دَیر وحَرم
مذہب اور انسان لازم و ملزوم ہیں۔ ازل سے انسان کسی نہ کسی مذہب کی پرستش کرتا آیا ہے بلکہ ایک دانشور کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ اگر شروع سے انسان کے ذہن میں خدا کا تصور نہ بھی ہوتا تو انسان اپنے لیئے ایک نیا خدا ایجاد کر لیتا ۔ ہر معاشرے میں مذہب کا تصور الگ ہے ۔ یورپ میں حضرت عیسی یا مقدس مذہبی شخصیات کے کارٹون بنانا کوئی غیر معمولی بات تصور نہیں ہوتی جبکہ ہند پاکستان میں اسی بات پہ مذہبی فساد ہو جاتے ہیں ۔جیسے انڈیا میں مشہور مصور ایف ایم حسین کو ہندو دیویوں کی تصاویر بنانے پہ ہندوستان بدر ہونا پڑا تھا۔
روایتی مذہب وہ اقدار ہیں جو آپ کا اپناخاندان اور معاشرہ آپ پہ نافذ کرتا ہے( جو مذہب اور مقامی رسوم ورواج کا ملغوبہ ہو سکتی ہیں)
دانشوروں خصوصا شعرا نے جس مذہب پہ چوٹ کی ہےوہ اوپر بیان کردہ روایتی مذہبی اقدار کا دوغلا پن ہے لیکن ان سب خیالات کے باوجود یہ اصحاب خدا کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اس کے اثبات میں کئی اشعار لکھے ۔ ویسے بھی ان معنوں میں ہر شخص کسی حد تک مذہبی ہی ہوتا ہے ۔
جیسے غالب نے کہا :
دَیر و حرم آئینہ تکرار تمنا
واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں
یا پھر میر تقی میر فرماتے ہیں:
میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دَیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا
جبکہ آج کل کی روحانیت (سپرچوئل ازم) ان اقدار سے الگ وہ اندرونی رحجان ہے جو فرد اپنے اندرمحسوس کرتا ہے ۔ یوں زمانہ جدید میں مذہب اور روحانیت دو الگ الگ معاملے ہیں۔ایک فرد غیر مذہبی ہو کر بھی روحانیت کا پیرو کار ہو سکتا ہے جیسے آج کل مذہب انسانیت کے پیروکار جو باقاعدہ مراقبہ ، بدنی مشقت ، ارتکازتوجہ یا سانس کی مشقیں تک کرتے ہیں ۔
یہ سب یوں یاد آیا کہ اس گروپ میں چند روز قبل کسی خاتون نے سوال کیا تھا کہ زائچے میں ایسی کون سی علامات ہوتی ہیں جو کسی فرد کی مذہب سے دوری کو ظاہر کرتی ہیں اور وہ مذہب کا انکار کرتا ہے۔ ذیل کی مختصر تحریر اسی کا جواب ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلے تو دیش کال پاتر کا اصول یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کس سماج کے تناظر میں یہ سوال کیا گیا ہے ۔ آج سے چند صدیاں قبل جب معاشروں پہ مذہب کی گرفت بہت مضبوط تھی تو غیر مذہبی یا مذہب سے دور ہونے کا معیار اس سے مختلف تھا جو کہ آجکل ہے یا یورپ اور عرب یا انڈونیشیا یا کینیا کے مذہبی ہونے کے معیارات الگ الگ ہیں۔
دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ چارٹ میں وہ سیارگان جنہیں ہم نحس کہتے ہیں اصل میں وہ فرد کی بہت زیادہ طباع اور بندشوں سے آزاد نفسیات کی علامت ہوتے ہیں ۔ اگر یہ سیارگان ،ذاتی سعد سیارگان اور گھروں پہ بری طرح اثر انداز ہو رہے ہوں تو ایسے افراد پابندیاں برداشت نہیں کر سکتے اور آزاد فضا میں اپنے خیالات کے مطابق ،اپنی مرضی سے کام کرنا اور زندگی گذارنا چاہتے ہیں ۔
ترکون گھروں (پہلا پانچواں اور نواں گھر ) دھرم (ڈیوٹی) کی مثلث کہلاتی ہیں اور کا ل پُرش کنڈلی میں آتشی عنصر سے وابستہ ہیں ۔ چناچہ مذہب کے سوال پہ یہ گھر اور ان کے حاکمان کی نشت اور ان پہ نظرات اہم ہیں اور راشی چارٹ کے علاوہ نوانش میں بھی ترکون کے حاکمان کو دیکھنا چاہئیے ۔ نوانش کے حاکمان کا آپس میں اور گھروں میں تعلق بھی اہم ہے اس سلسلے میں نواں گھر سب سے اہم ہے ۔ راشی چارٹ کی دھرم مثلث کو نوانش سے بھی متعلق ہونا چاہئیے ۔
اس میں ایک رائے یہ بھی پائی جاتی ہے کہ راشی کے نویں گھر کے حاکم کا نوانش میں دھرم مثلث سے متعلق ہونا بنیادی شرط ہے ۔ تاہم میرے خیال میں یہ مذہبی وابستگی کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ نوانش کے نویں گھر کے حاکم کو بھی نوانش کی دھرم مثلث سے متعلق ہونا چاہئیے اور اس پہ کوئی نحس نظرات نہیں ہونا چاہئیں کیونکہ یہ اثرات اُس شخص کی پختگی میں دراڑ ڈال دیں گی ۔
پہلا گھر : پہلے گھر کو مضبوط ہونا چاہئیے اور ترکون حاکمان یا قدرتی سعد سیارگان سے متعلق ہونا چاہئیے
پانچواں گھر : یہ ہاوس آف مائنڈ اور پورو پنن ، ذکر اذکار وغیرہ کا گھر کہلاتا ہے ۔ لگن یا اس کے حاکم کا پانچویں گھر سے متعلق ہونا مذہبی اعتبار سے سعد علامت ہے اور اس گھر کا نویں گھر سے متعلق ہونا حامل یا اس کے خاندان کے مۃزب ہونے اور مذہبی جھکاو کی عکاسی کرتا ہے ۔
نواں گھر : یہ مذہب کا بنیادی گھر ہے اور اس کے حاکم کی نشست یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہ وابستگی حامل کی زندگی کے کس گوشے میں رو بہ عمل ہو گی ۔
تیسرا گھر : تیسرا گھر اگرچہ دھرم مثلث کا حصہ نہیں ہے تاہم نویں گھر کے مقابل ہونے کی بنا پہ دیوی استھان کہلاتا ہے اور کسی سیارے خصوصا سعد یعنی چندر وغیرہ کا یہاں ہونا حامل کے مذہب سے متعلق غیر معمولی خیالات کو ظاہر کرتا ہے ۔
ذہنی پختگی : چاند ذہن (مائنڈ)کا نمائندہ ہے اور کسی بھی عقیدے سے مستقل وابستگی کے لیئے لمبے عرصے کی استقامت اور کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور چندر میں یہ صلاحیت ہونا چاہئیے کہ وہ مشکلات کے مقابلے میں دباو سہہ سکے اور اسے نوانش میں دیکھا جاتا ہے ۔
زحل اور مریخ دو نحس سیارگان ہیں اور ان کے اپنے ذاتی بروج بھی مذہب کے معاملے میں نحس گنے جاتے ہیں ۔ چندر اگر مریخ کے برج میں ہو اور زحل اس کے ساتھ ہو یا وہ ناظر ہو ، چندر زحل کے برج میں ہو اور مریخ کے ساتھ ہو یا وہ اس پہ ناظر ہو تو سنیاس یوگ کو جنم دیتے ہیں ۔ چندر کی سعد گھروں اور سیارگان سے تعلق حامل میں تن آسانی کااشارہ دیتی ہے ۔ اس لیئے چندر کا سعد بروج اور سعد سیارگان کی نظر میں ہونا استقامت کی کمی کی علامت ہے کیونکہ اس طرح ذہن اپنے آپ کو بہت پُر سکون محسوس کرتا ہے ۔ راہو کا چندر سے متعلق ہونا بھی اچھا نہیں ہے کیونکہ اس طرح وہ مادیت کی طرف جھکاو دیتا ہے ۔
شہوت پہ قابو : شُکر شہوت اور تعیش کی علامت ہے اور نوانش میں شکر کو بھی نحس نظرات بلکہ دوہری نحس نظرات میں ہونا چاہئیے تاکہ یہ قابو میں رہے ۔ شکر کا شرف میں ہونا اچھا ہے لیکن نیچ میں ہونا شہوت انگیز خیالات پیدا کرتا ہے ۔
چندر سے نواں گھر : نوانش میں چندر کی نشست سے نویں گھر کے حاکم کو ترکون مثلث سے متعلق ہونا چاہئیے ۔جب چندر نوانش میں نیچ میں ہو تو چندر کو نویں کا حاکم ہی مانا جاتا ہے اور ایسا شخص قدرتی طور پر مذہبی وابستگی کا حامل ہوتا ہے اور اس پہ سعد یا نحس نظرات اس وابستگی کو مزید کم یا زیادہ کرتے ہیں ۔
نوانش کا مشتری : نوانش میں مشتری کو لگن یا لگن کے حاکم سے متعلق ہونا چاہئیے ۔ مشتری اگر نحس ہے تو اپنا اثر کھو بیٹھتا ہے ۔نوانش مشتری کا نوانش کے دسویں گھر پہ اثر بھی مفید ہے ۔
راشی چارٹ کے نویں گھر کا حاکم : راشی کے نویں کے حاکم کو نوانش کے لگن یا نویں گھر میں ہونا چاہئیے ۔ اگر یہ نہ ہوتو اسے لگن یا نویں گھر پہ ناظر ہونا چاہئیے ۔ اگر یہ بھی نہ ہو تو پہلے یا نویں کے حاکم سے یکت یا ان پہ ناظر ہونا چاہئیے
اس پوسسٹ میں لف چارٹ ایک زندہ شخص کا ہے جو ایک لکھاری ، دانش ور اور دہریہ ہے ۔ ان کے والدین تعلیم یافتہ ، مہذب، والد سرکاری ملازم اور خاندان کٹڑ حنفی خیالات کے مالک تھے ۔ بچپن ہی سے والدین سے اختلاف مذہبی خیالات میں تبدیلی کا باعث بنا جو زندگی میں پے درپے پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے دہریت میں بدل گیا ۔ چارٹ میں علوی سیارگان یورینس ، نیپچون اور پلوٹو بھی دکھائے گئے ہیں ۔ نویں گھر یورینس کا ہونا ، مذہبی لحاظ سے غیر معمولی آزاد خیالی اور ان پہ صدق دل سے جمے رہنے کی علامت ہے۔ بقیہ چارٹ کا آپ اپنے طور پر بیان کردہ نکات کی روشنی میں مطالعہ کر سکتے ہیں ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں