چوتھے کا قمر ہے ۔
دن کے ڈنڈ پتی(ڈنڈیش)
دن کے یم اردھ کےپہلے ڈنڈ کا مالک ، یم اردھ پتی ہی ہو گا ۔ دوسرے ڈنڈ کا مالک وہ سیارہ ہو گا جو
پچھلے ڈنڈ پتی کے نمبر کو دو پر تقسیم کرنے سے حاصل ہو گا ( حاصل شدہ میں کسر کو نظر انداز کیا جائے گا)۔ جب جواب ایک نمبر سے کم ہو تو مالک راہو ہو گا کیونکہ اس کا نمبر آٹھ ہے ۔
وضاحت
وضاحت کے لیئے آئیں قمر کے یم اردھ کے ڈنڈپتی کو معلوم کرتے ہیں ۔ پہلے ڈنڈ کا مالک تو ظاہر ہے قمر ہی ہو گا ۔ اور دوسرے کا سورج کیونکہ جب ہم قمر کے نمبر کو جو کہ دو ہے اسے دو سے تقسیم کرتے ہیں تو حاصل ایک آتا ہے جو کہ سورج کا نمبر ہے ۔ تیسرے ڈنڈ کا مالک راہو ہو گا کیونکہ کیونکہ سورج کا نمبر ایک ہے تو جب اسے دو پر تقسیم کریں گے تو حاصل پوانٹ فائیو آئے گا جس کی قیمت ایک سے کم ہے ۔ اسی طرح چوتھے ڈنڈ کا مالک عطارد ہو گا کیونکہ راہو کا نمبر جو کہ آٹھ ہے اسے دو پر تقسیم کریں گے تو حاصل چار آئے گا جو کہ عطارد کا نمبر ہے ۔ اس طرح رات قمر کے یم اردھ میں ڈنڈ پتی کے حاکمان ، قمر، سورج، راہو اور عطارد ہوئے۔
ہر سیارے کا نمبر ذیل میں دیا ہے
سورج۔1۔ قمر ۔2۔ مریخ۔3۔عطارد۔4۔ مشتری۔5۔ زہرہ۔6۔ زحل۔7۔ راہو۔8۔
دیکھئے دن اور رات پر مبنی یم اردھ کے ڈنڈ پتی کا جدول
تجزیہ کے لیئے رہنما نکات
· پٹاکی چکر کا تجزیہ بنیادی طور اردھ یامیش ، ڈنڈیش اور ویدھ کے گرد گھومتا ہے ۔ اضافی طور پر کچھ اضافی عوامل جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے وہ بھی استعمال کیئے جاتے ہیں ۔ جیمنی جوتش کے ماہرین اس میں جیمنی کی تکنیک کا بھی استعمال کرتے ہیں ۔ سعد سیارگان کی ویدھ کا غلبہ حامل کو حفاظت مہیا کرتی ہے جبکہ نحس سیارگان کی ویدھ کا غلبہ نقصان پہنچاتی ہے۔
· اردھ یامیش کو اچھی نشست کا حامل سعد سیارہ ہونا چاہئیے تبھی وہ حفاظت مہیا کر سکے گا۔ دوسری صورت میں وہ بھی ڈنڈیش کی طرح ایک نقصان دہ سیارہ ہو گا ۔
· اگر جنم لگن پہ نحسین (زحل ، مریخ ، راہو ، کیتو یا سورج)کی ویدھ ہے یا اس سے قران ہے تو یہ تکلیف کا اشارہ ہے لیکن اگر سعد سیارگان کا ہے تو اچھے نتائج کی امید ہے
· وقت پیدائش اگر سعد سیارہ کی ڈنڈ چل رہی ہے یا سعد سیارگان ڈنڈ سیارے سے منسلک ہیں تو یہ اچھا ہے لیکن اگر نحس کی ڈنڈ چل رہی ہے اور وہ نحسیں سے منسلک ہے تو برا اشارہ ہے ۔
· اگر ڈنڈ پتی نحس سیارہ ہے اور اس کے ساتھ ویدھ بھی ہے تو بچہ کسی بھی وقت فوت ہو جائے گا ۔ اگر ڈنڈ پتی سعد سیارگان کے ساتھ منسلک نہیں ہے لیکن نحس کے ساتھ منسلک ہے تو بچہ بہت جلد فوت ہو جائے گا ۔
· اگر ڈنڈ پتی نحس ہے لیکن سعد کے ساتھ منسلک ہے اور نحس سے منسلک نہیں ہے ( ویدھ کے ذریعے یا پی اے سی(پوزیشن ، اسپیکٹ ، کنجکشن) کے ذریعے) تو فکر کی کوئی بات نہیں اور بچہ جلد ٹھیک ہو جائے گا ۔
· اگر دشا بھی اچھی نہیں تو ارشت ہو گی۔
· لگن کے علاوہ چندر پہ بھی ویدھ دیکھنی چاہئیے
·  اگر دن کا حاکم ڈنڈ پتی بھی بن جائے تو ارشت ختم ہو جائے گی ۔ اس علاوہ اگر زائچے میں دوسرے اچھے یوگ بھی موجود ہیں تو بھی حفاظت مہیا ہو گی۔
یم اردھ اور ڈنڈیش کی کیلکولیشن۔ سٹیوی ونڈر
اگرچہ یہ کیلکولیشن روایتی طور پر ہندو وقت ،گھاتی ،پل اور وپل میں ہوتی رہی ہےلیکن یہاں ہم وقت کی جدید تکنیک استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔
یم اردھ پتی کی کیلکولیشن
مقام پیدائش کاطلوع آفتاب۔5.19.08 بجے یا (5.318 آورز)
مقام پیدائش کا غروب آفتاب۔19.45.38 بجے یا ( 19.760 آورز)
دن من( دن کا دورانیہ)۔ 14.442 گھنٹے
یم کا دورانیہ ۔ 14.442تقسیم8 برابر ہے 1.805 گھنٹے
حامل کا وقت پیدائش ۔ 16:15:49بجے یا 16.263 آورز یعنی حامل کا وقت پیدائش سورج طلوع ہونے کے 10.945 آورز بعد کا ہے اس طرح وقت پیدائش جو یم اردھ طلوع ہو رہا تھا وہ (10.945 تقسیم 1.805 برابر ہے 6.063 آورز ہے جس کا راونڈ فگر 6 ہی بنتا ہے ۔ اب ہم حامل کی پیدائش کا ہندو دن یعنی ہفتہ ،جدول میں چیک کریں گے تو چھٹا یم اردھ پتی بدھ سیارہ بنتا ہے جو سعد ہے اور لگن کا حاکم بھی ہے۔
ڈنڈ پتی (ڈنڈیش ، ڈنڈمان ) کی کیلکولیشن
اب بدھ سیارہ کے یم اردھ میں طلوع ہونے والے ڈنڈ کا پتہ چلانے کے لیئے یم اردھ کی ڈیسی مل ویلیو کی کسر جو کہ 0.063 ہے وہ نوٹ کریں گے ۔ چونکہ یم اردھ میں چار ڈنڈ ہیں تو پہلا ڈنڈ0.00 سے 0.25، دوسرا ڈنڈ0.25 سے 0.50 ، تیسرا ڈنڈ0.50 سے 0.75 اور چوتھا 0.75 سے 1.00 ہو گا ۔ یہ بتاتا ہے کہ حامل پہلے ڈنڈ میں پیدا ہوا جس کا جدول سے دیکھا تو بدھ نکلا ۔ اس طرح حامل کا ڈنڈ ادھی پتی بدھ ہے ۔
جے ہوا سوفٹویئر میں حامل کا زئچہ بنا کر اپنے مقصد کے لیئے ہم ذیل پانچ اور ویلیوز حاصل کریں گے
بائیسویں دریشکنا کا حاکم ۔ سورریا ۔( اس دریشکنا کا حاکم کھاریش کہلاتا ہے اور حامل کو جسمانی نقصان کی نشاندہی کرتا ہے ۔ چندر سے کھاریش کی نشست حامل کی ذہنی تکلیف کا پتہ دیتی ہے)
چونسٹھویں نوانش کا حاکم ۔ بدھ ( چونسٹھواں نوانش زائچے کا وہ حصہ ہے جو کسی حامل کی زندگی میں برے واقعات کو شروع کر سکتا ہے)
مرتیو بھاگ کا سیارہ ۔ مریخ ( اگرچہ مرتیو بھاگ عین ڈگری سے 0.97 منٹ پرے ہے)
پشکر انش کا سیارہ ۔ سوریا اور منگل ( زائچے کے نوانش کے ہر برج کی ایک خاص ڈگری جو سعد ترین تصور ہوتی ہے)
گولیک ۔ حمل 28 ڈگری 56 منٹ
سٹیوی ونڈ کا تری پٹاکی چکر  مضمون کے شروع میں دکھایا گیا ہے 
ویدھ
منفی ویدھ
کیتو لگن کو ویدھ کر رہا ہے اس کے علاوہ ساتویں گھر چندر ، راہو اور شُکر کو ویدھ کر رہا ہے۔یعنی لگن اور چندر دونوں کیتو سے متاثر ہیں ۔ کیتو کو ہندی اسطورہ میں ایک اندھے وجود کی حیثیت سے جانا جاتا ہے ۔پھپھڑوں ، آنکھوں وغیرہ کے امراض کے علاوہ مزمن اور ناقابل علاج امراض کا کارک بھی ہے ۔
سوریا جو گولیک کے ساتھ ہے اور کھاریش ہے وہ بارہویں گھر(بائیں آنلھ) جہاں دو نحسین ہیں اسے ویدھ کر رہا ہے
مثبت ویدھ
شُکر جو ساتویں گھر شرف میں ہے اور مالویہ یوگ بنا رہا ہے وہ چندر اور لگن کو ویدھ کر رہا ہے۔
چندر اگرچہ کرشن پکش میں ہونے اور منگل کی نظر کی وجہ سے نحس ہے تاہم تری پٹاکی میں اسے سعد تصور کیا جاتا ہے اور لگن کو ویدھ کر رہا ہے۔
دشا
اگرچہ مہا دشا اچھی ہے ،انتر دشا حاکم بھی شرف یافتہ شکر سے یکت ہے البتہ پری انتر دشا حاکم شنی چھٹے گھر کا حاکم ہونے کی بنا پہ بیماری کا اشارہ دے رہا ہے۔
حفاظتی اشارے
لگن کا حاکم راشی میں نویں گھر ہے
ڈنڈیش کی لگن یا چندر پہ ویدھ نہیں ہے ۔
سنبلہ برج راہو کیتو کے لیئے جدید ماہرین کی نظر میں شرف کا کا برج ہے۔ تاہم ان ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کیتو بہرحال کچھ نہ کچھ نقصان ضرور کرتا ہے۔
نتیجہ
مجموعی طور پر بچے کی جان کو موت کا خطرہ تو نہ تھا البتہ جسمانی نقصان کا خطرہ تھا جو وقوع پذیر ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔
مزید دلچسپی رکھنے والے احباب مرتیو بھاگ ، دریشکنا ، پشکر نوانش وغیرہ استعمال کر کے اس پہ مزید تحقیق کر سکتے ہیں ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga