شاعر شکیب جلالی کی پراسرار خود کشی ۔ ایک تنجیمی کھوج
عام طور پر ادیبوں خصوصا شعرا کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہونے کا رحجان زیادہ ہوتا ہے ۔ عالمی ادب میں کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے زندگی کی کلفتوں سے گھبرا کر موت کے دامن میں اس وقت پناہ لی جب وہ اپنی شہرت کے عروج اور عالم جوانی میں تھے ۔ مثلا امریکی شاعرہ سلویا پلاتھ ( جن کا زائچہ پہلے پیش کیا جا چکا ہے اور یہاں پڑھا جا سکتا ہے) ، این سیکسٹن ، جان بیری مین اور ایڈگر ایلن پو۔ اردو ادب میں بھی چند بہت مشہور نام ہیں مثلا سارہ شگفتہ ، مصطفے زیدی اور شکیب جلالی وغیرہ۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور یاد رکھا جانے والا کیس شکیب جلالی کا ہے اور ہر سال ان کی برسی کے موقع پر تحاریر شائع کر کے انہیں یاد کیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی نومبر میں وئی نیوز کی ویب سائٹ پہ سجاد بلوچ نے اپنے مضمون کے عنوان میں خود کشی کے عوامل میں ان کی ذاتی زندگی کو حوالہ بنایا ہے ۔ اگرچہ ادیبوں میں خود کشی کے محرکات پر ڈاکٹر صفیہ عباد نے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا تھا جو ’راگ رت، خواہش مرگ اور تنہا پھول‘ کے نام سے نیشنل بک فاونڈیشن نے شائع کیا جس میں انہوں نے خودکشی پر مذہبی لٹریچر ، ادیبوں اور ماہرین نفسیات کی مدد سے کچھ عوامل کا جائزہ لیا ہے ۔ تاہم شکیب جیسے بڑے شاعر جسے احمد ندیم قاسمی صاحب نے ان کی زندگی میں ان کی تعریف کرتے جدید غزل کی امید قرار دیا اور کہا کہ اس عشرے کا وہ بہترین شاعر ہے۔ اس کی علامات/سمبل نہ روایتی ہیں اور نہ ہی جدید؛ ناصر کاظمی، شہزاد احمد اور فراز کے ہوتے ایک نوآموز کا خود کو منوانا شکیب ہی کا کمال ہے ۔
اس لیئے شکیب کے سلسلے میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ اس بات کا کھوج لگایا جائے کہ ان کی بیماری اور خود کشی کے اسباب کیا تھے ، آیا شخصیت شروع سے ہی نفسیاتی طور پر کمزور تھی ، زندگی کی مشکلات کے سامنے ہمت ہار گئے تھے یا کسی نے انہیں مذہبی طور پر گمراہ کیا تھا؟ آخر ان کے اندر موجود جبلت حیات اس انتہائی اقدام سے روکنے میں ناکام کیوں ہوئی؟۔ اس کھوج میں ابھی تک پاکستان میں علم نجوم کا استعمال نہیں کیا گیا ۔ زیر نظر تحریر اسی کمی کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔ تاہم یہاں محض ایک تعارفی جائزہ پیش کیا جا رہا ہے۔ پورے چارٹ کا مفصل و مربوط تجزیہ مقصود نہیں بلکہ پس منظر کی خاطر صرف متعلقہ نکات کو بیان کیا جائے گا۔
سب سے پہلے ان کی زندگی کی ٹائم لائن دیکھتے ہیں ۔
شکیب ( سید حسن رضوی)کے دادا اور والد پولیس کے محکمے سے تعلق رکھتے تھے۔ آبائی قصبہ جلالی تھا ۔ والد ( سید صغیر حسین) کا تحریک آزادی کے تناظر میں کسی متنازعہ گرفتاری کیوجہ سے معطل ہونے کےبعدرجحان ورد و اذکار اور سیر و سلوک کی طرف ہوگیا جو بڑھتے بڑھتے جذب کی کیفیت کو چھونے لگااور کچھ عرصہ بعد پاگل ہو گئے ۔ پہلے بریلی اور اس کے بعد بنارس کے پاگل خانے( 20 برس تک) رہے ۔ والد تمام مذاہب بشمول ہندومت کی عبادات میں شریک ہوتے تھے۔ والد کے بے شمار مرید تھے۔
اسی حالت میں، غالبا 1945 میں سید صغیر حسین نے اپنی بیوی( سیدہ زبیدہ خاتون) کو بچوں کے سامنے بریلی کے اسٹیشن پر ٹرین کے آگے پھینک دیا اور وہ ہلاک ہو گئیں ۔ اس وقت شکیب کی عمر تقریبا نو برس تھی ۔
شکیب بچپن میں ہی اپنی بہنوں (کُل چار بہنیں۔ شکیب کی ایک بہن اس سے بڑی تھیں)سے کہتا تھا کہ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں میں زندہ ہوں گھر کو سنبھال لوں گا ۔
حادثے کے بعد شکیب کے نانا خاندان کے کفیل بنے اور شکیب ان کے ساتھ پہلے بریلی اور پھر بدایوں رہے۔
ساتویں جماعت میں کتاب خریدنے کے پیسے بھی نہ ہوتے تھے ۔ آٹھویں جماعت پاس کرنے کے بعد انہوں نے محلے کے بچوں کو پڑھانا شروع کر دیا ۔
بدایوں سے میٹرک کرنے کے بعد پاکستان 8 مئی 1948 میں آئے اور تیرہ چودہ برس کی عمر میں چھوٹی موٹی ملازمتیں کرنا شروع کر دیں ۔ اسی عمر میں شعر کہنا شروع کیئے۔
شکیب شروع ہی سے نماز روزے کے پابند تھے
اکتوبر 1948 میں سینٹرل کواپریٹو بینک میں ملازم ہو گئے۔
سن 1951 میں بڑی بہن ( جنہیں وہ ماں کا درجہ دیتے تھے)کی شادی کی
نومبر 1951 کچھ رقم پس انداز کر کے ادبی رسالہ نکالا جو 1952 میں بند ہو گیا ۔
سن 1952 میں ادیب فاضل کا امتحان پاس کیا ۔
مئی 1953 میں بہنوئی کی کتب کمپنی جاوید لمیٹد کی سیالکوٹ شاخ کے انچارج مقرر ہو کر وہاں گئے ۔
سن 1955 میں بی اے پاس کیا ۔(سیالکوٹ)
جولائی 1956 میں اپنی والدہ کی پسند بچپن کی منگیتر خالہ زادمحدثہ خاتون سے کراچی شادی کی ۔
سن 1959 میں پنجاب پبلک ریلیشنز میں ملازم ہوئے(عارضی ملازمت) ۔ تخفیف کے باعث نوکری جاتی رہی ۔
اگست1959 میں بحیثیت مترجم تھل ڈیویلپمنٹ اٹھارٹی میں جوہر آبادچلے گئے ۔
اگست 1963 میں تھل ڈیولپمنٹ اٹھارٹی کے دفاتر جوہر آباد سے منتقل ہو گئے اور شکیب کو بھکر جانا پڑا۔ اکتوبر 21سن 1963 کو بیٹا سید حسین اقدس رضوی (عالی)بھکر میں پیدا ہوا۔( اس سے پہلےشکیب کا پہلا بچہ پیدا ہوا اور فوت ہو گیا تھا۔)
بیٹی حنا کی پیدائش 6 مئی 1966 ۔ بیوی تین دن بے ہوہوش رہیں جس کی وجہ سے شکیب کو دل کا دورہ پڑا وہ بار بار یہ کہتے تھے " میں نے ماں کے بغیر زندگی گذاری ہے خدا کرے میرے بچوں کی ماں زندہ رہے"۔
کُل اولاد ایک بیٹا عالی (سید حسین اقدس رضوی)اور ایک بیٹی ( سیدہ حنا بتول)۔
جولائی 1965 میں ان کے والد اسپتال سے فارغ کر دیے گئے تھے شکیب انہیں ملنے جانا چاہتے تھے لیکن جنگ اور ویزے کے مسائل کی وجہ سے جا نہ سکے تھے۔ فروری 1966 میں انہیں والد کی وفات کی خبر ملی ۔
بھکر قیام کے دوران ہی محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں نواب کالا باغ کا سپاس نامہ لکھنے سے انکارکے اصولی مسئلے پر افسران بالا سے کشیدگی پیدا ہوئی اور ملازمت کے حالات دشوار ہو گئے ۔
بھکر قیام کے دوران ہی ذہنی تناو سے نجات کے لیئے کسی نام نہاد دوست نے انہیں بھرا ہوا سگریٹ دیا ۔
اپریل 1966 ان کا دماغی توازن بگڑنے لگا ۔
اگست 1966 میں انہیں مینٹل اسپتال لاہور داخل کرایا گیا ۔
مینٹل اسپتال لاہور سے 10 ستمبر 1966 کو فارغ کر دیے گئے ۔
موت بوجہ خود کُشی ۔ 12 نومبر 1966 بمقام سرگودھا ۔ ٹرین کے نیچے خود چھلانگ لگا کر خاتمہ کیا۔ دن بھر گھر میں غمگین رہےشام ساڑھے تین بجے وہ گھر سے نکل گئے، ساڑھے پانچ بجے اطلاع گئی کہ انھوں نے خود کو ٹرین کے آگے گرا کر خودکشی کر لی ہے۔ وہ شدید زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے جہاں ان کی وفات ہو گئی۔ موت کا وقت اندازا سوا چار بجے شام
تجزیہ بلحاظ ہندی نجوم (جوتش پراشری )
تاریخ پیدائش : 1 اکتوبر 1934
وقت پیدائش : شام چھے بج کر دو منٹ
بمقام : بدایوں انڈیا ۔
شکیب صاحب کی تاریخ پیدائش غیر متنازع ہے اگرچہ بیگم شکیب مرحومہ نے مختلف رائے کا اظہار کیا لیکن شکیب کے دوستوں نے ایسا کوئی ذکر نہیں کیا ۔ان کا وقت پیدائش دستیاب نہیں ہے اس لیئے زندگی کے واقعات کو تنجیمی طور پر استعمال کرتے ہوئے وقت پیدائش اخذ کیا گیا ہے ۔
سب سے پہلے شکیب صاحب کے چارٹ میں موجود کلاسیکی سیارگان کی بروج میں نشست کے اعتبار سے عناصر اربعہ اور ماہیت کی تقسیم ذیل میں ہے ۔
ماہیتی تقسیم میں سات میں سے چار سیارگا ن منقلب بروج(کارڈینل) میں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکیب صاحب ہمیشہ نئے تخلیقی پروجیکٹس شروع کرنے کے شائق اور ان کے لیئے پر جوش ہوتے تھے ۔ بقیہ تین سیارگان کا ذوجسدین بروج(میوٹبل) میں ہونے کا مطلب پروجیکٹس کے اختتام پر ان کی کامیابی یا ناکامی کے حالات کے مطابق اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت موجود تھی لیکن لگے بندھے انداز کے کام اور زندگی انہیں ناپسند تھی وہ ہمیشہ کچھ نیا کرنا چاہتے تھے ۔ عنصری تقسیم میں خاکی اور بادی بروج غالب ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک دانشور ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک عملی انسان تھے البتہ آتشی عنصر غائب ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں دوسروں پہ حکم نافذ کرنا ، دو بدو مقابلہ کرنااور اپنی بات کو جبر سے منوانا پسند نہیں تھا یا اس میں دشواری پیش آتی تھی ۔
شکیب کی پیدائش پُنربس نچھتر میں ہوئی جس کا مالک مشتری (جیوپیٹر )ہے ۔ اسی طرح زائچےمیں طالع کا مالک بھی مشتری ہے جو آٹھویں گھر میں موجود ہے ۔ پنر بس کے زیر اثر پیدا ہونے والوں کے متعلق چھٹی صدی کےمشہور آسٹرالوجر ورہا مہیرا کا کہنا ہے یہ لوگ مخلص۔،نیک طینت، خاموش طبع اور اچھی عادات کے مالک ہوتے ہیں تاہم ان کا نظریہ زندگی غیر معمولی ہو سکتا ہے ، باآسانی کسی مرض میں مبتلا ہونے کا رحجان رکھتے ہیں اور زندگی کی چھوٹی موٹی مادی اشیاء سے بھی خوش ہو جاتے ہیں ۔ مشتری جو کشادگی ، فلاسفی ، خوش قسمتی ، اعلی آدرش اور دینداری کا سیارہ ہے زائچے (چارٹ) میں طالع کا حاکم بھی ہے حامل میں عزت نفس کا احساس پیدا کرتا ہے اور عزت و وقار ان کی پہلی ترجیح ہوتی ہے ۔ تاہم طالع کے حاکم کا چارٹ کے آٹھویں گھر میں جا کے بیٹھ جانا زندگی میں آٹھویں گھر کی منسوبات کو نمایاں کرتا ہے اور یہ گھر ہندی نجوم میں نحس سمجھا جاتا ہے اور اپنے گھر موجود سیارگان کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آٹھویں گھر کا تعلق پردے کے پیچھے (چھپی ہوئی)اشیاء و پیشے ،موت ،حد ادراک سے پرے کی دنیا( موت یا پاتال یا آخرت ) تشویش ، خوف اور فوبیا سے متعلق ہے طالع کے مالک کایہاں موجود ہونے کا مطلب شخصیت میں اعتماد کی کمی ، زندگی میں مشکلات ، بہت نیچے سے کیرئر کا آغاز، دکھ پیش آنے ، کمزور صحت ( حرارت غریزی کی کمی ) اور حادثات پیش آنے کا رحجان ہوتا ہے ۔ دینی زندگی کے خفیہ پہلووں سے متعلق تجسس نمایاں ہوتا ہےلیکن ان کے ساتھ یہ لوگ زندگی کے معاملات کی کُنہ تک بھی پہنچنا چاہتے ہیں اس لیئے بہت اچھے ریسرچ ورکر ہوتے ہیں عموما بینکنگ کا پیشہ پسند کرتے ہیں ( کیونکہ یہ کام فیلڈ کی بجائےپردے کے پیچھے سے ہوتا ہے کچھ عجب نہیں کہ ان کی پہلی نوکری ایک بینک کی تھی اور ان کا بیٹا بھی بینکنگ سے وابستہ ہے ) مشتری کے ہمراہ عطارد(مرکری) موجود ہے جو نروس سسٹم اور کمیونیکشن پہ حکمرا ن ہے۔ مشتری کا عطارد سے قرب اور آٹھویں گھر موجودگی نروس سسٹم کو بہت زیادہ متحرک کر تی ہے دونوں سیارگان پہ دوسرے گھر سے سیارہ یورینس ( اس سیارے کو عطارد کا آہنگ اولی سمجھا جاتا ہے) کی نظر ہے اور یہ دونوں سیارگان تحریر و تقریر کے دوسرے گھر کو ناظر ہیں جس سے حامل میں علم و فضل ،ایسی دانش اور کمیونکیشن سٹائل وجود میں آتا ہے جو بہت غیر معمولی ذہانت ، ذکاوت، طباعی ،گہرے شعور ،موت ،آخرت اور لاشعور کے موضوعات سے دلچسپی کے علاوہ پُرکار و پُر اثر بھی ہے۔ دماغ ہر لمحہ مسلسل مصروف ہونے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہونے کا رحجان رکھتا ہے جس کی وجہ سے نروس سٹم دباو میں رہتا ہے ۔
چارٹ کا دوسرا اہم سیارہ چاند ہے جو جذبات اور کامن سینس کا نمائندہ ہےاور اس کی نشست حامل کی جذباتی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے جہاں چاند ہوتا ہے حامل پوری زندگی اس گھر کے امور کو جذباتی طور پر بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے بلکہ اس سے جڑا رہتا ہے ۔چاند چارٹ کے چوتھے گھر موجود ہے اور عمومی طور پر یہ گھر ،ماں ، دل (جذباتی دل اور اصل دل دونوں)سے متعلق ہے۔ چاند طاقت میں مضبوط بلکہ دگ بل میں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شکیب کی زندگی کے ابتدائی سات سالوں میں ماں کا بھرپور پیار توجہ اور شفقت نصیب رہی بلکہ ایسی ماں تھی جو بیٹے پہ جان چھڑکتی تھی اور اسے کسی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا۔ چاند کی طاقت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شکیب میں زندگی کے جذباتی جھٹکے خندہ پیشانی سے سہنے کی اچھی طاقت موجود تھی۔ تاہم یہ چاند پلوٹو ( جذباتی شدت کا سیارہ)سے ملا ہوا ہے جو حامل کو بہت زیادہ حساس ، دوسروں کی اندرونی کیفیات کو وجدانی انداز میں بھانپ لینے کی حس کا حامل بناتا ہے اور خصوصااپنی والدہ سے متعلق کسی بھی منفی تبصرے پر انتہائی شدید رد عمل کا اظہار کر سکتا ہے ۔ اپنے متعلقین کی پرورش و پرداخت ماں کی طرح کرنے میں سکون محسوس کرتا ہے تاہم کسی بھی تعلق کو آسانی سے فراموش نہیں کر سکتا اور تعلق ٹوٹنے کے بعد بھی بہت لمبا عرصہ ذہنی طور پراسی سے امر بیل کی مانند بندھا رہتا ہے ۔ دونوں سیارگان کے ملاپ کی یہ شدت حامل کو بعض غیر معمولی حالات میں مادی دنیا سے پرے کی دنیا کی طرف جانے پر زیادہ مائل کرسکتی ہے ۔
چارٹ کا تیسرا اہم سیارہ سورج ہے جو حامل کی روحانی وابستگی کو ظاہر کرتا ہے اور شریک حیات کے خانہ (ساتویں گھر)میں موجود ہے ، چھٹے گھر کا حاکم ہونے بنا پر بیماری کا مظہر ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شریک حیات کو بیماری کا سامنا کرنا پڑا ۔ سورج والد ، انا اور قوت حیات کا بھی کارک ( انڈیکیٹر) ہوتا ہے اور طاقت کے گراف میں بمشکل ریڈزون سے باہر آنے کی کوشش میں ہے ( یعنی کمزور ہے ) ۔
شکیب کے چارٹ میں طالع کے حاکم کا آٹھویں گھر میں جانے کے علاوہ چارٹ کے دو اور سیارگان یعنی زہرہ اور مریخ نیچ میں ہیں( یعنی اپنی خصوصیات کا اظہار عملی زندگی میں مثبت طور پر کرنے سے معذور ہیں ) ۔ جب یہ صورتحال ہو تو چارٹ دنیاوی کامیابی کے اعتبار سے بہت کمزور پڑ جاتا ہے اور حامل کو زندگی میں نتائج حاصل کرنے کے لیئے بہت زیادہ محنت اور تگ و دو کرنا پڑتی ہے ۔
ہندی نجوم میں فرد کی زندگی کی طوالت کو چارٹ میں سیارگان کی نشست کے اعتبار سے مختلف ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ شکیب کی زندگی کا پہلا دور کبیر مشتری کا تھا( جو طالع کا حاکم ہونے کی بنا پر ان کا ذاتی سیارہ اور خوش بختی کی علامت تھا )جو ان کی عمر کے پہلے نو سال تک چلا ۔ یہ دور خوشی اور فراخی کا تھا ۔ اس کے بعد انیس سو تینتالیس کے آخر میں زحل کا دور کبیر شروع ہوتا ہے اور آئندہ انیس سال پر محیط ہو کر انیس سو باسٹھ کے آخر میں اختتام پذیر ہوا ۔
نجوم میں سیارہ زحل کو ایک نحس سیارہ مانا جاتا ہے اور اس کے خواص میں تنگی ، ترشی ، دیر،خوف ، رکاوٹ ، بیماری ، سنجیدگی ، کوششوں کے بارآور ہونے میں مشکل اور بدقسمتی شامل ہیں ۔ اس سیارہ کا بنیادی کام حامل کی شخصیت میں میں ڈسپلن ، باریک بینی ، صبر اور استقامت پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ بنیادی طور پر بہت ہی پریکٹیکل سیارہ ہے۔( البتہ مختلف افراد کے چارٹ میں سیارے کی نشست کے لحاظ سے نتائج تبدیل ہو جاتے ہیں)
شکیب کے کیس میں زحل کا سیاروی دور اس لیئے بھی سخت ہو جاتا ہے کہ ان کے چارٹ میں زحل گیارہوں اور بارہویں( نحس) گھر کا حکمران ہے اور ان گھروں کے حاکم کا سیاروی دور بقیہ تمام ادوار سے سخت مانا جاتا ہے ۔ اس دور کی اہم خصوصیات وہی ہیں جو اوپر زحل کے بیان کی گئی ہیں اس کے علاوہ چونکہ اس دور میںحامل اپنی سی پوری کوشش و محنت کر رہا ہوتا ہے لیکن ان کا صلہ اسے مناسب انداز میں نہیں مل رہا ہوتا ، ملتا ہے تو دیر سے ملتا ہے، ستائش بھی یا تو نہیں ہوتی یا معمولی ہوتی ہے ، احسان کوئی نہیں مانتا ، کام میں کوئی مددگار نہیں ہوتا اور اسے اکیلے ہی سب کچھ کرنا پڑتا ہے بعض اوقات بار بار توہین کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دور کے وسط یا آخر آتے آتے فرد عموما خود تشکیکی ( سیلف ڈاوٹ) کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اسے اپنی صلاحیتوں اور قسمت پر شک ہونا شروع ہو جاتا ہے کچھ ضعیف العقیدہ لوگ جعلی پیروں ، جادو ٹونے یا ان سے روحانی علاج میں پناہ ڈھونڈتے ہیں ۔
زحل کے دور کبیر کے آغاز کا سال انیس سو تینتالیس تھا جب شکیب والدہ سے جدا ہوئے اور ان کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ اگرچہ شکیب نے اپنی محنت اور کوشش سے زندگی کی ابتدائی مشکلات کو عبور کیا لیکن کیرئر سے متعلق دسویں گھر کا حاکم سیارہ کسی اچھی جگہ کی بجائے آٹھویں گھر میں موجود ہے جو ان کے کیرئر میں بار بار تبدیلی کی وجہ بنا جس کی وجہ سے وہ کوئی مستقل پیشہ اپنا نہ سکے ۔
زحل کا دور جب ختم ہوا تو عطارد( مرکری ) کا دور انیس سو باسٹھ کے آخر میں شروع ہوا ۔ عطارد چوتھے اور ساتویں گھرو(ں جو گھریلو امور اور شریک حیات سے متعلق ہیں ) کا حاکم ہو کر آٹھویں نحس گھر میں ہے ۔ یہ وہی دور ہے جب شکیب بھکر پہنچے تھے اور جہاں ان کے فن کا اعتراف اور عزت کرنے کی بجائے حاسدین ( دوستوں اور گروپس سے متعلق گیارہویں گھر میں موجود راہو کی چھوٹے بہن بھائیوں کے تیسرے گھر اور شریک حیات کے ساتویں گھر پر نحس نظر) نے ان کے خاندانی پس منظر ،فیملی کے افراداور شکیب کے بارے میں انتہائی گھٹیا منفی پراپیگنڈہ کرنا شروع کیا ۔ ان کا ادبی کام سرقہ کرنا ہوتا رہا ، شکیب کے نام سے گھٹیا جعلی کلام چھپوایا جاتا رہا۔ افسران بالا سے کشیدگی ہوئی جس سے شکیب سخت ذہنی تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ ان کا نروس سسٹم زحل کے دور کے دباو، عطارد کی نشست اور عطارد پہ نحس نظرات کی وجہ سے پہلے ہی بہت نازک ہو چکا تھاا اور فیملی میں بھی کچھ حادثات پیش آ ئےتھے ( پہلے بچے کی موت، شریک حیات کی بیماری ، ابارشن وغیرہ ۔(اولاد سے متعلق پانچویں گھر نحس مریخ اور کیتو کی موجودگی)) یوں بیٹی حنا کی پیدائش کے موقع پر شکیب کو دل کا دورہ پڑا۔ انیس سو پینسٹھ میں والد کی وفات نے ان کے سر سےسب سے بڑا نفسیاتی سایہ وسہارا بھی چھین لیا اور اس پہ مزید یہ کہ وہ والد کی قبر پہ حاضری کے لیئے بھی نہیں جا سکتے تھے ۔ مصائب کی اس یلغار نے شکیب کا نروس بریک ڈاون کر دیا اور جب وہ اسپتال سے فارغ ہوئے تو اپنے نفسیاتی مریض کے سٹیٹس کو نہ تو ان کا احساس عزت قبول کر پایا اور نہ ہی وہ معاشرہ جس میں وہ زندہ تھے۔
شکیب کی موت عطارد کے دور کبیر ، زہرہ سورج کے دور صغیر میں ہوئی شکیب کے چارٹ میں تنجیمی طور یہ تینوں سیارگان موت اور بیماری کا حوالہ ہیں ( عطارد مراکا سیارہ (ساتویں گھر کا حکمران ہو کر کِلر پلانٹ)، زہرہ آٹھویں موت کے گھر کا حکمران اور سورج چھٹے بیماری کے گھر کا حکمران)۔
تنجیمی نتائج
شکیب ایک نیک طینت شریف انسان تھے اور پیدائشی نفسیاتی طور پر ہرگز کمزور نہ تھے عز م و ارادہ کے حامل تھے بلکہ خود کشی کے لیئے بہت جرآت کی ضرورت ہوتی ہےجو کمزور افراد میں نہیں پائی جاتی ۔ انہوں نے نا مساعد حالات میں زندگی سے لڑ کر اپنا رستہ بنایا اور خاندانی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہوئے ۔ بھکر میں اصولی موقف پہ بالاافسران کے سامنے کھڑے ہونے کی جرآت کی اور نواب آف کالا باغ کا سپاس نامہ لکھنے سے انکار کیا ۔
شکیب کی شاعری میں ناآسودگی اور یاسیت کی ایک وجہ زحل کا دور کبیر بھی تھا جس کے دوران ان کی شاعری پھل پھول رہی تھی اور وہ اپنی دلی کیفیات کا اظہار کر رہے تھے ۔ وگرنہ وہ خوبصورتی کے شائق اور امید پرست انسان تھے ( سعد مشتری کا طالع کا حاکم ہونا ، سعد زہرہ کی طالع پر نظر ، سعد سیارےچاند کا مضبوط ہونا اور اس پر سعد سیارے مشتری کی نظر) البتہ زہرہ کے نیچ ہونے اور چوتھے گھر کے حاکم کے آٹھویں نحس گھر میں ہونے کی وجہ سے وہ اس طرح خوش باش نہیں تھے جو مادی زندگی سے جڑے پُرخور لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے ۔
تنجیمی طور پر خود کشی کے لیئے ضروری شرط ، طالع ، تیسرے اور آٹھویں گھروں کے مالکان کے درمیان تعلق کا ہونا چارٹ میں موجود ہے ۔ اس کے علاوہ پہلے اور تیسرے گھر کے کارک سیارگان پہ نحس نظرات موجود ہیں ۔
وہ کسی جھوٹے مذہبی پیشوا سے متاثر نہیں تھے البتہ موت سے متعلق خفیہ امور سے ان کی دلچسپی اور تجسس شروع ہی سے بہت زیادہ تھا۔ موت ان کے لیئے کوئی ڈراونی انہونی شے نہیں تھی اور یہ عنصر دانشورانہ خودکشی کرنے والے تخلیق کاروں میں مشترک ہے ۔ ریفرنس کے لیئے دیکھیئے سلویا پلاتھ کا چارٹ ۔
جہاں تک اپنی کسی عزیز شے کی قربانی دینے کے خواب آنے سے متعلق بات ہے تو شکیب دنیاوی مسائل اور بیماری کے جس گرداب میں پھنس گئے تھے اس سے نکلنے کی کوئی صورت نہ پا کر یہ سمجھتے تھے کہ شاید ان کے اس اقدام (عظیم قربانی)سے خود ان اور گھرانے پر سے بری قسمت کا سایہ شاید ٹل جائے گا ۔ اپنی جبلت حیات کو وہ قائل کر چکے تھے کہ یہ رستہ مناسب ہے جس سےجبلت مرگ کو غالب آنے کا موقع ملا۔(ورہا مہیرا کے الفاظ میں غیر معمولی نظریہ حیات اور مذہب کے سیارے مشتری کا آٹھویں گھر ہونا مذہب کے خفیہ امور سے رغبت) ۔ اس کے علاوہ سائنسی طور اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ ڈپریشن یا پی ٹی ایس ڈی کے مریض کے دماغ میں کیمیائی توازن بگڑ جاتا ہے مثلا ڈوپامائن اور سیروٹونن کا ، دونوں نیورو ٹرانسمٹر ہیں اس صورت میں مریض کو غیر مرئی آوازیں سنائی دی سکتی ہیں یا پھر مذہبی خواب آ سکتے پیں ۔ اس کے علاوہ محسوس یہ ہوتا ہے کہ انہیں مینٹل اسپتال لاہور سے قبل از وقت ڈسچارج کر دیا گیا ورنہ ایک صحت مند مریض ڈسچارج کے بعد خود کشی جیسا انتہائی قدم اٹھانے میں کچھ عرصہ لیتا ہے ۔
اس سب نکات کے پس منظر میں ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں ۔
سایہ کیوں جل کے ہوا خاک‘ تجھے کیا معلوم
تو کبھی آگ کے دریاؤں میں اترا ہی نہیں
ٹھوکر سے میرا پاؤں تو زخمی ہوا ضرور
رستے میں جو کھڑا تھا وہ کہسار ہٹ گیا
یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں
سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر
جو دل کا تھا کاغذ پہ سب بکھیر دیا
پھر اپنے آپ طبیعت مری سنبھلنے لگی
شکیب اپنے تعارف کے لیے یہ بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہو جائے
حُسنِ فردا‘ غمِ امروز سے ضَو پائے گا
چاند ڈُوبا ہے تو سورج بھی اُبھر آئے گا
آندھیوں میں بھی فروزاں ہے چراغِ اُمّید
خاک ڈالے سے یہ شُعلہ کہیں بُجھ جائے گا





تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں