آٹزم کی بیماری کے سیاروی اشارے
آٹزم کیا ہے؟
عرف عام میں جسے آٹزم کہا جاتا ہے یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی بیماری ہے جو عام طور پر بچپن میں ظاہر ہوتی ہے جس کا کلینکل نام آٹزم سپکیٹرم ڈس آرڈر ( اے ایس ڈی) ہے ۔ یہ ایک انسان کی معاشرتی زندگی، تعلقات اور اظہار خیال کی اہلیت کو متاثر کرکے اس پر مختلف طریقوں سے اثرانداز ہوتی ہے۔ آٹزم سے متاثرہ شخص میں ایسے رویے پائے جاتے ہیں جو معاشرتی لحاظ سے قابل قبول نہیں ہوتے آٹزم کے شکار بچے سماجی لحاظ سے نارمل بچوں سے مختلف ہوتے ہیں ۔ طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے سے پورا جسم متاثر ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے شکار بچوں کو اضطراب، ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔
میرے ذاتی خیال میں اسے بیماری کہنا مناسب نہیں کیونکہ ہمارے ہاں اس لفظ سے کسی خوفناکی کاتاثر ابھرتا ہےبلکہ یہ ایک پیچیدہ نفسیاتی کیفیت کا نام ہے یعنی کوئی عمر بھر کی معذوری نہیں ہے ( اسی لیئے اسے سپیکٹرم کہتے ہیں )۔ اگر اس کا نفسیاتی علاج شروع میں ہی کیا جائے تو اس کی علامات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور بچہ ایک نارمل انداز میں زندگی گذارنے کے قابل ہو جاتا ہے لیکن اگر ایسا نہ کیا جائے تو بعد عمر نوجوانی میں بہت سے شدید مسائل کا باعث بنتا ہے ۔
آٹزم کی بعض عام علامات
سماجی تعلقات سے کترانا، ملنے یا گلے لگانےسے گریز کرنا۔
طبیعت میں جارحانہ پن۔
نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔
ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔
بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔
توجہ دینے میں دشواری ۔
تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔
بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔
ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔
اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری
محدودمشاغل یا بعض موضوعات میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی۔ تعلیم یا ایکٹویٹی کے کسی ایک ڈسپلن میں ہی کام کر سکتے ہیں ۔ ایک سے زیادہ کاموں کے ماہر( یا ملٹی ٹاسکنگ) نہیں ہو سکتے ۔ عام طور آٹزم کے شکار بچے کسی ایک کام میں بہت اچھے ہوتے ہیں ۔
مخصوص آوازوں، چھونے، بو، یا منا ظر سے خاص حساسیت جو دوسرے لوگوں کو عام لگتی ہیں۔
دوسروں کو دیکھنے اور سننے سے لا تعلقی۔
جب کوئی دوسرا شخص کسی چیز کی طرف اشارہ کرے تو اس چیز سے نظریں چرانا ۔
بولنے، اشاروں، چہرے کے تاثرات، یا آواز کے لہجے کو سمجھنے یا استعمال کرنے میں دشواری۔
گانا گانے کے انداز میں یا سپاٹ اور مشینی آواز میں بات کرنا۔
روٹین میں تبدیلیوں کو اپنانے میں دشواری۔
آٹزم کے شکار کچھ بچوں کو مرگی کے دورے بھی ہو سکتے ہیں مگر عام طور پر یہ سنِ بلوغت تک شروع نہیں ہوتے۔
کمیونیکیشن ( ابلاغ)ہوتی ہی نہیں ہے۔ عام طور پر چھے ماہ کے بچے کو ماں کی آواز یا اشاروں پر آنکھوں ، چہرے کے تاثرات یا جسم کی حرکت سے ردعمل ظاہر کرنا چاہئیے ۔
نو سے بارہ ماہ کی عمر میں سادہ الفاظ کو کہنے اور دہرانے کی صلاحیت ہونی چاہئیے جیسے ماما یا بابا۔ جب ماں اپنے پاس آنے کا اشارہ کرے تو بچے کو اس کی طرف چل کر جانا یا جانے کی کوشش کرنا چاہئیے۔
بچے کا رشتہ / تعلق کسی سے پیدا نہیں ہوتا ، برقرا رنہیں رہتا اور اس کی سمجھ بھی نہیں پیدا ہوتی ہے۔ اس کی ایک قسم سلیکٹو آٹزم ہے جس میں رشتہ صرف ایک فرد یعنی ماں یا باپ سے ہوتا ہے اور دوسرے فرد سے نہیں ہوتا۔
ایک ہی کام بار بار نہیں کر سکتا ہے جس کی وجہ سے وہ نقل کر کے سیکھ نہیں سکتا ۔ مثلا کھلونا کاروں یا بلاکس کو ایک قطار میں نہیں رکھ سکتا ۔
تبدیلی برداشت نہیں کرتا اور اپنے ماحول کو یکساں رکھنے پہ اصرار کرتا ہے ۔
یا بہت ہائپر ایکٹو ہوتا ہے یا بالکل نہیں ہوتا ۔
شدت کے لحاظ سے اس کے تین لیولز ہیں
لیول ون میں صرف سپورٹ ( مطلوبہ کام کے لیئے فراہم کی جانے والی مدد)سے کام کر سکتا ہے مثلا اگر باپ سے کمیونیکشن ہے تو اس کی موجودگی میں ہی کھلونے بلاکس ایک دوسرے کے اوپر نیچے رکھ سکتا ہے یا کاروں کی قطار بنا سکتا ہے۔
لیول ٹو میں اسے بہت زیادہ سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے گفتگو کے لیئے بھی گونگوں کی طرح کے اشارے سکھائے جاتے ہیں ۔
لیول تھری میں شدید سپورٹ کے علاوہ ادویات وغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔
پاکستان میں دو سال کی عمر سے پہلے آٹزم کی تشخیص نہیں کی جاتی یورپ وغیرہ میں چار سال تک انتظار کیا جاتا ہے ۔
وجوہات
عام طور پر اس کی وجوہات جنیاتی ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ حمل ٹھہرنے کے وقت ماں باپ کی نفسیاتی اور جسمانی کیفیت ، دوران حمل ماں کی نفسیاتی کیفیت اور گردو پیش کے حالات ۔ اس کے علاوہ بچہ حاصل کرتے وقت والدین کی عمر اگر پینتیس سال سے زیادہ ہے تو بچے میں نفسیاتی امراض شرح میں اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے ۔
میرے علم میں ایک تعلیم یافتہ ملازمت پیشہ خاتون ہیں جنہوں نے چند دنوں کے عمر کے ایک نوزائیدہ بچے کو گود لیا تھا جو اب آٹزم کا شکار ہے ۔ اس گھر کے ماحول میں پرورش پاتے ہوئے اس لے پالک کے علاوہ خاتون کے اپنے ذاتی بچوں کو اس قسم کے مسائل نہیں ہیں اور وہ بالکل صحت مند انداز میں پرورش پا رہے ہیں ۔
ہوا یوں تھا کہ ایک غیر شادی شدہ لڑکی کے ہاں جنسی تعلقات کے نتیجے میں یہ بچہ اسپتال میں پیدا ہوا تھا جسے وہ لڑکی لینا نہیں چاہتی تھی اور مذکورہ خاتون نے نیکی سمجھ کر گود لے لیا ۔ اب اس بچے کے جنیاتی والدین نوجوان ہیں اور صحت مند انداز سے زندگی گذار رہے ہیں لیکن چونکہ دوران حمل اس کی والدہ احساس گناہ ، معاشرتی استرداد ، ڈپریشن وغیرہ کا شکار رہیں تو یہ اثرات بچہ اپنے ساتھ لے کر آیا ہے ۔ باوجود اس کے کہ لے پالک والدہ اسے ایک بہت بہتر زندگی فراہم کر رہی ہیں اور نفسیاتی مسائل کا ابہت اچھا ادراک رکھتی ہیں ، لیکن بچہ اچھی پراگرس نہیں دکھا پا رہا ۔ میں نےجب آخری دفعہ جب اس بچے کو دیکھا تھا تو اس کا والد ہمارے پارک کے پلے ایریا میں لے کر آیا تھا ۔ باقی بچے تو خوشی خوشی کھیلنے لگ گئے لیکن یہ لے پالک والد کی گود سے چمٹا ہوا تھا اور کسی بھی قسم کے مشترکہ کھیل میں مشغول ہونے سے انکاری تھا ۔ اس سارے قصے کو بیان کرنے کا مقصد اس نکتے کو واضح کرنا ہے حمل قرار پانے سے پیدائش تک کا عرصہ بچے کی نفسیاتی صحت میں کس قدر اہم کردار ادا کرتا ہے ۔
اٹھارویں صدی کے جرمنی کا مشہور فلسفی عمانویل کانٹ آٹزم جینیس افراد کی ایک مثال ہے جس کے کام کی چھاپ موجودہ زمانے کی فلسفے پہ بھی گہری ہے۔ وہ جس شہر میں پیدا ہوا تمام عمر وہیں رہا ، ہر روز اس کی روٹین یکسان ہوتی تھی اور اس کی رزانہ کی چہل قدمی کا وقت اتنا درست ہوتا تھا کہ لوگ اپنی گھڑیاں درست کر سکتے تھے ۔
سیاروی اشارے
آسٹرالوجی میں آٹزم کے حوالے سے کوئی مستند سٹڈی اب تک دستیاب نہیں ہے ۔اس پوسٹ کی تیاری کے دوران آٹزم میں مبتلا چند پاکستانی بچوں کے چارٹس کا مطالعہ کیا گیا ہے جن کی تفصیل ہمارے دوستوں نے فراہم کی اور جن کا وقت پیدائش کسی حد تک درست ہے لیکن چونکہ ان کی پیدائشی تفصیلات والدین کی اجازت کے بغیر عام نہیں کی جا سکتیں اس لیئے محض چند اشاروں ایک مغربی خاتون کے چارٹ پہ اکتفا کیا گیا ہے ۔
سوال:کیا آپ کسی چارٹ کو دیکھ کر آٹزم کی تشخیص کر سکتے ہیں ؟
اس کا جواب نہیں میں ہے کیونکہ چارٹ کے اشارے اپنا اظہار کئی مختلف صورتوں یا بیماریوں میں کر سکتے ہیں جن کا حتمی فیصلہ ماہرین نفسیات ہی کر سکتے ہیں ۔ البتہ کچھ عام سیاروی اشارے ضرور اس سمت میں رہنمائی کر سکتے ہیں۔ مثلا
چارٹ میں عام طور پر آبی عنصر اور ذوجسدین ماہیت غالب ہوتی ہے ۔
چونکہ آٹزم کے بچوں کی یادداشت یا تو بصری انداز مثلا تصاویر ، یا موسیقی اور میتھ یا الفاظ و اعداد کے ذریعے ہوتی ہے اس لیئے سیارہ عطارد یا بہت بُری حالت میں ہوتا ہے یا بہت اچھی حالت میں اور یہی حالت چاند کی ہوتی ہے ۔
یورینس نیپچون اور پلوٹو یا تو اینگلز کے قریب ہوتے ہیں یا ذاتی سیارگان سے بہت قربت میں قران میں ہوتے ہیں۔
عام طور پر عطارد پر کسی قسم کی منفی نظرات نہیں ہوتیں ۔
عطارد عام طور پر زہرہ سے نزدیک ہوتا ہے یا وینس کسی علوی سیارے ، یورینس ، نیپچون پلوٹو سے قران میں ہوتا ہے ۔
مریخ یا تو ہبوط میں ہوتا ہے یا پھر نھس نظرات کے زیر اثر ہوتا ہے۔
آٹزم کا سب سے مشہور کیس امریکی ماہر حیوانیات ٹیمپل گرانڈن کا ہے ۔ جنہوں نے اپنی خود نوشت میں اس مرض میں تا عمر مبتلا رہنے کا انکشاف 1986 میں کیا اور اس کتاب کے ترمیم و اضافہ شدہ ایڈیشن بعد میں چھپتے رہے ہیں ۔
اس نے اپنے رویوں کے متعلق لکھا
میری یادداشت بصری ہے اور مجھے چیزیں تصویروں کی شکل میں یاد رہتی ہیں حتی کہ ماضی کے کسی واقعے کی جزئیات فلمی رِیل کی طرح کسی بھی لمحے دیکھ سکتی ہوں ۔
انسانوں کے درمیان کے سے عام نارمل جذباتی تعلقات میرے بس کی بات نہیں ہے
اسے تیز رنگوں، شور اور آواز وغیرہ سے شدید حساسیت ہے
اسے حساب کا مضمون اور سائنس فکشن فلمیں پسند ہیں
ٹیمپل کا طالع برج قوس ہے جو علامت کے حوالے سے چوپایہ بروج میں شمار ہوتا ہے ۔ ان بروج کے حاملین سماجی تقریبات میں بہت زیادہ غیر آرام دہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے غیر نفیس اور جذباتی رد عمل کے لیئے جانے جاتے ہیں ۔ برج کا حاکم اور بارہویں گھر میں موجود ذنب سے قران میں ہے جو تنہائی پسندی کا اشارہ ہے ایسے افراد شور اور تیز رنگ و روشنی کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بارہواں گھر جانوروں پہ بھی حکمران ہے ۔
ٹیمپل کے چارٹ میں عطارد بہت زیادہ مضبوط ہے ،زہرہ سے قران میں ہے جو اپنے خیالات میں راسخ ہونے کی دلیل ہے اور ایسے شخص کو اس کے خیالات کے برعکس دلیل سے قائل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اپنے خیالات میں انتہائی آرام دہ محسوس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ عطارد سوائے سورج سے ایک درجے کے اندرقران کے ، کسی اور سیارے کوئی مثبت یا منفی نظر نہیں بنا رہا ۔ عطارد اپنے شرف کے برج میں ہے اور انتہائی درجہ شرف کی طرف جاتے ہوئے نو درجے دور ہےطرف جا رہا ہے ۔
عطارد پچانوے فیصد محترق ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ نروس سسٹم پہ بہت زیادہ دباو ہے ، ذہن انتہائی زیادہ متحرک و متجسس ہے ۔چونکہ عطارد اعصابی نظام پر حکمرانی کرتا ہے اور محترق ہے تو ، ایساانسان گھبرایا ہوا ، بے چین ہوتا ہے ، اور اس میں اکثر صبر کی کمی ہوتی ہے۔ حساسیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور دماغ کے بہت تیزی سے کام کرنے کی وجہ سے سوچ میں گہرائی کی کمی ہوتی ہے۔ عطارد کا سورج کے ساتھ محترق ہونا کسی شخص کی معروضیت اور غیر جانبداری کو بھی محدود کرتا ہے۔ انسان اپنے اور اپنے اعمال کے بارے میں تنقیدی نقطہ نظر سے محروم ہوتا ہے۔وہ اپنی شخصیت کے اندر موجود "بلائنڈ سپاٹس" سے بے خبر ہوتاہے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کسی حد تک انا پرست ہو اور کبھی کبھار سخت گیر، ضدی یا تنگ نظری کا شکار ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج اور عطارد (روح اور دماغ کی نمائندگی کرتے ہیں) ایک ہی برج میں ہیں۔ یوں اثر شدید ہو جاتا ہے ۔
چارٹ میں ایک عدد ٹی اسکوائر موجود ہے جو ثابت بروج میں بن رہا ہے جو اپنے خیالات میں ہٹ دھرمی کی حد تک ڈٹے رہنے کی دلیل ہے ۔
چاند برج دلو میں ہے جو خود رائے ، آزادی و تنہائی پسند(اینٹی سوشل) برج ہے ۔ اس کے علاوہ چاند ابلاغ کے تیسرے گھر ( ہاوس آف مائنڈ) موجود ہے جسکے دائیں بائیں کوئی اور سیارہ موجود نہیں ہے جو تنہائی کے عنصر کو مزید تقویت بخشتا ہے ۔ مزید برآن چاند زحل اور پلوٹو کے مقابل ہے اور عطارد کی طرف عدم میلان کا رحجان ہے ۔ چاند اور عطارد دونوں کا زحل سے کوئی مثبت تعلق نہیں بن رہا ۔ چاند نیپچون سے( جو ایم سی یعنی وتدالسما کے قریب ہے) تثلیث کی نظر بنا رہا ہے جو حقائق سے فرار اور خیالی دنیا میں رہنے کی رغبت کا اظہار ہے۔
بیان کردہ نکات کو اس بات سے بھی تقویت ملتی ہے کہ مریخ جو کہ حقیقی دنیا میں حرکت و عمل کا سیارہ ہے ساتویں گھر برج سرطان میں ہبوط میں ہے ۔
چاند نظرات کے حوالے سے سنگل ٹون یا ہینڈل پیٹرن بھی بنا رہا ہے جو نفسیاتی امراض میں مبتلا افراد کے چارٹ میں عام پایا جاتا ہے ۔
پورا چارٹ ایک ایسے شخص کا آئینہ دار ہے جو بہت ذہین طباع اور اعلی خیالات کا مالک ہے لیکن نفسیاتی و سماجی حوالے سے بہت کمزور ہے ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں