بال ارشت
بال ارشت دو ہندی الفاظ کا مرکب ہے ۔ بال یعنی بچہ اور ارشت کے معنی بدقسمتی یا نحوست کے ہیں ۔ہندو آسٹرالوجی میں بچے کے زائچے میں اس دوش کو کہتے ہیں جو بیماری کا خطرہ ، جسمانی کمزوری یا بچپن میں زندگی کو لاحق خطرات سے متعلق ہے۔ اس کا ظہور شدید بیماری ، ایکسیڈنٹ، قبل از وقت پیدائش ، پیدائشی نقص ، وقت پیدائش یا اس کے بعد زخم یا کسی اور بڑے حادثے کی صورت میں قبل از وقت موت کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ زائچے میں موجود ارشت بچے کے خاندان میں موجود کسی اور فرد کو نقصان کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے جیسے موجودہ شاہ برطانیہ کے فرزند ،ولیم پرنس آف ویلز کے زائچے میں موجود ارشت لیڈی ڈیانا کے لیئے بری ثابت ہوئی اور ولیم کی پندرہ سال کی عمر میں اُس کا انتقال ایک حادثے میں ہوا۔ تاہم سعد اثرات اس ارشت کے اثرات کو محدود کرتے ہیں جو ارشت بھنگ کہلاتے ہیں ۔برہت پراشرا ہورا کے مطابق قبل از وقت موت کا خطرہ چوبیس سال کی عمر تک موجود رہتا ہے اس لیئے طول عمر کا کوئی اندازہ و پیشین گوئی بچے کی اس عمر تک پہنچنے سے پہلے نہیں لگانا چاہئیے۔ جٹاکا پری جات پھل دیپیکا وغیرہ اس عمر کو بارہ سال کی عمر تک محدود کرتے ہیں ۔ زائچے میں اگر ارشت موجود ہے تو بقیہ زائچے کا تجزیہ بارہ سال کے بعد کی عمر تک موقوف کر دینا چاہئیے اور اس سے پہلے بچے کی حفاظت میڈیکل کیئر ، ویکسین لگوانے ، ماں اور بچے کی حفظان صحت کے اصولوں کی روشنی میں نگہداشت سے کرنا چاہئیے ۔
بال ارشت زائچے میں بنیادی طور پر چندر کی حالت پر منحصر ہوتی ہے کیونکہ چندر نوزائیدہ بچے کی ابتدائی نگہداشت و پرداخت اور ماں کا کارک ہے۔ اس وجہ سے چندر کی نحوست ماں اور بچے دونوں کو خطرے کی نشاندہی کرتی ہے ۔ یا دونوں پر الگ الگ طریق سے اثر انداز ہوتی ہے ۔
چندر کے علاوہ لگن اور لگن کے حاکم پر نحوست بھی بال ارشت کا باعث ہوتی ہے کیونکہ لگن ذہانت اور زندگی کی علامت ہے ۔
آٹھواں گھر طول عمری کا گھر ہے تو اسے بھی محفوظ ہونا چاہئیے ۔ آٹھویں گھر یا آٹھویں کے حاکم پہ نحوست ارشت پیدا کر کے زندگی کو مختصر کرتی ہے۔
کیندر کے گھر زندگی کے ستون ہیں تو انہیں سعد سیارگان کی نشست یا نظرات کے ذریعے طاقتور اور محفوظ ہونا چاہئیے اور ان پر نحوست بال ارشت کا باعث ہوتی ہے۔
بال ارشت کو حقیقی زندگی میں ظہور پذیر ہونے کے لیئے ارشت (یوگ)سیارگان کی دشا بھی چلنی چاہئیے ، اگر صحیح وقت پیدائش میسر ہے تو ورگ زائچوں میں بھی اسے دیکھنا چاہئیے ۔اور آخر میں گوچر اس عنصر کو کنفرم کرتا ہے ۔
جوتش کی کلاسک کتب میں بال ارشت کے بے شمار نکات ہیں (جنہیں یاد بھی رکھنا مشکل ہے ) جو مندرجہ بالا اصولوں پہ استوار ہیں اور یہ کتب بہت سخت زبان یعنی موت وغیرہ کا لفظ بار بار اور یقینی انداز میں استعمال کرتی ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ کتب اس وقت مرتب ہوئیں تھیں جب میڈیکل سائنس نے ترقی نہیں کی تھی ، علاج معالجے کی مناسب سہولیات یا تو زچہ و بچہ کو میسر نہیں ہوتی تھیں یا پھر پُراثر اور فوری نتائج کی حامل نہیں تھیں ۔ اس کے علاوہ بچے کا زائچہ پڑھتے ہوئے دیش کال پاتر کا اصول ذہن میں رہنا چاہئیے یعنی اسلام آباد یا کراچی کے پوش علاقے کے بچے کا زائچہ اور اسلام کوٹ تھرپارکر کے بچے کی اس حوالے سے تعبیر و تشریح الگ الگ ہو گی ۔
مندرجہ ذیل نکات برہت پراشرا کے ادھیائے 9 سے ہیں ۔
اگر چندر ، لگن سے چھے آٹھ بارہ میں ہے اور اس پر نحس کی نظر ہے تو بچہ جلد فوت ہو جائے گا۔ لیکن کسی سعد کی نظر ہے تو آٹھ سال کی عمر تک زندہ رہ سکتا ہے ( تبصرہ ۔ لیکن اگر چندر شُکل پکش میں ہے تو پھر گھبرانے کی ضرورت نہیں)۔ اگر کوئی راجع سعد چھٹے آٹھویں بارہویں میں ہے اور نحس کی نظر میں ہے تو پیدائش کے ایک مہینے کے اندر موت ہو جائے گی ایسا تب ہو گا اگر لگن میں کوئی سعد سیارہ موجود نہ ہو ۔ اگر پانچویں گھر شنی ، منگل اور سوریا تینوں موجود ہیں تو ماں اور بھائی کی موت جلد ہو گی ۔ لگن یا آٹھویں میں منگل ہو اور شنی یا سوریا سے قران ہو یا اس پہ نحس کی نظر ہو تو اس طرح کسی سعد اثر کی غیر موجودگی میں فوری موت ہو جائے گی۔
اگر شنی اور منگل لگن کو ناظر ہوں اور نیرین زائچے میں کسی اور جگہ راہو کے ساتھ ہو تو تو بچہ صرف ایک پندھواڑہ زندہ رہے گا ۔ اگر دسویں میں شنی ہو ، چندر چھٹے میں اور مریخ ساتویں میں ہو تو بچے اور ماں کی موت اچانک ہو گی۔
اگر شنی لگن میں ہو چندر آٹھویں اور مشتری تیسرے میں ہو تو فورا وفات ہو گی ۔
اگر سوریا نویں ، مریخ ساتویں ، زہرہ اور مشتری گیارہویں گھر میں ہوں تو تو بچہ ایک مہینے میں وفات پا جائے گا ۔
اگر بارہویں گھر میں کوئی بھی سیارہ ہے تو مختصر زندگی کا باعث بنے گا خصؤصا اگر وہ نیرین ، زہرہ اور راہو ہوں لیکن ان چار سیاروں میں سے کسی ایک کی بھی بارہویں گھر پر نظر اس عمل کو بے اثر کر دے گی ۔ ( تبصرہ۔ میزان لگن کے لیئے سورج کا بارہویں میں ہونا سو سال کی عمر کا باعث ہوتا ہے)۔
اگر چندر ، لگن ، ساتویں یا آٹھویں میں کسی نحس کے ساتھ ہو اور کسی سعد سے منسلک نہ ہوتو جلد موت کا باعث بن سکتا ہے ۔
اگر دن یا رات کی سرحد پہ پیدائش ہو یا چندر کے ہورا میں ہو یا گندانتا میں جبکہ چندر اور نحسین لگن سے کیندر میں ہوں ۔
تین یوگ ایسے ہیں جو جلد موت کا باعث بنتے ہیں :
سندھیا ( صبح یا شام کے جھٹپٹے (شفق) میں پیدائش(مقامی طور پر صبح سورج کا نصف دکھنے سے پہلے کے بہتر منٹ میں پیدائش یا شام سوج کا نصف دکھنے کے فورا بعد کا گھنٹہ( بہتر منٹ) پیدائش یا چندر کے ہورا میں پیدائش یا گندانتا میں پیدائش۔
عقرب لگن میں پیدائش کے وقت اگر تمام نحسیں زائچے کے اورینٹل نصف میں ہوں اور سعدین اوکسیڈنٹل نصف میں ہوں۔( ہندو زائچے کے چوتھے گھر سے لے کر( براستہ ساتویں گھر ) دسویں گھرتک کے نصف حصے کو آکسیڈنٹل(مغربی) نصف جبکہ بقیہ نصف کو اورینٹل( مشرقی یا لگن کی طرف کا حصہ) نصف کہتے ہیں۔)۔ یعنی اگر تمام نحسین مشرقی نصف میں ہوں اور تمام سعدین مغربی نصف میں تو فوری موت کا امکان موجود ہے ۔ اس یوگ کو کلیان ورما، وَجرا مشتی یوگ کا نام دیتا ہے ۔ اس یوگ کے لیئے چندر اگر سعد ہے تو اسے مغربی حصے میں ہونا چاہئیے اور اگر عطارد نحس نہیں ہوا تو یہ یوگ نہیں بنتا ۔
نحسین کا بارہویں اور چھٹے ،یا آٹھویں اور دوسرے ہونا جبکہ لگن نحسین نے نرغے میں ہو تو جلد موت کا امکان ہے ۔
اگر لگن اور ساتویں میں نحسین ہیں اور چندر نحس سے قران ہو جبکہ چندر پہ کسی سعد کی نظر نہ ہو تو قبل از وقت موت ہو گی ۔
اگر کرشن پکش کا چندر لگن میں ہو جبکہ آٹھویں اور کیندر میں نحسین ہوں تو قبل از وقت موت ہو گی اور یہ یقینی ہے۔
چندر کا ،لگن ، ساتویں ، آٹھویں یا بارہویں میں ہونا اور ساتھ ہی نحسین کے نرغے میں ہونا بھی قبل از وقت موت کا باعث ہے۔
اگر چندر لگن میں نحسین کے نرغے میں ہے جبکہ ساتویں اور آٹھویں میں بھی نحس سیارگان ہوں تو بچہ اپنی ماں کے ساتھ جلد موت کا سامنا کرے گا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرنس ولیم جو جلد ہی برطانیہ کے ولی عہد بھی بننے والے ہیں ان کا زائچہ ذیل میں ہے ۔ ماں سے متعلق موٹے موٹے نکات یہ ہیں،
وقت پیدائش راہو کیتو اور شنی ساکت ہیں اس لیئے اثر میں شدید ہیں۔ اگرچہ جوزا ،راہو کا مول ترکون
برج ہے ۔
![]() |
| برطانوی ولی عہد پرنس ولیم چارٹ |
چندر اماوس کے بعد پہلی تاریخ کا ہے ، دو نحسین کے نرغے میں ہے ( سوریا اگرچہ فعلی سعد ترین ہے لیکن فطری نحس ہے)، آٹھویں کا مالک ہے جس پہ شنی کا نظر ہے ۔
چندر سے چوتھے گھر منگل اتی شترو گرہ ہے جو ماں کے لیئے پراشرا کے مطابق بری علامت ہے اس کے علاوہ منگل شنی سے یکت ہے ۔
چندر سے چوتھے گھر کا مالک چندر سے بارہویں گھر ہے اس طرح دونوں کے درمیان دو، بارہ کا تعلق ہے۔
چندر جس گھر میں ہے اس کا مالک زائچے کی چھٹے گھر میں ہے۔
لگن سے چوتھے گھر کا حاکم اپنے گھر سے آٹھویں گھر کی نشست میں ہے۔
لیڈی ڈیانا کا انتقال ( اکتیس اگست انیس سو ستانوے)ولیم کی گورو شنی چندر کی ونشوتری دشا میں ہوا ۔ دشا ناتھ اور شنی میں دو بارہ کا تعلق ہے۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں