علم نجوم اور اُپائے کا دھندہ
میرا بیٹا کسی دوسرے شہر جا رہا تھا اسے بس ٹرمینل پہ چھوڑ کے گھر واپس آ رہا تھا تو لاہور گلبرگ کے علاقے سے گذر ہوا ۔ ایک مکان پہ بہت بڑا بینر آویزاں تھا جس میں غالبا لوح شرف زہرہ یا اسی قسم کی لوح کے بارے میں معلومات تھیں اور فون نمبر دیا ہوا تھا۔ میرا ذہن اپنے بچپن کے دور میں چلا گیا جب جنتریوں کا عام رواج تھا ، ہر گھر میں پائی جاتی تھیں اور اس میں شائع ہونے والے اشتہارات میں اسی قسم کی نوید سنائی جاتی تھی فلاں وقت فلاں سیارہ شرف میں ہو گا تو اس وقت بنائی جانے والی سونے ، چاندی یا تانبے کی لوح اپنے پاس رکھنے سے آپ کے سب دلدر دور ہوجائیں گے اور حسب خواہش دولت کامیابی اور محبوب آپ کے قدموں میں ہو گا ۔اور ظاہر ہے یہ لوح ایک خاص قسم کے طریقے سے ادارہ ہذا ہی بنا کر آپ کو ارسال کر سکتا ہے جس کے لیئے فلاں پتے اور فون نمبر پر رابطہ کر کے مزید معلومات حاصل کریں ۔یہ معلومات ظاہر ہے ایک گراں قیمت کے علاوہ اور کیا ہو سکتیں تھیں ۔
لیکن وہ تو ستر کی دہائی تھی اور آج دوہزار تئیس میں گلبرگ کے علاقے جہاں تعلیم یافتہ اور خوشحال لوگ رہتے ہیں وہاں اس طرح کا بینر دیکھ کر مجھے اچنبھا نہیں ہوا کیونکہ اب مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ انٹر نیٹ ،اور موبائل فونز ، سوٹ ٹائی ، اعلی یونیورسٹیوں کی ڈگریاں رکھنے اور بڑے عہدے اور مکان کا حامل بھی بھی اتنا ہی توہم پرست ہو سکتا ہے جتنا کہ گاوں کا رہنے ولا ایک ان پڑھ شخص ۔
انسانی شخصیت کی دو بڑی کمزوریاں ہیں جو ابتدائے آفرینش سے آج تک انسان کے ساتھ چلی آ رہی ہیں ایک لالچ اور دوسرا خوف ۔ اور انہیں دو کمزوریوں کے ہاتھوں انسان بے وقوف بنتا ہے ۔ انہیں کو استعمال کر کے سیاسی لیڈر بلکہ ہر قسم کے لیڈر عوام پہ حکومت کرتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں۔ لیکن موضوع کی طرف آنے کے لیئے کچھ پس منظر ضروری ہے۔
ستاروں اور سیاروں کی اہمیت ازمنہ قدیم کے انسان کی عملی زندگی میں بہت زیادہ تھی ۔ رات یا دن کے وقت زمین اور سمندر میں سفر کرتے ہوئے سمت معلوم کرنے کے لیئے ، تعمیرات کے کاموں ، فصلیں بونے ، موسموں کے بدلنے ، دن کے ڈھلنے اور چاندنی اور اماوس کی راتوں کا حساب رکھنے کے لیئے ان کی اہمیت مسلمہ تھی ۔ انہیں ستاروں پہ نظر رکھنے والوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ بعض ستاروں کے طلوع و غروب سے مملکتوں میں بعض اقوام کو عروج اور اور بعض کو زوال ہوتا ہے ۔ اسی طرح آسمان میں سیارگان کی مخصوس فلکی وضع کسی مہا پُرش ( عظیم شخصیت) کے پیدا ہونے کی خبر بھی دیتی ہے ۔ مثلا ایک بائبل کی روایت کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے بعد تین ماگی (دانش مند) مشرق کے ممالک سے آئے اور اپنا اپنا ہدیہ حضرت مریم کی خدمت میں پیش کیا اور اپنے علم سیارگان کی روشنی میں ان کی عظمت کی گواہی دی۔(روایت کے مطابق ان تین ماگیوں میں سے ایک ایران ، دوسرا کیرالہ انڈیا اور تیسرا سوڈان سے آیا تھا) ۔
یوں مملکت اور بادشاہ کی ضروریات کے مطابق علم نجوم کا ستعمال کیا جانے لگا۔ اولاد نرینہ کی پیدائش کا مسئلہ ہو یا نئے بادشاہ کا انتخاب ، قحط ، خشک سالی اور دشمن ملک کے حملے کی قبل از وقت پیشین گوئی کرناہو یا دشمن ملک پر حملہ کرنے ، تاج پوشی کی رسم کے شبھ گھڑی کا انتخاب سب نجومیوں کی ذمہ داری ٹھہری اس طرح شاہی نجومی کی حیثیت تقریبا وزیر اعظم کے برابر تھی۔ بادشاہ بھی نجوم سے بہت دلچسپی لیتے تھے ۔ مثلا اردو میں جام جہاں نما ، ساگر جم اور جام جم ایرانی اساطیرمیں بادشاہ کے شراب کے پیالے کا نام ہے جس میں سیارگان کی علامات بنی ہوتی تھیں جس کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ وہ اس میں ہفت جہاں دیکھ لیتے تھے ۔
علم نجوم کی ابتدا بت پرست اقوام سے ہوئی اور شاہی نجومی عام طور پر مذہبی افراد ہوا کرتے تھے ۔ اُن اقوام میں صرف بتوں کی پوجا ہی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ مظاہر فطرت کی تقریبا تمام ان اقسام کی اشیاء کی پوجا کی جاتی تھی جو انسان کو کوئی فائدہ یا گزند پہنچا سکتی تھیں مثلا آگ ، بیل ،سانپ ، سورج ، چاند، ستارے ، نیک و بد روحیں ، زرخیزی کی علامات مثلا زمین ، مرد و زن کے اعضائے تناسل، آسمان ، آسمانی بجلی اور پانی وغیرہ شامل ہیں ۔ ان مظاہر فطرت کے اپنے اپنے علیحدہ علیحدہ مندر بھی تھے مثلا قدیم مصر میں خدائے رع ( سورج دیوتا) کا مندر جہاں پہ کسی دیوار یا بورڈ پہ سیارگان کی فلکی پوزیشن کو ظاہر کرنے کے لیئے قیمتی پتھروں کا استعمال کیا جاتا تھا ۔ یہ دیوتا اور دیویاں ان اقوام کی نظر میں کوئی جامد اشیاء نہ تھے بلکہ انسانوں کی طرح جیتے جاگتے مافوق الفطرت قوتوں کے مالک تھے جو خوش اور ناراض بھی ہوتے تھے ۔ ان کی خاص شکل ، لباس اور رویہ تھا۔ ان کی خاص پسندیدہ جگہیں تھیں اور رنگ تھے ، وہ کچھ اوقات میں طاقتور اور کچھ میں کمزور ہوتے تھے ان کی آپس میں رشتہ داریاں تھیں ، کوئی کسی کی بیوی تھی تو بیٹا۔ ان کی پوجا کے لیئے کچھ وقت شبھ ہوتے اور کچھ اشبھ۔ انہیں خوش کرنے کے لیئے مخصوص عبادات اور منتر تھے جو مذہبی پیشواوں نے ایجاد کیئے۔ ان دیوتاوں کی بھی کلاسز تھیں ۔ کچھ دیوا( سعد ) تھےاور کچھ راکشش(برے ، بدمعاش)۔ ہوتے ہوتے ان سے منسوبات بھی شروع ہو گئیں مثلا زحل اگر تیل پہ حکمران ہے تو مریخ خون پر۔
ارواح ، دیوتاوں ، سیارگان کے علاوہ بابلی اور مصری مذہبی پیشوا ایک اور کام میں بھی ماہر ہوا کرتے تھے اور وہ تھا جادو۔ جادو کا مقصد دیوتاوں سے اپنی مرضی کا کام کروانا تھا اور انہیں اپنی خواہش کے مطابق بلوانا تھا ۔ جادوئی اشیاء کو اس وقت تیار کیا جاتا تھا جب کوئی سیارہ کسی مخصوص برج میں ہوتا تھا مثلا زخموں کو بھرنے والا سفوف جس میں کاپر سلفیٹ شامل ہوتا تھا اس وقت تیار کیا جاتا تھا جب سورج برج اسد میں ہو ۔محبت کاتعویذہد ہد کے مغز کو چراغ کی بتی میں ملا کر تیار کیا جاتا جس پر منتر نقش ہوتے تھے ۔ اسی طرح ایک اور نقش بنانے کا عمل ایک قدیم کتاب میں یوں مذکور ہے
اسے لازما بدھ کے دن بنانا چاہئیے جو کہ عطارد کا دن ہے ، اسے چاند کے طلوع ہونے کے وقت بنانا چاہیے۔ پہلے مقدس آگ میں بخورات جلاو ، مقدس پانی چھڑکو ، پاک کاغذ پر نقش بناو۔۔۔۔۔۔۔
مصری لوگ پائپرس(کاغذ) یا قیمتی پتھروں پہ لکھے منتر اپنے پاس رکھتے تھے اور یہ عمل بہت عام ہو ہو گیا تھا اس امر پر حیرانی نہیں ہونا چاہئیے کہ مصری جادوگروں کی قوم مشہور تھے ۔ عہد نامہ قدیم میں آیا ہے کہ حضرت موسی بھی ان کے ان علوم سے آگاہ تھے کیونکہ ان کی پرورش انہیں کے درمیان ہوئی تھی ۔
قوم یہود کے ہاں بھی جادو کی روایت موجود ہے جسے قبالہ کہا جاتا ہے ۔ اگرچہ حضرت موسی علیہ سلام اور یہودیوں کے ربائیوں نے جادو پہ کڑی پابندیاں عائد کیں اور جادوگروں کی سزا سنگساری رکھی گئی تاہم جادوئی عمل مقدس نام ( نوری علم) کے نام سے جاری رہے کیونکہ شیطانی کی بجائے ملکوتی قوتوں کے حوالے سے پابندی نہیں تھی ۔ یورپ میں بھی ازمنہ وسطی تک کالا جادو پر پابندی رہی لیکن اچھا جادو جاری رہا ۔
یوں علم نجوم جب بابل مصر ، ایران ، ہندوستان سے ہوتا ہوا زمانہ جدید میں پہنچا ہے تو اس وقت یہ ارواح ، سیارگان کی پوجا، اور جادو کی دھند میں لپٹا ہوا ہے ۔ زمانہ جدید کی روشنی میں اگرچہ یہ دھند چھٹ جانا چاہئیے تھی ( جو کہ مغرب میں کسی حد تک چھٹ چکی ہے کیونکہ ان کی تہذیب سائنسی انداز فکر اپنا چکی ہے) لیکن ہمارے ہاں نجوم کو تاریک کوٹھڑیوں میں بند ٹونے ٹوٹکے کرنے والے عاملوں کا دھندا سمجھا جاتا ہے ۔
کوئی بھی علم انسانی جو مسئلے کی نشاندہی تو کر دے لیکن مسئلے کو حل کرنے کا علاج نہ بتائے تو وہ علم بے کار ہو جاتا ہے ۔ ہندی نجوم کے ماہرین نے بھی مسائل کے حل کے لیئے اُپائے تجویز کیئے جو شروع میں تو محدود تھے لیکن زمانہ جدید میں باقاعدہ ایک انڈسٹری کا درجہ اختیار کر چکے ہی۔ یہ اُپائے انہوں نے اپنی تہذیب اور مذہبی فلسفے کو مد نظر رکھتے ہوئے ایجاد کیئے تھے جو مسلمانوں جیسے وحدانیت پرستوں کے لیئے ہرگز موزوں نہیں ہیں لیکن انسانی فطرت تن آسانی کی طرف مائل ہوتی ہے چناچہ مسئلے کے حل کے لیئے اپنی ذات و اعمال کا محاسبہ کرنے یا تھریپی سیشن لینے ، مطالعہ کرنے اور اپنے معروضی حالات بدلنے کے لیئے جدو جہد کی بجائے ، نقش پہننے ، چیلوں کویا قبرستان میں گوشت پھینکنے اور انگوٹھی میں سفید موتی پہننا پسند کرتا ہے ۔
جم سٹونز ( قیمتی پتھر)
نام نہاد نجومی چارٹ میں کسی سیارے کی کمزوری کے اُپائے کے طور پر فرد کو کوئی قیمتی پتھر پہننے کا مشورہ بھی دیتے ہیں اور اسے آسٹرولوجیکل علاج معالجے میں ایک بے ضرر اور محفوظ طریقہ سمجھا جاتا ہے ۔عام افراد کو بھی اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی ۔ آئے دیکھتے ہیں کہ پتھروں کے خواص و سحری اثرات کے نظریہ و فلسفہ کے دھارے کہاں سے پھوٹتے ہیں ۔
زمانہ قدیم میں قیمتی پتھر جیسے ہیرے جواہرات کی کان کنی مشکل کام تھا اور انڈیا وہ واحد خطہ تھا جہاں یہ بہت کم گہرائی حتی کہ گولکنڈہ کے علاقے میں ندی نالوں میں بھی مل جاتے تھے ۔ تقریبا دو ہزار قبل مسیح میں انڈین ہیرے پالشنگ کے کام میں قدیم مصر میں استعمال ہوتے تھے اور پانچ سو سال قبل مسیح میں چین اور مشرق وسطی میں انہیں صنعتوں میں ریگ مال کے طور استعمال کیا جاتا تھا ۔ہیروں کی کنیاں چین مین تانگ شاہی خاندان سے لے کر یونانانیوں کے زیر قبضہ افغانستان اور قیصرروم جولیس سیزر کی مملکت کی اشرافیہ کی انگوٹھیوں میں استعمال ہو رہی تھیں ۔
تاہم انڈیا میں انہیں محض قیمتی پتھر نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ وہ سعد اثرات کے حامل تھے جو سیارگان کی توانائی کو منعطف کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے ۔ہندووں کی مقدس کتاب ، گروڑ پُران( پرانوں کا درجہ ویدوں کے بعد آتا ہے اور کُل اٹھارہ بڑے اور اٹھارہ ہی چھوٹے پُران ہیں ۔وید خواص اور برہمن ہی سمجھ سکتے تھے جبکہ پُران عام فہم تھے اور عوام میں مقبول تھے)، کے مطابق جب راکششوں کے سردار ، بالا، کو دیوتاوں کے سردار اندرا نے شکست دی تو بالا کائنات کے مفاد کی خاطر اپنی قربانی دینے پہ راضی ہو گیا ۔ قربانی کے نتیجے میں اس کے جسم سے بہنے والا خون اور اعضاء فضائے بسیط میں جب جواہرات کا بیج بن کر بکھرے تو آسمانی مخلوقات بشمول ناگ دیوتا انہیں اپنے استعمال کے لیئے حاصل کرنے کے لیئے دوڑ پڑے حتی کہ کچھ دیوتا تو اپنے رتھ پر سوار ہو کر بھی آئے۔ زور ہوا کا جھکڑ چلا تو ان کے ہاتھ سے کچھ بیج چھوٹ کر زمین پر دریاوں،سمندروں اور پہاڑوں اور ویرانوں میں گر پڑے۔ان جواہرات سے جادوئی خصوصیات منسوب ہیں ۔کچھ حامل کو تمام گناہوں سے مُکتی دیتے ہیں تو کچھ زہر اور سانپ کے کاٹے کا تریاق ہیں اور کچھ نحس ہیں ۔ لیکن سب قیمتی ہیرا جس میں دیوتا رہتے ہیں وہ ہوتا ہے جو اپنی ساخت میں بے عیب اور کسی قسم کی خراش یا جالے سے پاک ہو ۔ اس طرح کا پتھر ، خوشحالی، طویل عمری ، زیادہ بیویاں بچے ، مویشیوں کے ریوڑ اور زیادہ اجناس کا ضامن ہوتا ہے ۔گروڑ پُران کے مطابق اس کے پہننے والے پر دشمنوں کے دیے جانے والے زہر کا اثر نہیں ہوتا اور اس کی املاک آگ اور پانی کے نقصان سے محفوظ رہتی ہیں ۔ اس شخص کا رنگ دمک اٹھتا ہے اور اس کے ہر کام میں بڑھوتری ہوتی ہے اور چور دور بھاگتے ہیں ۔
لیکن گروڑ پُران کے تقریبا سو سال بعد بعد لکھے جانے والے بھگوت پُران اور ویشنو پُران اس کے برعکس ہیروں سے نحوست کوبھی جوڑتے ہیں ۔
انڈیا کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی پتھروں سے سحری ، طبی اور الوہی خصوصیات منسوب کی جاتی تھیں ۔ قدیم مصریوں کے ہاں بھی قیمتی پتھروں کو نیک طاقتور ارواح کا مسکن خیال کیا جاتا تھا اور سیارگان سے منسوب ہونے کا نظریہ پہلے ہی موجود تھا ۔ ان کے ہاں یہ عقیدہ موجود تھا کہ ذہنی و جسمانی بیماری جسم میں بدروحوں کے داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہے اس لیئے ان پتھروں کو بطور تعویذ گلے یا جسم کے دوسرے حصوں پہ پہنا جاتا تھا تاکہ پتھروں میں موجود نیک ارواح بری روحوں کو جسم میں داخل ہونے سے روک سکیں اور بری نظر کو بھی پلٹ سکیں۔630 قبل مسیح کے مصری فرعون نیفوسس کے گلے میں سبز سنگ یشب (جیسپر) کا بنا ہوا سانپ تھا جسے پیٹ پر پھیرنے سے نظام ہضم کی شکایات دور ہو جاتی تھیں ۔اسی طرح یاقوت (روبی) کو طاعون سے محفوظ رہنے کے لیئے پہنا جاتا تھا اور برے خیالات ، ڈپریشن وغیرہ کے لیئے مفید مانا جاتا تھا ۔ یہ عقیدہ بھی تھا کہ برا وقت آنے کی صورت میں یہ پتھر ٹوٹ کر وہ نحوست اپنے سر لے لیا کرتا تھا ۔اسی طرح کے خواص دوسرے قیمتی پتھروں سے بھی منسوب کیئے جاتے تھے
تو بنیادی فکر یہی ہے کہ جم سٹونز میں دیوتا رہتے ہیں اور انہیں پہن کر آپ کو دیوتاوں کی مدد حاصل ہو جائے گی۔
الواح ، نقوش و طلسم
چونکہ بات یہاں جم سٹونز پہ ختم نہیں ہوتی اس لیئے آگے چلنے سے پیشتر پہلے پاکستان کے ایک محترم مشہور ،اور بزرگ نجومی کا بیان ذیل میں نقل کرتا ہوں جو علم نجوم پر کئی کتب کے مصنف ہیں ۔
"ایسٹرولوجیکل علاج معالجے میں پتھروں کا استعمال ایک محفوظ اور مفید طریقہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ قیمتی پتھر محض کمزور سیارگان کو تقویت پہنچانے کے ہی اہل ہوتے ہیں، ان کے ناقص اثرات کو زائل نہیں کر سکتے،اس کام کے لیے مخصوص الواح و نقوش پر ہی انحصار کرنا پڑے گا لہذا انہیں اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب پیدائشی زائچے میں مطلوبہ پتھر سے متعلق سیارہ عارضی یا دائمی نحس اثرات رکھتا ہو"
سادہ الفاظ میں وہ جم سٹونز کو کم اور نقوش و الواح کو اپائے کا اعلی درجہ قرار دے رہے ہیں ۔ دوسرا،اس بیان میں وہ ایک ہلکے سے ماسٹر سٹروک کی مددسے علم نجوم کی حدوں میں سحر اور جادو کو گھسیٹ لائے ہیں کیونکہ پاکستان میں عمومی طور پہ نجوم کو فرنٹ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے پیچھے اصل دھندہ عملیات کا چلتا ہے اور اسی سے ان کی اصل اور بڑی آمدن ہوتی ہے ۔ اس کج رویے کی وجہ سے عوام و خواص کی نظر میں ایک جدید ماہر نجوم اور بابا عامل بنگالی میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا وہ دونوں کی ایک ہی درجے پہ رکھتے اور دیکھتے ہیں ۔ علم نجوم جیسے سائنسی علم جس کی بنیاد میتھیمیٹکس پہ ہے اس کے ساتھ یہ سلوک مغرب میں تو علمی ترقی اور قانونی بندشوں کی وجہ سے بند ہو چکا ہے البتہ ہمارے ہاں زور شور سے جاری و ساری ہے ۔ اسی مجموعی تاثر کی وجہ سے ہمارے معاشرے کے اعلی تعلیم یافتہ سرکاری افسر ، بینکر، ججز اور اور شعبہ تعلیم کے اساتذہ وغیرہ اگرچہ نجوم سے بطور شعبہ علم شغف تو رکھتے ہیں لیکن دوسروں کے سامنے اس کا اظہار نہیں کرتے کیونکہ اس سے ان کی سبکی ہوتی ہے۔
ہمارے ہاں الواح عام طور کسی دھات سے اور گول دائرہ نما بنائی جاتی ہیں ۔زمانہ قدیم سے جادوئ رسومات میں جادوئی دائرے اہم کردار ادا کرتے ہیں انہیں بری ارواح سے تحفظ کے لیئے بنایا جاتا تھا تاکہ جادوگر عمل کے دوران شر سے محفوظ رہے ۔ ہمارے ہاں بھی عامل روحوں کو بلانے کا عمل پڑھنے سے پہلے لوہے کے بنے ہوئے چاقو سے حصار کھنچتے ہیں اور یہ عمل کرنے کا وقت ستاروں کا حساب کر کے کیا جاتا تھا۔ عاملوں کے ہاں یہ عقیدہ ہے کہ اگر حصار نہ بنایا جائے تو عامل کی موت بھی ہو سکتی ہے ۔ جادوئی دائرے کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور امکان یہی ہے کہ اس سے بھی پرانے زمانے سے استعمال کیا جا رہا ہے ۔اس کی ابتدا کے زمانے کا کسی کو علم نہیں ہے تاہم اس کے حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ اپنی دم پکڑے ہوئے سانپ کی علامت سے اسے اخذ کیا گیا ہے ۔ شامی جادوگر اپنے اردگرد چونے سے حصار بناتے تھے اور اس کے اندر زمین پر دیوتا کے سامنے سات مختلف ارواح کی علامات بناتے تھے ۔ اسی طرح قدیم ہندو جادوگر بھی اپنے ارد گرد سرخ سیسے یا سیاہ کنکریوں کا دائرہ بناتے تھے۔ دھات کو پُر اثر مانا جاتا تھا اسی لیئے ہمارے ہاں دیہات میں ہاں زچہ کے سرہانے چاقو یا چھری رکھی جاتی ہے تاکہ بری ارواح بچے کے قریب نہ آ سکیں کیونکہ عقیدے کے مطابق دھات سے روحیں ڈرتی ہیں۔
الواح پر مختلف حروف اور نشانات کندہ کیئے جاتے ہیں جن کے ڈانڈے طلسم سے جا کے ملتے ہیں ۔طلسم بھی ایسی اشیاء تھیں جن پہ جادوئی اعداد ، حروف اور شبہیں بنی ہوتی تھی لوگ خطرات اور بری ارواح سے بچنے کے لیئے انہیں اپنے پاس رکھا کرتے تھے ۔ قدیم عربوں کے پاس بچھو کے نشان والے طلسم ہوتے تھے جن سے وہ زہریلے کیڑوں کے کاٹے کا علاج کرتے تھے ۔ اپولونیئس نے سارس کا طلسم بنوایا تھا تاکہ قسطنطنیہ کو نقصان دہ پرندوں سے محفوظ رکھا جا سکے اسی طرح اس طرح ترکی کے شہر انطاکیہ کے باہر ایک طلسم بنوایا تھا جس کا مقصد زہریلی مکھیوں اور مچھروں کو شہر سے باہر رکھنا تھا ۔ برج حوت کے تحت بنوائے گئے طلسموں کو لاطینی اپنے بحری جہازوں کے تحفظ کے لیئے رکھتے تھے ۔طلسم صرف حادثات کو ٹالنے کے لیئے استعمال نہیں ہوتے تھے بلکہ خوش قسمتی کے حصول کے لیئے بھی استعمال ہوتے تھے عیسائیوں نے انہیں قدیم روایات پر عمل کرتے ہوئے اپنے ظروف پر اولیاء کی شبہیں نقش کرنا شروع کیں ۔ خلافت بغداد کے زمانے میں بغداد شہر کے ایک دروازے کا نام باب طلسم بھی تھا جس پر دو گندھے ہوئے سانپوں کی شبیہ تھی جس کے اندر ستارے بنے تھے اور جو ایک نشست پر بیٹھےانسان کے ہاتھ میں تھے جس سے مراد خلیفہ لیا جاتا تھا اس طلسم کو شہر کی حفاظت کے لیئے بنایا گیا تھا ۔ پہلی جنگ عظیم میں عثمانی فوجوں نے اس دروازے کو گرا دیا تاکہ برطانوی افواج اسے گودام کے طور پر استعمال نہ کرسکیں۔
طلسموں کی تیاری کے جو طریقے بتائے گئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے مشرق وسطی میں جادوگری پر علم نجوم کا اثر گہرا تھا اور ان طلسموں پر انسانی نہیں بلکہ افلاکی شبہیں بنی ہوتی تھیں جو عام پر دیوتا مریخ اور مشتری سے متعلق ہوتی تھیں ۔ہر سیارے کی ایک مخصوص لوح ہوتی تھی اور ان الواح سے مختلف اثرات منسوب ہوتے تھے ۔ زحل کی لوح پر ایک مربع بنا ہوتا تھا اس مربع کے نو خانے ہوتے تھے جن میں یہ اعدد لکھے جاتے تھے ،4،9،2،3،5،7،8،1،6۔ اسے سیسے کی تختی پر بنایا جاتا تھا۔
زہرہ کی لوح کو چاندی سے بنایا جاتا تھا اسے پہنے والے یقین رکھتے تھے کہ وہ اس کے اثر سے محبت میں کامیاب ہو جائیں گے نیز ان کا عقیدہ تھا کہ وہ جادو کے اثرات سے محفوظ رہیں گے ۔ اسی طرح مریخ کی لوح کو لوہے پر بنایا جاتا تھا یا تلواروں پہ کندہ کیا جاتا تھا تاکہ میدان جنگ میں دشمنوں کے خلاف کام آ سکے۔
نجومی نما عاملوں کی ایک قسم وہ ہے جو جوتش کتب اپائے لیتے ہیں اوراس کی لبیں داڑھی تراش کے مسلمان کر کے قارئین کی خدمت میں آزمایا ہوا نسخہ اور سینے کے راز کہ کر پیش کرتے ہیں جس سے عوام میں ان کے ہاتھ میں تاثیر ہونے کی شہرت ہوتی ہے۔مثلا ذیل میں دیکھئے اسی گروپ کے ایک ممبر کی تحریر جو واوین میں ہے
"زحل کی ریمیڈی کے طور پر سرسوں کا تیل پانچ پاؤ لیں اور اکتالیس دن مسلسل کچی زمین پر دن میں کسی بھی وقت ڈالتے رہیں اس سے زحل کے بد اثرات میں بہت حد تک کمی آئے گی انشاءاللہ ۔
ایک اور خصوصی ریمیڈی جو ہمارے ایک دوست کی عطا کردہ ھے جو کہ زحل کی نحوست کی وجہ سے رکے ھوئے کاموں کو سر انجام دینے کیلئے بہت ہی کارگر ثابت ہوتی ہے میں نے خود اس کا کئی بار تجربہ کیا اور سو فیصد درست پایا۔اب کرنا یہ ھے کہ کالے ماش نو سو گرام لے کر صاف بہتے پانی کی طرف چلیں اور کسی بھی دریا نہر یا نالے پر جا کر ان کالے ماش میں سے ایک مٹھی بھر کر اپنے سر سے وار کر پانی میں ڈالتے جائیں اسی طرح تمام کالے ماش مٹھی بھر بھر کر وار کہ پانی میں ڈالیں حتی کہ سارے ماش بہا دیں اور ایک بات جس کام یا مقصد کے لیے آپ ماش بہا رہے ہیں اس کا تصور بھی رکھیں تو سونے پر سہاگے کا کام کرے گا انشاءاللہ زحل کی ریمیڈی ہفتہ والے دن ہی کریں"
اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو سادہ الفاظ میں تقریبا اکیاون کلو تیل زمین میں بہا رہے ہیں جس کی قیمت تقریبا بیس ہزار روپے بنتی ہے۔ کیا یہ وہی پوجانہیں جو ہندو شنی دیوتا کے مندر میں ہفتہ کے دن تیل و دیگر اجناس بھینٹ کر کے کرتے ہیں ؟ اسی طرح سیاہ رنگ ، کپڑے ، دالیں اور سیاہ تل وغیرہ بھی شنی کی منسوبات ہیں ۔یوں ایک توحید پرست مسلمان کو دیوتاوں کے حضور نذر پیش کروا کے وحدانیت کے دائرے سے باہر دھکیل دیتے ہیں اور آکر میں انشااللہ بھی کہتے ہیں ۔
مشتری کی ریمیڈیز کے باب آپ میں فرماتے ہیں
"نمبر ایک کہ آپ جمعرات کو زردہ چاول بنائیں اور مسجد میں ظہر کے وقت امام مسجد اور نمازیوں کو کھلائیں اور جمعرات کے دن پہلی ساعت میں گھر میں کیلے کا پودا لگائیں جمعرات کو اپنی جیب میں ثابت ھلدی کا ٹکڑا رکھ لیں پیتل کی انگوٹھی میں کوئی بھی پیلے کلر کا نگینہ جڑواکر جمعرات کو پہلی ساعت میں اپنی شہادت والی انگلی میں پہن لیں یا سادہ پیتل کی انگوٹھی بغیر کسی نگینہ بھی پہن سکتے ہیں قدرتی پیلے رنگ کی چیزوں کا صدقہ جمعرات کو دیں اور ایک ایسا درخت ڈھونڈیں جو عمر رسیدہ ھو اور اس پر پرندے زیادہ بیٹھتے ھوں ایسے درخت کے نیچے بیٹھیں اور پرندوں کو دال چنا گندم دال ماش وغیرہ ڈالیں اور زیادہ سے زیادہ وقت وھاں پر بیٹھیں۔ مرد حضرات جمعرات والے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کریں اور نماز کے فوراً بعد امام صاحب سے اپنے لیے دعا کا کہیں جمعرات والے دن آپ لوگ امام مسجد کو یا کسی بھی مدرسے میں پڑھانے والے استاد کو پیلے رنگ کے کپڑے یا قدرتی پیلے رنگ کی چیزیں ہدیہ کر سکتے ہیں
مرد حضرات جمعرات والے دن صبح کی نماز باجماعت ادا کریں اور نماز کے فوراً بعد امام صاحب سے اپنے لیے دعا کا کہیں جمعرات والے دن آپ لوگ امام مسجد کو یا کسی بھی مدرسے میں پڑھانے والے استاد کو پیلے رنگ کے کپڑے یا قدرتی پیلے رنگ کی چیزیں ہدیہ کر سکتے ہیں"
آپ نوٹ کریں کہ ا س ریمیڈی میں اگرچہ ڈکشن مسلمانوں والی ہے لیکن اس میں زرد رنگ کی ان اشیاء کی کی بھرمار ہے جو مشتری سے منسوب ہیں۔ کیلے کا پودا بھی مشتری سے منسوب ہندومت میں مقدس مانا جاتا ہے جس کی پوجا جمعرات کے دن کی جاتی ہے ۔برہمن کو امام صاحب سے اگرچہ بدل دیا گیا ہے لیکن چونکہ عامل ہیں تو یہ معلوم نہ کر پائے کہ پیلے رنگ کے کپڑے امام صاحب یا کوئی بھی مسلمان مذہبی شخصیت قبول نہیں کر سکتی کہ اس کہ اس کے بارے میں واضح حدیث موجود ہے جو مسلمانوں کو بُت پرست اقوام سے منسوب مذہبی رنگوں کے کپڑے پہننے سے منع کرتی ہے اور پیلا رنگ ہندو مذہب کا رنگ ہے ۔ ریمیڈی کی بقیہ اشیاء و افعال کا مقصد بھی مشتری دیوتا کو خوش کرنا ہے تاکہ وہ راضی ہو کر اپنی نظر کرم کرے۔
حیرت تو اس وقت ہوتی ہے کہ جن اصحاب کے نام سے پہلے حافظ ، پیر ، مولانا اور آخر میں قادری ، چشتی لگا وغیرہ ہوتا ہے اور ان کی ڈی پی بھی کسی مقدس مذہبی مقام یا اپنی مذہبی حلیے والی تصویر ہوتی ہے وہ راہو کی کاٹ کا دعوی بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں ۔ یوں جیسے راہو کوئی کالا جادو ہے جس کی کاٹ ضروری ہے ۔ دورے لفطوں میں وہ بھی ان سیارگان کو اچھے یا بُرے دیوتا یا قوتیں تسلیم کر رہے ہوتے ہیں ۔ وہ خود تو جاہل ہوتے ہی ہیں عوام کو بھی جہالت کی راہ پہ چلنے کی نہ صرف ترغیب دے رہے ہوتے ہیں بلکہ رقم بھی بٹور رہے ہوتے ہیں۔
ایک خاتون نے ان باکس میں پوچھا ہے کہ ان الواح ، جم سٹونز ، نقش یا اپائے کا کوئی فائدہ ہوتا بھی ہے یا نہیں ہے ۔تو عرض یہ ہے کہ سب سے پہلا فائدہ تو ان اشیاء کے بیچنے والی کمپنی کا ہوتا ہے کہ ان کی کومپنی کی مشہوری اور پراڈکٹ کی سیلز ہو رہی ہوتی ۔ آپ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ زندگی کی مشکلات کا عملی حل نکالنے کی تدبیر اور اقدامات کرنے کا کشٹ اٹھانے کی بجائے نقش، جم سٹون یا لوح گلے میں پہن کر بے فکر ہو کر پھرتے رہتے ہیں اورکچھ عرصے بعد زیادہ تکلیف میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ مثلا زہرہ اگر نیچ میں یا محترق ہے تو اس بات کا اشارہ ہے کہ حامل کو گلے ،تھائی رائیڈ ، گردے اور تولیدی اعضا کے امراض سے متعلق میڈیکل ٹیسٹ اور آگاہ رہنے کی ضرورت ہے تاکہ بیماری اگر نمودار ہو تو ابتدا ہی سے کم خرچ میں اس کا مناسب علاج کرا لیا جائے۔ لیکن اگر حامل اگر جم سٹونز یا کچھ اور پہن کر پھرتا رہے گا تو اس وقت ہوش آئے گا جب لاکھوں روپے کی سرجری کروانے کی ضرورت پیش آئے گی ۔
نجوم تخمینے کا علم ہے اسی طرح کا تخمینہ جو کوئی ماہر دست شناس یا ماہر نفسیات بھی اپنے علم کی مدد سے کسی فرد کے مستقبل کے بارے کرتا ہے ۔ فرق یہ ہے کہ نجوم ہزاروں سالوں قبل وجود میں آنے کی وجہ سے کافی زیادہ حد تک درست پیشین گوئی کرنے کے قابل ہے ۔ ہو سکتا ہے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کل کلاں نجوم کو پیچھے چھوڑ دے بلکہ ابھی سے بگ ڈیٹا کی مدد سے کسی بھی فرد کی شخصیت کا درست تجزیہ کرنے کے قابل ہے اسی طرح نجوم میں زائچے کے تجزیئے کا کام بھی اے آئی نے کافی حد تک سنبھال لیا ہے ۔ ہو سکتا ہے ہمارے عامل حضرات کلاں کلاں اے آئی کو راضی یا کاٹ کرنے کے لیئے تیل چڑھانے کا اُپائے اپنے سینے سے نکال کر بیچنا شروع کر دیں۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں