نجومی بننے کی صلاحیت
کسی فرد میں آسٹرالوجر بننے کی صلاحیت ہے یا نہیں اس سلسلے میں کچھ نکات انڈین آسٹرالوجر سندرا راجن کے ایک انگریزی مضمون سے لیئے گئے ہیں جو 1967 میں چھپا۔
اگر سوریا راشی کنڈلی میں برج جوزا میں ہو تو حامل نجومی ہو گا ۔ برہت جٹاکا ادھیائے 18 اشلوکا 2۔
اسی کتاب میں آگے چل کے بیان ہے کہ اگر چندرماں برج اسد میں ہو جس پر عطارد کی نظر بھی ہو تو سائل نجومی ہو گا ۔ادھیائے 19 اشلوکا 2
پھر کہا گیا کہ اگر چندرماں برج سرطان میں ہو تو سائل علم نجوم کا حامل ہو گا ۔ ادھیائے 17 اشلوکا 4۔
پھل دیپکا میں منتریشورا لکھتا ہے اگر دسویں گھر کا حاکم ایسے برج میں ہے جس کا حاکم عطارد ہے تو حامل اپنی روزی ستاروں کے علم سے کمائے گا ۔ ادھیائے 5 اشلوکا 5۔
حکیم گرگا نے ہورا شاستر میں لکھا کہ اگر چندرماں ، شکر اور شنی پانچویں گھر میں ہوں تو فرد کو جیوتش کا علم ہو گا ۔
اگرلگن کا حاکم تیسرے گھر میں ہو ایسا جوتشی مشہور ہو گا ۔
ستیا اچاریہ اپنی کتاب ستیاچرم میں لکھتا ہے اگر پانچویں کا حاکم دوسرے گھر میں سعد یوگ بنا رہا ہو تو حامل نجومی ہو گا اور اس کی پیشین گوئیاں درست ثابت ہوں گی اور اسے دولت نعمت کے طور پر عطا ہو گی۔ دسویں گھر کے امور بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ عطارد انسان کو جوتش کے علم کے ذریعے روزی کمانے کا موقع دیتا ہے۔
ایک اور تامل صحیفہ ویماکوی جو ناڑی کے علم پر مشتمل ہے بیان کرتا ہے کہ اگر چوتھے کا حاکم نحس ہے اور ترکون استھان میں ہے ، اگر دوسرے ، آٹھویں اور بارہویں گروں کے حاکمان اور عطارد مل بیٹھیں یا پھر مشتری ان سے مل جائے تو حامل ایک دانشور اور نجومی ہو گا ۔
اسی طرح مشہور تامل صحیفہ جٹاکا چودامنی سیاروں کے چار مختلف امتزاج بیان کرتا ہے
نمبر۔1۔اگر سوریا لگن سے کیندر میں کوئی نحس موجود نہ ہو اور شکر دوسرے گھر عطارد کےساتھ شرف میں ہو تو ایسا شخص ماہر نجومی ہو گا۔
نمبر۔2۔ اگر دوسرے کا مالک کیندر میں عطار کے ساتھ یا اس کی نظر میں ہو اور مشتری اپنے گھر سے نظر ڈال رہا ہو اور ماہ کامل شنی سے یکت ہو تو ایسا شخص قابل نجومی ہو گا۔
نمبر-3-اگر مشتری کیندر یا ترکون میں ہو اور لگن کا حاکم نہ صرف شرف میں ہو بلکہ دوسرے کے حاکم یا بدھ سے یکت ہو تو حامل نجومی ہونے کے علاوہ نجوم پر کتب بھی تصنیف کرے گا ۔
نمبر-4- اگر دوسرے کا حاکم سوریا ،یا منگل ہو اور اس پر مشتری یا شکر کی نظر ہو تو حامل نجوم سے اچھی آگاہی رکھتا ہو گا۔ اگر دوسرے کا حاکم مشتری ہے یا شکر ہو اور شرف میں ہو جس پر سوریا یا منگل کی نظر ہو تو ایسا شخص مذہبی کتب لکھے گا۔
شمبھوناتھ اپنی کتاب شمبھوناڑی میں لکھتا ہے ، اگر عطارد برج سنبلہ میں ہو تو ایسا شخص شاعر اور نجومی ہو گا ۔
خلاصہ۔
بیان کیئے گئے اشلوک میں عطارد کو سب سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے اور اس بعد چندرماں، شکر اور مشتری کو ۔ سوریا سب سے آخر آتا ہے۔
خانہ دوم کی اہمیت سب سے زیادہ اور پنجم کی اس کے بعد ہے ۔ ستیا اچاریہ البتہ خانہ سوم اور چہارم کو اہمیت دیتا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں