مغربی نجوم میں نظرات

دائرۃ البروج کو بارہ حصوں میں تقسیم کرنے سے جو بروج حاصل ہوتے ہیں ان کی گروہی تقسیم عنصری ،ماہیتی اور جنسی بنا پہ کی جاتی ہے ۔
مثلا حمل اسد قوس آتشی بروج ہیں ،ثور سنبلہ جدی خاکی ہیں اور جوزا میزان دلو بادی بروج ہیں۔سرطان عقرب حوت آبی بروج ہیں ۔
بلحاظ ماہیت بروج کی تقسیم یوں ہے
حمل ، میزان سرطان جدی منقلب بروج ہیں ،ثور اسد ، عقرب دلو ثابت بروج ہیں جوزا سنبلہ قوس حوت ذوجسدین بروج ہیں ۔
قران ، تربیع اور مقابلہ کی نظرات ان بروج کے درمیان ہوتی ہیں جن کی ماہیت ایک جیسی ہوتی ہے البتہ عنصر مختلف ہوتا ہے ۔ مثلا حمل ،سرطان، میزان اور جدی تمام کی ماہیت منقلب ہے لیکن ان کے عناصر مختلف ہیں حمل اگر آتشی ہے تو سرطان آبی ہے ، میزان بادی ہے تو جدی خاکی ہے۔
تثلیث کی نظر ایک جیسے عناصر کے بروج کے درمیان ہوتی ہے البتہ ماہیت مختلف ہوتی ہے ۔
 تسدیس کی نظر ان بروج کے درمیان ہوتی ہے جن کے عناصر کی آپس میں مطابقت ہے البتہ ماہیت مختلف ہوتی ہے مثلا آتشی کی بادی کے ساتھ مطابقت ہے تو آبی کی خاکی کے ساتھ ۔
نیم تسدیس نظر مختلف ماہیت اور عناصر کے بروج کے درمیان ہے تاہم یہ دائرۃ البروج کی تیس درجات کی تقسیم کے اندر ہی ہوتی ہے ۔
بقیہ نظرات (مائنر اسپیکٹس ) تیس درجے کے اندر نہیں ہوتے بلکہ کچھ اضافی درجات کے ساتھ ہوتے ہیں مثلا 45 درجہ یا 51.43 یا 72 درجہ یا 135 درجہ۔
مثلا نیم تربیع (45 درجہ) کسی دو سیاروں کے درمیان تقریبا ڈیڑھ بروج کا فاصلہ پیدا کرتی ہے۔ بعض اوقات یہ سیارگان متصل بروج میں ہو سکتے ہیں اور بعض اوقات دو بروج کا فاصلہ ہو سکتا ہے ۔
سیارگان کے درمیان نیم نظرات حامل کی زندگی میں کوئی بہت نمایاں اثر کا واقعہ پید انہیں کرتیں البتہ اس کی شخصیت و کردار کے مطالعے میں مفید ثابت ہوتی ہیں ۔نیم نظرات کا اثر وتدالسما ( مڈ ہیون)اور طالع وغیرہ پر کچھ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور ٹرانزٹس میں بھی اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہئیے ۔ لیکن ان کا اثر مختصر مدت کے لئے ہوتا ہے مثلا سیارگان کے درمیان نیم نظرات کی وجہ سے کوئی ایسا محبت کا تعلق ہونے کا امکان جو بہت گہرا نہیں ہو تا اور مختصر مدت کے لئے بس ظاہری تعلق تک محدود رہتا ہے ۔ حاملین دوسرے کی شخصیت کی بجائے اس کے کسی ظاہری وصف مثلا شہرت سے فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہوتے ہیں ۔
اس کے علاوہ نظرات کے درجات سے زیادہ نظرات کے حامل سیارگان کی فطری خصوصیات حامل پہ اثر ات کے زیادہ یا کم ہونے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ مثلا عطارد اور زحل کے درمیان چاہے مقابلہ ہو یا نیم تربیع ہر صورت حامل کی ذہانت کے استعمال کو خارجی دنیا میں پھل لانے میں مشکل پیدا کرتی ہے مثلا کالج ڈگری حاصل کرنے میں مشکل پیدا کرتی ہے(اگرچہ حامل اپنی اندرونی زندگی میں بہت ذہین ہو سکتا ہے اور ذہین لوگوں کی مجلس پسند کرتا ہے)۔
یہ نیم نظرات نظرات کتنی حد اتصال تک موثر سمجھی جاتی ہیں؟
اس نکتے پہ ماہرین کا کامل اتفاق نہیں ہے اور ہر ایک کا اس سلسلے میں خیال مختلف ہے ۔
پرانے دور کے ماہرین نجوم کا خیال تھا کہ ہر سیارے کا ہالہ نور ہوتا ہے اور جہاں تک وہ نور پہنچتا ہے وہاں تک اس سیارے کا حلقہ اثر ہوتا ہے ۔ جو سیارے آسمان پر زیادہ روشن دکھتے تھے ان کا ہالہ زیادہ بڑا سمجھا گیا مثلا سورج کا سب سے زیادہ تیس درجے فرض کیا گیا ( پندرہ آگے اور پندرہ پیچھے) چاند کا چوبیس ، زحل کا اٹھارہ درجے وغیرہ ۔ کوئی سیارہ چاند کے حلقہ اثر یا نظر میں اس وقت داخل ہوتا تھا جب وہ چاند سے بارہ درجے فاصلے پہ ہوتا تھا ( چوبیس کا نصف)۔ مثلا زحل کا دوطرفہ اورب نو درجے تھا چناچہ جب زحل چاند سے دس درجے دور ہو تو زحل چاند کی نظر میں تھا لیکن چاند زحل کی نظر میں نہیں ہوتا تھا ۔
یہ عمومی فارمولا قرون وسطی تک مستعمل تھا لیکن یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے دور میں نجوم کے ماہرین نے اسے زیادہ عقلی و ریاضیاتی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی مثلا فرانسیسی نجومی کلاڈ ڈیریٹ کے تجویز کردہ طریقے ( جسے موئٹی تکنیک کہتے ہیں )کے مطابق دونوں سیارگان کی اورب (جَرم النور) کو جمع کر کے اسے دو سے تقسیم کر کے اوسط درجہ نکالا گیا جو دو سیارگان کے نظری ربط کا پیمانہ تھا ۔مثلا زحل اور چاند کے لیئے یہ اوسط دس درجے تیس منٹ نکالا گیا (چاند بارہ درجے جمع زحل کے نو درجے تقسیم دو ) اور اب یہ اورب دونوں سیارگان کے لیئے یکساں تھا ۔
جدید زمانے میں ماہرین زائچہ پیدائش کے لیئے عمومی طور مندرجہ ذیل اورب تجویز کرتے ہیں
قران اور مقابلہ ۔8 درجے ۔ چاند اور سورج ہوں تو 12 درجے
تثلیت اور تربیع ۔ 8 درجے
تسدیس ۔ 7 درجے
نیم تربیع۔ 4 درجے
نیم تسدیس۔ 2 درجے
ٹرانزٹ کرتے سیارگان کے لیے عام طور پر ایک سے دو ڈگری آگے/پیچھے کا اورب لیا جاتا ہے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

ادھی یوگ ۔ Adhi-Yoga

پری ورتن یوگ

شادی شدہ زندگی کا تعین - طلاق کے قواعد

قلب ظلمات

سوریا منگل یوگ ۔ Surya Mangla Yoga